نیب کی فائل میں فی الحال C&W، اکاؤنٹس، AG آفس اور بینکنگ سیکٹر ٹاپ پر ہیں، مگر بڑی گرفتاریاں۔۔۔۔ مسعود حسین جعفری

نیب اس وقت خاص طور پر دو بڑے اسکینڈلز پر ایکٹیو ہے اور گرفتاریوں کا عندیہ دیا جا چکا ہے۔خیبرپختونخواہ کوہستان 40 ارب روپے اسکینڈل یہ اب تک KP کی تاریخ کا سب سے بڑا کیس ہے۔ نیب ماسٹر مائنڈ C&W ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ کلرک قیصر اقبال کو اہلیہ سمیت گرفتار کر چکا ہے۔ اس نیٹ ورک میں محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس C&W، ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفس، اے جی آفس اور نیشنل بینک کے افسران، بینکرز اور ٹھیکیدار شامل ہیں۔ اب تک 8 اہم ملزمان پکڑے گئے ہیں جن میں ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر، اے جی آفس کا آڈیٹر، بینک منیجر اور کنٹریکٹرز شامل ہیں۔ نیب کہہ چکا کہ بااثر اور اہم شخصیات کی گرفتاریاں متوقع ہیں۔سندھ روشن سندھ سولر پروگرام نیب کو 5 ارب روپے سے زائد کی مبینہ کرپشن کے شواہد ملے ہیں۔ جعلی امپورٹ ڈیکلیریشن اور اوورانوائسنگ سے خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔ پراجیکٹ ذمہ داران محفوظ قاضی، مدثر قاضی، جعفر خواجہ اور عون خواجہ کو طلب کیا گیا ہے اور کیس میں مزید اہم شخصیات کے ملوث ہونے کے شواہد ہیں۔ گرفتاریوں کا امکان ہے۔ فی الحال نشانے پر C&W کے افسران و کلرکس، ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس، AG آفس کے آڈیٹرز، بینک منیجرز اور بڑے ٹھیکیدار۔ نیب ذرائع خود کہہ رہے ہیں کہ یہ نیٹ ورک محکمانہ افسران سے بھی اوپر تک پھیلا ہے اور سینئر افسران کی ملی بھگت شامل تھی۔ اس لیے اگلی گرفتاریاں اعلیٰ بیوروکریسی یا سیاسی سرپرستی کرنے والوں کی ہو سکتی ہیں۔ نیب کی فائل میں فی الحال C&W، اکاؤنٹس، AG آفس اور بینکنگ سیکٹر ٹاپ پر ہیں، مگر “بڑی گرفتاریاں” کا مطلب ہے کہ تار اوپر تک جاتی ہے۔

عاصم منیر ایرانی صدر، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور وزیر خارجہ ملاقاتیں! مسعود حسین جعفری

اس پر کافی چرچا ہو رہی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے 16-17 اپریل 2026 کو ایران کا دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد قالیباف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقاتیں کیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ “امریکا کا نمائندہ” بن کر گئے؟ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دورہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ثالثی کی کوششوں کا حصہ ہے۔ یعنی پاکستان باضابطہ طور پر ثالثی/مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس سے پہلے جون 2025 میں عاصم منیر کی ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی تھی جس میں ایران-اسرائیل تنازع پر تفصیل سے بات ہوئی۔ امریکا نے بھی پاکستان کو ایران-اسرائیل کشیدہ صورت حال میں مددگار سمجھنا شروع کیا تھا۔ تو کیا یہ ٹرمپ کی چال ہے؟   ابھی تک کی سرکاری پوزیشن یہ ہے۔پاکستان کا مؤقف ہے کہ ہم ثالث ہیں، کسی کے نمائندے نہیں۔  آئی ایس پی آر نے واضح کہا کہ یہ ثالثی کی کوششوں کا حصہ ہے۔ عباس عراقچی نے بھی مذاکراتی عمل کی میزبانی پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ کچھ حلقے اسے امریکا-ایران بیک چینل ڈپلومیسی کا حصہ سمجھتے ہیں کیونکہ امریکا اور ایران کے براہ راست تعلقات نہیں۔ پاکستان دونوں سے تعلق رکھتا ہے، اس لیے “میسنجر” کا کردار فطری ہے۔ اسے نمائندہ کہنا درست نہیں، سہولت کار زیادہ مناسب لفظ ہے۔ اس ملاقات کو ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے پر پیش رفت اور باہمی رضا مندی کے حوالے سے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے یعنی بات چیت آگے بڑھ رہی ہے۔ عاصم منیر ایران امریکا کی طرف سے “نمائندہ” بن کر نہیں بلکہ پاکستان کی طرف سے “ثالث” بن کر گئے ہیں۔ البتہ ٹرمپ سے پہلے ہوئی ملاقات اور ایران-اسرائیل پر ڈسکشن کی وجہ سے یہ تاثر بنا کہ امریکا بھی اس چینل کو استعمال کر رہا ہے۔

