سندھ حکومت کا طویل ترین اقتدار اور عوامی محرومیاں سندھ پر پچھلے تقریباً 20 سال سے مسلسل ایک ہی جماعت کی حکومت ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا کسی بھی صوبے میں سب سے طویل بلاتعطل اقتدار ہے۔ مگر اس پورے عرصے میں عام آدمی کی زندگی میں کوئی واضح بہتری نظر نہیں آتی۔ بنیادی سہولیات کا بحران، کراچی سے لے کر اندرونِ سندھ تک، پینے کا صاف پانی آج بھی لاکھوں لوگوں کے لیے خواب ہے۔ سرکاری اسکولوں کی 40% سے زیادہ عمارتیں کھنڈر بنی ہوئی ہیں، اور اسپتالوں میں نہ ڈاکٹر ہیں نہ دوائیں۔ سیوریج کا نظام تباہ حال ہے، اور ہر مون سون میں شہر دریا بن جاتے ہیں۔ اربوں روپے کے ترقیاتی بجٹ کے باوجود سڑکیں، پل اور اسکیمیں کاغذوں سے آگے نہیں بڑھتیں۔ کرپشن بطور نظام بنا دیا گیا ہے نیب، ایف آئی اے اور آڈیٹر جنرل کی رپورٹیں سالہا سال سے سندھ کے محکموں میں کھربوں روپے کی بے ضابطگیاں دکھا رہی ہیں۔ گندم اسکینڈل، پانی کے منصوبوں میں کمیشن، جعلی بھرتیاں، اور ترقیاتی فنڈز کا احتساب کے ادارے بھی سیاسی مصلحتوں کی نذر ہو جاتے ہیں اقتدار کے باوجود کارکردگی صفر اتنا طویل عرصہ کسی بھی حکومت کے لیے اپنی کارکردگی دکھانے کو کافی سے زیادہ ہوتا ہے۔ دبئی، سنگاپور جیسے شہر اس سے کم وقت میں بن گئے۔ مگر سندھ میں ہر الیکشن کے بعد وہی وعدے، وہی نعرے، اور وہی تباہ حال نظام ملتا ہے۔ تعلیم میں سندھ آج بھی باقی صوبوں سے پیچھے ہے، صحت کا بجٹ سب سے زیادہ ہونے کے باوجود اسپتالوں کی حالت بدترین ہے، اور کراچی جیسا ریونیو جنریٹ کرنے والا شہر کچرے اور ٹوٹی سڑکوں کی تصویر بنا ہوا ہے۔طویل ترین اقتدار کے باوجود اگر عوام کو پینے کا پانی، علاج، تعلیم اور روزگار نہ ملے، اور ہر منصوبہ کرپشن کی نذر ہو جائے، تو پھر یہ سوال بجا ہے کہ یہ اقتدار کس کے لیے تھا؟ عوام کے لیے یا صرف اقتدار کے مزے لوٹنے والوں کے لیے؟ اگر تبدیلی صرف اشتہاروں اور بیانات میں ہے، زمین پر نہیں، تو عوام کا یہ کہنا غلط نہیں کہ سوائے کرپشن کے کچھ نہیں ملا۔بات یہاں اختتام پذیر نہیں ہوتی بلکہ بڑھ جاتی ہے۔
فنڈز اور کرپشن سندھ کا ترقیاتی بجٹ ہر سال کھربوں میں ہوتا ہے
کراچی کے مسئلے صرف ایک پارٹی یا ایک شخصیت تک محدود نہیں، لیکن سندھ میں پیپلز پارٹی کی 2008 سے مسلسل حکومت اور وفاق میں اس کا اثرورسوخ ہونے کے باوجود کراچی کے بنیادی مسائل جوں کے توں ہیں۔ اس پر عوامی سطح پر شدید تنقید موجود ہے۔ اتنی طاقت و اختیار کے باوجود کراچی کے حالات کیوں خراب ہیں؟ گورننس کا بحران 18ویں ترمیم کے بعد زیادہ اختیارات صوبے کے پاس ہیں مگر کراچی کے بلدیاتی ادارے مالی اور انتظامی طور پر کمزور رکھے گئے۔ میئر کے پاس کچرا، پانی، سیوریج، ٹرانسپورٹ جیسے بنیادی اختیارات بھی پورے نہیں۔ نتیجہ جوابدہی کا فقدان ٹھہرا۔فنڈز اور کرپشن سندھ کا ترقیاتی بجٹ ہر سال کھربوں میں ہوتا ہے، کراچی سے سب سے زیادہ ٹیکس جمع ہوتا ہے، مگر زمین پر کام نظر نہیں آتا۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹس میں سندھ کے کئی منصوبوں میں بے ضابطگیاں ریکارڈ ہوئی ہیں۔ K-IV پانی منصوبہ، گرین لائن، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ جیسے منصوبے سالوں تاخیر اور لاگت بڑھنے کا شکار رہے۔انفراسٹرکچر کی تباہی سڑکیں، سیوریج، پانی کی فراہمی، بجلی، پبلک ٹرانسپورٹ ہر شعبہ بحران کا شکار ہے۔ ہر بارش میں شہر ڈوب جاتا ہے۔سیاسی مفادات کراچی کی 25+ قومی اسمبلی سیٹیں ہیں وفاق میں حصہ داری کے باوجود جب صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی ترجیحات نہیں ملتیں تو کراچی سینڈوچ بن جاتا ہے۔ MQM، PPP، PTI سب نے مختلف ادوار میں وعدے کیے مگر ڈیلیوری کمزور رہی۔اب آخری سوال یہی بنتا ہے کیا حالات بہتر ہو سکتے ہیں؟ جی ہاں، لیکن 3 چیزوں کے بغیر مشکل ہے پہلا حقیقی بلدیاتی نظام جب تک میئر اور مقامی حکومت کو مالی و انتظامی خودمختاری نہیں ملے گی، فنڈز اوپر ہی رکیں گے۔ دنیا کے ہر بڑے شہر کا ماڈل یہی ہے نیویارک، لندن، استنبول کا میئر بااختیار ہوتا ہے۔دوسرا احتساب نیب، FIA، اینٹی کرپشن کے کیسز بنتے ہیں مگر سزائیں کم ملتی ہیں۔ جب تک کرپشن کی سیاسی قیمت نہ لگے، فنڈز لیپس ہوتے رہیں گے۔تیسرا وفاق-سندھ ورکنگ ریلیشن K-IV، گرین لائن، کراچی سرکلر ریلوے جیسے منصوبے وفاق اور سندھ کے تعاون کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتے۔ سیاسی لڑائی میں شہر پس جاتا ہے۔زرداری لیگ کا یہ مؤقف ہے کہ وہ جمہوری مینڈیٹ سے حکومت میں ہیں اور سندھ میں ترقیاتی کام ہوئے ہیں۔ تھر کول، صحت کارڈ، امن و امان میں بہتری کو وہ اپنی کامیابی بتاتے ہیں۔ ناقدین کہتے ہیں کہ کراچی کو جان بوجھ کر محروم رکھا گیا کیونکہ یہاں PPP کا ووٹ بینک کمزور ہے۔ سچ غالباً بیچ میں ہے – نظام میں خرابی ہے جس کا فائدہ طاقتور طبقے اٹھاتے ہیں، چاہے وہ کسی بھی پارٹی سے ہوں۔ کراچی تباہ نہیں ہوا مفلوج کیا گیا ہے۔ اس شہر نے 50 سال میں 3 کروڑ آبادی سمو لی، پھر بھی پاکستان کا 55% ایکسپورٹ اور 65% ریونیو دیتا ہے۔ اس میں واپسی کی طاقت ہے۔ سپریم کورٹ کی مداخلت پر کئی تجاوزات ہٹیں، نالوں کی صفائی ہوئی۔ نوجوان آبادی، پرائیویٹ سیکٹر، اور عدالتی ایکٹوازم پریشر بنا رہے ہیں۔بہتری ایک دن میں نہیں آئے گی۔ اس کے لیے ووٹر کا پریشر، عدالتی نگرانی، اور بلدیاتی اداروں کو بااختیار کرنا ضروری ہے۔ جب تک کراچی کا شہری اپنے ٹیکس کے بدلے سوال نہیں کرے گا، کوئی بھی “مافیا” خود سے نہیں ہٹے گا۔
امن مذاکرات کے دوسرے دور میں ایران کی شرکت ممکن نہیں! مسعود حسین جعفری
امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران کا ٹول ادا کرنے والے کسی بھی جہاز کو روک دیا جائے گا
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بحریہ نے خلیج عمان میں ایرانی پرچم والے مال بردار بحری جہاز _توسکا_ کو اس وقت قبضے میں لے لیا جب اس نے آبنائے ہرمز کی امریکی بحری ناکہ بندی کو چلانے کی کوشش کی۔ ڈسٹرائر USSSpruance نے جہاز کے انجن روم میں اس وقت فائر کیا جب عملے نے رکنے کی وارننگ کو نظر انداز کر دیا، اور پھر یو ایس میرینز نے سوار ہو کر جہاز کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ٹرمپ نے پوسٹ کیا کہ Touska تقریباً 900 فٹ لمبا ہے اور اس پر سابقہ غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے امریکی ٹریژری پابندیوں کے تحت ہے۔ CENTCOM نے چھ گھنٹے کے تعطل اور پروپلشن کو غیر فعال کرنے کے لیے ڈسٹرائر کی 5 انچ بندوق کے استعمال کی تصدیق کی۔ ایران کا جواب میں تہران نے قبضے کو مسلح بحری قزاقی قرار دیا اور متنبہ کیا کہ وہ جلد جوابی کارروائی کرے گا۔ایران کے سرکاری میڈیا نے کہا کہ ایران جاری ناکہ بندی اور ٹرمپ کے نئے فضائی حملوں کی دھمکی کا حوالہ دیتے ہوئے امن مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت نہیں کرے گا۔ایران کی فوج نے کہا کہ جہاز چین سے سفر کر رہا تھا اور اس نے جوابی کارروائی کا عزم کیا۔ اسلام آباد میں جنگ بندی کے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکہ نے ایرانی امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا جانے والے جہازوں کو روکنا۔ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا جانے والے جہازوں کو روکنا شروع کر دیا۔ایران نے فروری 2026 کے آخر سے آبنائے ہرمز کو زیادہ تر ٹریفک کے لیے مؤثر طریقے سے بند کر دیا ہے، سوائے ایران کے زیر کنٹرول جہازوں کے، جس نے تیل کی قیمتوں کو $100 فی بیرل سے اوپر دھکیل دیا ہے۔دونوں فریق ایک دوسرے پر دو ہفتے کی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہیں جو منگل کو ختم ہونے والی تھی۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران کا ٹول ادا کرنے والے کسی بھی جہاز کو روک دیا جائے گا، جبکہ ایران نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے کے قریب کسی بھی فوجی جہاز کو جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔ امریکی ناکہ بندی اور ایران کے جوابی اقدامات کی وجہ سے ہرمز کے راستے سمندری آمدورفت بدستور محدود ہے۔ خبروں پر تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، اور عالمی منڈیوں میں جنگ بندی کے خاتمے پر بے چینی ہے۔ امریکی فوج نے ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کرنے پر ایک ایرانی مال بردار جہاز کو پکڑ لیا، اور ایران نے جوابی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے مذاکرات کے اگلے دور سے دستبرداری اختیار کر لی ہے۔ خطے میں امن اس وقت متزلزل نظر آ رہا ہے، اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ شپنگ میں خلل ہے۔
نیب کی فائل میں فی الحال C&W، اکاؤنٹس، AG آفس اور بینکنگ سیکٹر ٹاپ پر ہیں، مگر بڑی گرفتاریاں۔۔۔۔ مسعود حسین جعفری
نیب اس وقت خاص طور پر دو بڑے اسکینڈلز پر ایکٹیو ہے اور گرفتاریوں کا عندیہ دیا جا چکا ہے۔خیبرپختونخواہ کوہستان 40 ارب روپے اسکینڈل یہ اب تک KP کی تاریخ کا سب سے بڑا کیس ہے۔ نیب ماسٹر مائنڈ C&W ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ کلرک قیصر اقبال کو اہلیہ سمیت گرفتار کر چکا ہے۔ اس نیٹ ورک میں محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس C&W، ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفس، اے جی آفس اور نیشنل بینک کے افسران، بینکرز اور ٹھیکیدار شامل ہیں۔ اب تک 8 اہم ملزمان پکڑے گئے ہیں جن میں ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر، اے جی آفس کا آڈیٹر، بینک منیجر اور کنٹریکٹرز شامل ہیں۔ نیب کہہ چکا کہ بااثر اور اہم شخصیات کی گرفتاریاں متوقع ہیں۔سندھ روشن سندھ سولر پروگرام نیب کو 5 ارب روپے سے زائد کی مبینہ کرپشن کے شواہد ملے ہیں۔ جعلی امپورٹ ڈیکلیریشن اور اوورانوائسنگ سے خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔ پراجیکٹ ذمہ داران محفوظ قاضی، مدثر قاضی، جعفر خواجہ اور عون خواجہ کو طلب کیا گیا ہے اور کیس میں مزید اہم شخصیات کے ملوث ہونے کے شواہد ہیں۔ گرفتاریوں کا امکان ہے۔ فی الحال نشانے پر C&W کے افسران و کلرکس، ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس، AG آفس کے آڈیٹرز، بینک منیجرز اور بڑے ٹھیکیدار۔ نیب ذرائع خود کہہ رہے ہیں کہ یہ نیٹ ورک محکمانہ افسران سے بھی اوپر تک پھیلا ہے اور سینئر افسران کی ملی بھگت شامل تھی۔ اس لیے اگلی گرفتاریاں اعلیٰ بیوروکریسی یا سیاسی سرپرستی کرنے والوں کی ہو سکتی ہیں۔ نیب کی فائل میں فی الحال C&W، اکاؤنٹس، AG آفس اور بینکنگ سیکٹر ٹاپ پر ہیں، مگر “بڑی گرفتاریاں” کا مطلب ہے کہ تار اوپر تک جاتی ہے۔