100 ارب ڈالر کی منتقلی کوئی ایک دن کا کام نہیں، مسعود حسین جعفری

جی ہاں، 15 اپریل 2026 کو وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کراچی میں FPCCI کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا تھا کہ پچھلے 3 سے 4 سال میں تقریباً 100 ارب ڈالر پاکستان سے باہر منتقل ہوئے ہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ یرون ملک جانے والا پیسہ کس طریقے سے گیا اس کے لیے ایک دو بندوں کو کراچی سے اٹھانے کی ضرورت ہے جس کے بعد سب پتہ چل جائے گا اور تاجروں سے اپیل کی کہ بجٹ سے پہلے کم از کم 10 ارب ڈالر واپس لے آئیں۔سوال یہ ہے کہ حساس اداروں کی موجودگی میں ایسا کیسے ممکن ہوا؟ یہ سوال پاکستان میں اکثر اٹھتا ہے۔ 100 ارب ڈالر کی منتقلی کوئی ایک دن کا کام نہیں۔ وزیر داخلہ کے بیان اور ماضی کے کیسز کو دیکھیں تو 3 بڑے راستے سامنے آتے ہیں۔وزیر داخلہ نے خود کہا کہ منی چینجر کے ذریعے رقوم منتقلی کے چھ سات کیسز پکڑے ہیں۔ ہنڈی/حوالہ کا نظام بینکنگ چینل کو بائی پاس کرتا ہے۔ پیسہ فزیکلی باہر نہیں جاتا بلکہ یہاں کسی ایجنٹ کو روپے دیتے ہیں اور باہر ڈالر لے لیتے ہیں۔ یہ نیٹ ورک اتنا پھیلا ہوا ہے کہ اسے 100% مانیٹر کرنا کسی بھی ایجنسی کے لیے ناممکن ہے۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹس کے مطابق پاکستان کی ترسیلات کا بڑا حصہ اب بھی غیر رسمی راستوں سے آتا-جاتا ہے۔ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ انڈر-انوائسنگ اور اوور-انوائسنگ۔ یعنی ایکسپورٹ کو کم دکھانا اور امپورٹ کو زیادہ دکھا کر فرق کا پیسہ باہر رکھ لینا۔ 3 سال میں 100 ارب ڈالر کا مطلب سالانہ 25-30 ارب ڈالر بنتا ہے۔ پاکستان کی کل ایکسپورٹ ہی 30-35 ارب ڈالر سالانہ ہے، اس لیے یہ سارا پیسہ صرف ٹریڈ سے جانا مشکل۔ لیکن یہ ایک بڑا ذریعہ ضرور ہے۔ کسٹمز، FBR اور بینکوں کے پاس ہر انوائس کو ویریفائی کرنے کی صلاحیت محدود ہے۔

اٹھانے والے بندوں کا نیٹ ورک وزیر داخلہ کا “ایک دو بندے اٹھا لو” والا جملہ اس طرف اشارہ ہے کہ چند بڑے فیسلیٹیٹرز/ایکسچینج کمپنیاں/بینکرز پورے نیٹ ورک کو چلاتے ہیں۔FIA اور حساس ادارے جب بھی کریک ڈاؤن کرتے ہیں تو 5-10 بڑے کیسز پکڑے جاتے ہیں، لیکن نیٹ ورک نیا راستہ نکال لیتا ہے۔ وجہ: ڈیمانڈ موجود ہے۔ جب تک ڈالر کی قلت، سیاسی عدم استحکام اور ٹیکس کا خوف رہے گا، لوگ پیسہ باہر بھیجنے کا رسک لیں گے۔ تو ایجنسیاں کر کیا رہی ہیں؟ محسن نقوی نے خود مانا کہ ایک یا دو فیصد لوگوں کی وجہ سے پوری بزنس کمیونٹی کو سزا نہیں دے سکتے۔ یہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ معاشی مجبوری vs قانونی کارروائی سخت کریک ڈاؤن سے بزنس کمیونٹی کا اعتماد ٹوٹتا ہے۔ حکومت کو ڈالر بھی چاہئیں اور سرمایہ کاروں کو ناراض بھی نہیں کرنا۔ثبوت کا مسئلہ ہنڈی کا کوئی کاغذی ریکارڈ نہیں ہوتا۔ “اٹھائے” گئے بندے کے خلاف عدالت میں کیس ثابت کرنا مشکل۔وزیر داخلہ کا حل یہ ہے کہ سزا کے بجائے ترغیب دی جائے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے 20-30% پیسہ واپس لے آئیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بجٹ سے پہلے 20-25 ارب ڈالر واپس لانا ممکن ہے۔ 100 ارب ڈالر ایک انکشاف ہے، آڈٹ شدہ فگر نہیں۔ اتنی بڑی رقم کا جانا بتاتا ہے کہ مسئلہ صرف “چوکیداری” کا نہیں بلکہ ڈیمانڈ، منافع اور اعتماد کا ہے۔ جب تک پاکستان میں سرمایہ رکھنا رسکی لگے گا اور دبئی/لندن میں محفوظ، تب تک ہنڈی والے “ایک دو بندے” نئے آتے رہیں گے، چاہے ایجنسیاں جتنی بھی الرٹ ہوں۔آپ کا اس پر کیا خیال ہے — ترغیب سے پیسہ واپس آئے گا یا سخت کریک ڈاؤن ضروری ہے؟

سندھ حکومت کی کارکردگی

سندھ حکومت کی کارکردگی رپورٹ

کراچی میں کرپشن، ہیلتھ اور ایجوکیشن کی صورتحال

محکمہ تعلیم کے خلاف 841 کرپشن کی شکایات موصول ہوئیں

کراچی (رپورٹ: مسعود حسین جعفری)سندھ حکومت کی کارکردگی رپورٹ: کراچی میں کرپشن، ہیلتھ اور ایجوکیشن کی صورتحال یہ اعداد و شمار سندھ اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کی جنوری 2026 کی بریفنگ اور حالیہ میڈیا رپورٹس پر مبنی ہیں۔کل شکایات*: 2025 میں سندھ بھر کے 22 محکموں کے خلاف 13,603 کرپشن کی شکایات موصول ہوئیں۔2025 میں 536 کیسز اور 328 اوپن انکوائریز پر کام ہوا۔ 24 ایف آئی آرز کی منظوری دی گئی، 15 کیسز بند ہوئے اور 103 کیسز متعلقہ محکموں کو بھیجے گئے۔سب سے زیادہ شکایات ریونیو، بلدیات، پولیس اور تعلیم کے محکمے سر فہرست ہیں۔ڈاکٹر فاروق ستار نے ستمبر 2025 میں کہا کہ سندھ حکومت کی ناکامی اور کرپشن نے کراچی کو “کھنڈر، زخمی اور لاوارث بستی” بنا دیا ہے۔شکایات کی تعداد محکمہ تعلیم کے خلاف 841 کرپشن کی شکایات موصول ہوئیں۔تعلیم کا محکمہ ان 4 محکموں میں شامل ہے جن کے خلاف سب سے زیادہ شکایات ہیں – ریونیو، بلدیات، پولیس، تعلیم
SBCA اور KDA
– SBCA کے خلاف کراچی میں 837 شکایات
– KDA کے خلاف 408 شکایات
انفراسٹرکچر کے مسائل – MQM کا دعویٰ کے فور منصوبہ 14 سال میں 25 ارب سے 150 ارب روپے تک پہنچ گیا، مگر “عوام کو پانی کی ایک بوند بھی نہیں ملی” سڑکیں/انڈر پاس یونیورسٹی روڈ پانی میں ڈوبی، شاہراہ بھٹو زمین بوس، کریم آباد اور ناتھا خان انڈر پاسز تعطل کا شکار ریڈ لائن*: تاخیر اور بدانتظامی کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات جنوری 2026 میں وزیر اینٹی کرپشن سردار محمد بخش مہر کی صدارت میں اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا تمام 22 محکموں کے خلاف شکایات پر سخت اور فوری کارروائی فیلڈ میں ٹریپ اور سرپرائز وزٹس کیے گئے
812 کیسز اینٹی کرپشن عدالت بھیجے گئے۔خلاصہ یہ کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں 13,603 شکایات میں سے صرف 37% حل ہوئیں۔ تعلیم اور ہیلتھ دونوں بڑے محکمے کرپشن شکایات کی لسٹ میں شامل ہیں۔ حکومت NICVD اور مفت علاج کو کامیابی بتاتی ہے، جبکہ اپوزیشن K-4، سڑکوں اور بنیادی سہولیات کی تباہی کو کرپشن اور ناکامی قرار دیتی ہے

The Pakistani military leadership is ready to accept the Abraham Accords. The media has been busy promoting the benefits of the Abraham Accords.