عاصم منیر ایرانی صدر، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور وزیر خارجہ ملاقاتیں! مسعود حسین جعفری

اس پر کافی چرچا ہو رہی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے 16-17 اپریل 2026 کو ایران کا دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد قالیباف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقاتیں کیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ “امریکا کا نمائندہ” بن کر گئے؟ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دورہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ثالثی کی کوششوں کا حصہ ہے۔ یعنی پاکستان باضابطہ طور پر ثالثی/مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس سے پہلے جون 2025 میں عاصم منیر کی ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی تھی جس میں ایران-اسرائیل تنازع پر تفصیل سے بات ہوئی۔ امریکا نے بھی پاکستان کو ایران-اسرائیل کشیدہ صورت حال میں مددگار سمجھنا شروع کیا تھا۔ تو کیا یہ ٹرمپ کی چال ہے؟ ابھی تک کی سرکاری پوزیشن یہ ہے۔پاکستان کا مؤقف ہے کہ ہم ثالث ہیں، کسی کے نمائندے نہیں۔ آئی ایس پی آر نے واضح کہا کہ یہ ثالثی کی کوششوں کا حصہ ہے۔ عباس عراقچی نے بھی مذاکراتی عمل کی میزبانی پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ کچھ حلقے اسے امریکا-ایران بیک چینل ڈپلومیسی کا حصہ سمجھتے ہیں کیونکہ امریکا اور ایران کے براہ راست تعلقات نہیں۔ پاکستان دونوں سے تعلق رکھتا ہے، اس لیے “میسنجر” کا کردار فطری ہے۔ اسے نمائندہ کہنا درست نہیں، سہولت کار زیادہ مناسب لفظ ہے۔ اس ملاقات کو ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے پر پیش رفت اور باہمی رضا مندی کے حوالے سے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے یعنی بات چیت آگے بڑھ رہی ہے۔ عاصم منیر ایران امریکا کی طرف سے “نمائندہ” بن کر نہیں بلکہ پاکستان کی طرف سے “ثالث” بن کر گئے ہیں۔ البتہ ٹرمپ سے پہلے ہوئی ملاقات اور ایران-اسرائیل پر ڈسکشن کی وجہ سے یہ تاثر بنا کہ امریکا بھی اس چینل کو استعمال کر رہا ہے۔
100 ارب ڈالر کی منتقلی کوئی ایک دن کا کام نہیں، مسعود حسین جعفری

جی ہاں، 15 اپریل 2026 کو وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کراچی میں FPCCI کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا تھا کہ پچھلے 3 سے 4 سال میں تقریباً 100 ارب ڈالر پاکستان سے باہر منتقل ہوئے ہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ یرون ملک جانے والا پیسہ کس طریقے سے گیا اس کے لیے ایک دو بندوں کو کراچی سے اٹھانے کی ضرورت ہے جس کے بعد سب پتہ چل جائے گا اور تاجروں سے اپیل کی کہ بجٹ سے پہلے کم از کم 10 ارب ڈالر واپس لے آئیں۔سوال یہ ہے کہ حساس اداروں کی موجودگی میں ایسا کیسے ممکن ہوا؟ یہ سوال پاکستان میں اکثر اٹھتا ہے۔ 100 ارب ڈالر کی منتقلی کوئی ایک دن کا کام نہیں۔ وزیر داخلہ کے بیان اور ماضی کے کیسز کو دیکھیں تو 3 بڑے راستے سامنے آتے ہیں۔وزیر داخلہ نے خود کہا کہ منی چینجر کے ذریعے رقوم منتقلی کے چھ سات کیسز پکڑے ہیں۔ ہنڈی/حوالہ کا نظام بینکنگ چینل کو بائی پاس کرتا ہے۔ پیسہ فزیکلی باہر نہیں جاتا بلکہ یہاں کسی ایجنٹ کو روپے دیتے ہیں اور باہر ڈالر لے لیتے ہیں۔ یہ نیٹ ورک اتنا پھیلا ہوا ہے کہ اسے 100% مانیٹر کرنا کسی بھی ایجنسی کے لیے ناممکن ہے۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹس کے مطابق پاکستان کی ترسیلات کا بڑا حصہ اب بھی غیر رسمی راستوں سے آتا-جاتا ہے۔ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ انڈر-انوائسنگ اور اوور-انوائسنگ۔ یعنی ایکسپورٹ کو کم دکھانا اور امپورٹ کو زیادہ دکھا کر فرق کا پیسہ باہر رکھ لینا۔ 3 سال میں 100 ارب ڈالر کا مطلب سالانہ 25-30 ارب ڈالر بنتا ہے۔ پاکستان کی کل ایکسپورٹ ہی 30-35 ارب ڈالر سالانہ ہے، اس لیے یہ سارا پیسہ صرف ٹریڈ سے جانا مشکل۔ لیکن یہ ایک بڑا ذریعہ ضرور ہے۔ کسٹمز، FBR اور بینکوں کے پاس ہر انوائس کو ویریفائی کرنے کی صلاحیت محدود ہے۔
اٹھانے والے بندوں کا نیٹ ورک وزیر داخلہ کا “ایک دو بندے اٹھا لو” والا جملہ اس طرف اشارہ ہے کہ چند بڑے فیسلیٹیٹرز/ایکسچینج کمپنیاں/بینکرز پورے نیٹ ورک کو چلاتے ہیں۔FIA اور حساس ادارے جب بھی کریک ڈاؤن کرتے ہیں تو 5-10 بڑے کیسز پکڑے جاتے ہیں، لیکن نیٹ ورک نیا راستہ نکال لیتا ہے۔ وجہ: ڈیمانڈ موجود ہے۔ جب تک ڈالر کی قلت، سیاسی عدم استحکام اور ٹیکس کا خوف رہے گا، لوگ پیسہ باہر بھیجنے کا رسک لیں گے۔ تو ایجنسیاں کر کیا رہی ہیں؟ محسن نقوی نے خود مانا کہ ایک یا دو فیصد لوگوں کی وجہ سے پوری بزنس کمیونٹی کو سزا نہیں دے سکتے۔ یہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ معاشی مجبوری vs قانونی کارروائی سخت کریک ڈاؤن سے بزنس کمیونٹی کا اعتماد ٹوٹتا ہے۔ حکومت کو ڈالر بھی چاہئیں اور سرمایہ کاروں کو ناراض بھی نہیں کرنا۔ثبوت کا مسئلہ ہنڈی کا کوئی کاغذی ریکارڈ نہیں ہوتا۔ “اٹھائے” گئے بندے کے خلاف عدالت میں کیس ثابت کرنا مشکل۔وزیر داخلہ کا حل یہ ہے کہ سزا کے بجائے ترغیب دی جائے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے 20-30% پیسہ واپس لے آئیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بجٹ سے پہلے 20-25 ارب ڈالر واپس لانا ممکن ہے۔ 100 ارب ڈالر ایک انکشاف ہے، آڈٹ شدہ فگر نہیں۔ اتنی بڑی رقم کا جانا بتاتا ہے کہ مسئلہ صرف “چوکیداری” کا نہیں بلکہ ڈیمانڈ، منافع اور اعتماد کا ہے۔ جب تک پاکستان میں سرمایہ رکھنا رسکی لگے گا اور دبئی/لندن میں محفوظ، تب تک ہنڈی والے “ایک دو بندے” نئے آتے رہیں گے، چاہے ایجنسیاں جتنی بھی الرٹ ہوں۔آپ کا اس پر کیا خیال ہے — ترغیب سے پیسہ واپس آئے گا یا سخت کریک ڈاؤن ضروری ہے؟
سندھ حکومت کی کارکردگی
سندھ حکومت کی کارکردگی رپورٹ
کراچی میں کرپشن، ہیلتھ اور ایجوکیشن کی صورتحال
محکمہ تعلیم کے خلاف 841 کرپشن کی شکایات موصول ہوئیں
کراچی (رپورٹ: مسعود حسین جعفری)سندھ حکومت کی کارکردگی رپورٹ: کراچی میں کرپشن، ہیلتھ اور ایجوکیشن کی صورتحال یہ اعداد و شمار سندھ اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کی جنوری 2026 کی بریفنگ اور حالیہ میڈیا رپورٹس پر مبنی ہیں۔کل شکایات*: 2025 میں سندھ بھر کے 22 محکموں کے خلاف 13,603 کرپشن کی شکایات موصول ہوئیں۔2025 میں 536 کیسز اور 328 اوپن انکوائریز پر کام ہوا۔ 24 ایف آئی آرز کی منظوری دی گئی، 15 کیسز بند ہوئے اور 103 کیسز متعلقہ محکموں کو بھیجے گئے۔سب سے زیادہ شکایات ریونیو، بلدیات، پولیس اور تعلیم کے محکمے سر فہرست ہیں۔ڈاکٹر فاروق ستار نے ستمبر 2025 میں کہا کہ سندھ حکومت کی ناکامی اور کرپشن نے کراچی کو “کھنڈر، زخمی اور لاوارث بستی” بنا دیا ہے۔شکایات کی تعداد محکمہ تعلیم کے خلاف 841 کرپشن کی شکایات موصول ہوئیں۔تعلیم کا محکمہ ان 4 محکموں میں شامل ہے جن کے خلاف سب سے زیادہ شکایات ہیں – ریونیو، بلدیات، پولیس، تعلیم