The Abraham Accords, signed in 2020, were agreements between Israel and several Arab countries (the United Arab Emirates, Bahrain, Sudan, and Morocco) to normalize relations.  However, Pakistan has not publicly expressed its willingness to accept or join the Abraham Accords, perhaps due to the public backlash that has been reported. Pakistan’s stance on Israel and the Abraham Accords is stuck between yes and no. That is, there is no formal indication of acceptance. Apparently, even after a few political elements met, Pakistan has not announced any intention to join the Abraham Accords or normalize relations with Israel, but the intentions and statements are not beyond suspicion. While Pakistan traditionally supports Palestinian rights and has not officially recognized Israel so far. While media outlets report on international agreements like the Abraham Accords, there is no clear indication that the Pakistani media is promoting Pakistan’s acceptance of these agreements, while some negative indications have reached us through social media on the basis of which they are being discussed. If we look at the Abraham Accords, in context, such agreements have  The agreements, which marked a change in relations between the two countries, focused on cooperation in areas such as trade and security. They were seen as a development in Middle East diplomacy, although they did not resolve the Israeli-Palestinian conflict. If we try to understand the Abraham Accords, Pakistan’s foreign policy, or related regional issues, such agreements have no status in the light of the teachings of Islam. As for Pakistan, nothing is impossible for the current military leadership. The past, the present, the future are in front of us and whatever is to happen will soon become apparent.

The Pakistani military leadership is ready to accept the Abraham Accords. The media has been busy promoting the benefits of the Abraham Accords.

The Abraham Accords, signed in 2020, were agreements between Israel and several Arab countries (the United Arab Emirates, Bahrain, Sudan, and Morocco) to normalize relations.  However, Pakistan has not publicly expressed its willingness to accept or join the Abraham Accords, perhaps due to the public backlash that has been reported. Pakistan’s stance on Israel and the Abraham Accords is stuck between yes and no. That is, there is no formal indication of acceptance. Apparently, even after a few political elements met, Pakistan has not announced any intention to join the Abraham Accords or normalize relations with Israel, but the intentions and statements are not beyond suspicion. While Pakistan traditionally supports Palestinian rights and has not officially recognized Israel so far. While media outlets report on international agreements like the Abraham Accords, there is no clear indication that the Pakistani media is promoting Pakistan’s acceptance of these agreements, while some negative indications have reached us through social media on the basis of which they are being discussed. If we look at the Abraham Accords, in context, such agreements have  The agreements, which marked a change in relations between the two countries, focused on cooperation in areas such as trade and security. They were seen as a development in Middle East diplomacy, although they did not resolve the Israeli-Palestinian conflict. If we try to understand the Abraham Accords, Pakistan’s foreign policy, or related regional issues, such agreements have no status in the light of the teachings of Islam. As for Pakistan, nothing is impossible for the current military leadership. The past, the present, the future are in front of us and whatever is to happen will soon become apparent.

معاہدہ ابراہام پر ,کیا پاکستان کی جانب سے مثبت اشارے مل گئے ہیں ؟

2020 میں دستخط کیے گئے ابراہیم معاہدے، تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے اسرائیل اور کئی عرب ممالک (متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش) کے درمیان معاہدے تھے۔  تاہم، پاکستان نے عوامی طور پر ابراہم معاہدے کو قبول کرنے یا اس میں شامل ہونے کے لیے آمادگی ظاہر نہیں کی تھی شاید عوامی ردعمل سخت اور منفی آنے کی اطلاع ہو۔اسرائیل اور ابراہیم معاہدے پر پاکستان کا موقف ہاں یا ناں کے درمیان پھنسا ہوا ہے۔یعنی قبولیت کا کوئی اشارہ باضابطہ نہیں ہے۔بظاہر تو چند سیاسی عناصر کی میل ملاقات کے بعد بھی پاکستان نے ابراہم معاہدے میں شامل ہونے یا اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے کسی ارادے کا اعلان نہیں کیا ہے لیکن ارادے اور بیانات شکوک وشبہات سے بالاتر نہیں۔جبکہ پاکستان روایتی طور پر فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کرتا ہے اور اس نے اسرائیل کو باضابطہ طور پر اب تک تسلیم نہیں کیا ہے۔جب کہ میڈیا آؤٹ لیٹس ابراہم معاہدے جیسے بین الاقوامیجیسے بین الاقوامی معاہدوں کی رپورٹنگ کرتے ہیں، لیکن اس بات کا کوئی واضح اشارہ نہیں ہے کہ پاکستان کا میڈیا ان معاہدوں کی پاکستان کی قبولیت کو فروغ دے رہا ہے جبکہ کچھ منفی اشارے سوشل میڈیا کے ذریعے ہم تک پہنچے ہیں جس کی بنیاد پر بات کی جا رہی ہے۔اگر ابراہیم معاہدے کو دیکھا جائے تو سیاق و سباق کے مطابق اس طرح کے معاہدوں نے اسرائیل اور کچھ عرب ممالک کے درمیان تعلقات میں تبدیلی کی نشاندہی کی، تجارت اور سلامتی جیسے شعبوں میں تعاون پر توجہ مرکوز کی معاہدوں کو مشرق وسطیٰ کی سفارتکاری میں ایک ترقی کے طور پر دیکھا گیا، حالانکہ ان سے اسرائیل فلسطین تنازعہ حل نہیں ہوا۔اگر ہم، ابراہم معاہدے، پاکستان کی خارجہ پالیسی، یا متعلقہ علاقائی معاملات کو جاننے کی کوشش کریں تو دین اسلام کی ہدایات کی روشنی میں اس طرح کے معاہدوں کی کوئ حیثیت نہیں، رہی بات پاکستان کی تو موجودہ فوجی قیادت کے لیے کچھ بھی نا ممکن نہیں ماضی حال مستقبل سامنے ہے اور جو کچھ ہونا ہے کچھ ہی وقت میں اظہر من الشمس ہو جائے گا۔

پاکستان کے نقصانات کا زمہ دار کون ہے ؟

پاکستان کو درحقیقت فوجی مداخلتوں اور تنازعات کی وجہ سے خاص طور پر امریکی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تناظر میں کافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔تخمینے بتاتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے پاکستان کا معاشی نقصان 123.1 بلین ڈالر سے لے کر 150 بلین ڈالر تک ہے، کچھ رپورٹس میں 252 بلین ڈالر تک کے اعداد و شمار کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔  یہ نقصانات بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان، غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی اور صنعتی پیداوار سے منسوب ہیں۔
اس تنازعے کے نتیجے میں 70,000 سے زیادہ پاکستانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، اور بہت سے زخمی یا بے گھر ہو چکے ہیں۔  جنگ نے ملک کے سماجی تانے بانے اور معاشی ترقی پر بھی گہرا اثر ڈالا ہے۔پاکستان کی معیشت کو مبینہ طور پر تنازعات کی وجہ سے اس کی جی ڈی پی کا تقریباً 3% سالانہ نقصان ہوا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اہم اقتصادی مواقع ضائع ہوئے۔پاکستان اکنامک سروے کے مطابق، ملک کو سالانہ اوسطاً 7.7 بلین ڈالر کا نقصان ہوا، جو کہ تعلیم، صحت اور دیگر سماجی تحفظ کی اسکیموں پر ملک کے کل اخراجات سے زیادہ ہے۔
کچھ قابل ذکر واقعات اور خدشات میں شامل ہیں پاکستان کو متعدد دہشت گرد حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے نتیجے میں اہم انسانی تکالیف اور معاشی نقصانات ہوئے ہیں۔ملک نے دہشت گردی سے نمٹنے اور بقایا خطرات کو ختم کرنے کے لیے ضرب عضب اور ردالفساد سمیت متعدد فوجی آپریشن شروع کیے ہیں۔
پاکستان نے افغانستان میں امریکی زیر قیادت اتحادی افواج کے ساتھ تعاون کیا ہے، لاجسٹک مدد فراہم کی ہے اور اس کی فضائی حدود اور فوجی اڈوں تک رسائی فراہم کی ہے۔