SBCA اور KDA
– SBCA کے خلاف کراچی میں 837 شکایات
– KDA کے خلاف 408 شکایات
انفراسٹرکچر کے مسائل – MQM کا دعویٰ کے فور منصوبہ 14 سال میں 25 ارب سے 150 ارب روپے تک پہنچ گیا، مگر “عوام کو پانی کی ایک بوند بھی نہیں ملی” سڑکیں/انڈر پاس یونیورسٹی روڈ پانی میں ڈوبی، شاہراہ بھٹو زمین بوس، کریم آباد اور ناتھا خان انڈر پاسز تعطل کا شکار ریڈ لائن*: تاخیر اور بدانتظامی کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات جنوری 2026 میں وزیر اینٹی کرپشن سردار محمد بخش مہر کی صدارت میں اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا تمام 22 محکموں کے خلاف شکایات پر سخت اور فوری کارروائی فیلڈ میں ٹریپ اور سرپرائز وزٹس کیے گئے
812 کیسز اینٹی کرپشن عدالت بھیجے گئے۔خلاصہ یہ کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں 13,603 شکایات میں سے صرف 37% حل ہوئیں۔ تعلیم اور ہیلتھ دونوں بڑے محکمے کرپشن شکایات کی لسٹ میں شامل ہیں۔ حکومت NICVD اور مفت علاج کو کامیابی بتاتی ہے، جبکہ اپوزیشن K-4، سڑکوں اور بنیادی سہولیات کی تباہی کو کرپشن اور ناکامی قرار دیتی ہے
The Pakistani military leadership is ready to accept the Abraham Accords. The media has been busy promoting the benefits of the Abraham Accords.
The Abraham Accords, signed in 2020, were agreements between Israel and several Arab countries (the United Arab Emirates, Bahrain, Sudan, and Morocco) to normalize relations. However, Pakistan has not publicly expressed its willingness to accept or join the Abraham Accords, perhaps due to the public backlash that has been reported. Pakistan’s stance on Israel and the Abraham Accords is stuck between yes and no. That is, there is no formal indication of acceptance. Apparently, even after a few political elements met, Pakistan has not announced any intention to join the Abraham Accords or normalize relations with Israel, but the intentions and statements are not beyond suspicion. While Pakistan traditionally supports Palestinian rights and has not officially recognized Israel so far. While media outlets report on international agreements like the Abraham Accords, there is no clear indication that the Pakistani media is promoting Pakistan’s acceptance of these agreements, while some negative indications have reached us through social media on the basis of which they are being discussed. If we look at the Abraham Accords, in context, such agreements have The agreements, which marked a change in relations between the two countries, focused on cooperation in areas such as trade and security. They were seen as a development in Middle East diplomacy, although they did not resolve the Israeli-Palestinian conflict. If we try to understand the Abraham Accords, Pakistan’s foreign policy, or related regional issues, such agreements have no status in the light of the teachings of Islam. As for Pakistan, nothing is impossible for the current military leadership. The past, the present, the future are in front of us and whatever is to happen will soon become apparent.

You must be logged in to post a comment.