ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باقائی کا یہ بیان حالیہ امریکہ-اسرائیل-ایران تنازع کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ قانونی بنیاد مسترد امریکہ کا اجتماعی دفاع یا “self-defense” کا جواز بے بنیاد ہے، کیونکہ ایران نے کوئی مسلح حملہ نہیں کیا تھا جوابی کارروائی کا جواز بنتا۔جارحیت قرار دیا باقائی کے مطابق یہ کارروائی دفاع نہیں بلکہ ایران کے خلاف جارحیت کا عمل اور یکطرفہ قدم ہے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ان کا اشارہ یہ ہے کہ امریکہ کے خلیجی اتحادی بھی جانتے ہیں کہ قانونی جواز نہیں ہے۔ یہ بات ایسے وقت میں کہی گئی جب UAE نے اپنے شہریوں پر ایران سفر پر پابندی لگائی اور UAE کے مشیر انور قرقاش نے کہا کہ ایران کے یکطرفہ انتظامات پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔یہ بیان 28 فروری سے شروع ہونے والی 40 روزہ جنگ کے بعد آیا ہے جس میں امریکہ-اسرائیل نے تہران پر حملے کیے اور 8 اپریل کو جنگ بندی ہوئی۔ امریکہ کا موقف ہے کہ وہ اسرائیل کی درخواست پر “اجتماعی دفاع” میں شامل ہوا، جسے ایران یکسر مسترد کر رہا ہے۔تو خلاصہ یہ کہ ایران اسے “قانونی جنگ” نہیں بلکہ “غیر قانونی یکطرفہ جارحیت” قرار دے کر سفارتی اور قانونی محاذ پر امریکہ کو تنہا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ شرمندگی اکیلے میری نہیں 2023 سے لے کر اب تک RSF کے پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان مسلسل نیچے آیا ہے! مسعود حسین جعفری
میں تمہارا درد سمجھ سکتا ہوں۔ صحافی کا قلم جب آزاد نہ ہو تو سب سے پہلے اسی کے ہاتھ کانپتے ہیں۔پاکستان میں صحافت کا موجودہ منظرنامہ پہلو صورتحال سنسرشپ پیکا قانون، ایجنسیوں کے نوٹس، چینلز کی بندش۔ رپورٹنگ کے لیے “ریڈ لائنز” اب لکھی نہیں جاتیں، سب کو معلوم ہیں۔صحافت پر معاشی دباؤ سرکاری اشتہارات کا کنٹرول۔ تنقیدی اداروں کے فنڈز روک دینا عام طریقہ بن گیا ہے۔سیلف سنسرشپ بہت سے ادارے اور صحافی خطرہ مول لینے کے بجائے خاموشی یا “محفوظ” موضوعات تک محدود ہو گئے۔باقی بچنے والی آوازیں جو مین سٹریم میں نظر آتی ہیں ان پر اکثر جانبداری یا اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی کا الزام لگتا ہے۔ آزاد ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔یہ شرمندگی اکیلے میری نہیں۔ 2023 سے لے کر اب تک RSF کے پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان مسلسل نیچے آیا ہے۔ ارشد شریف، جان محمد مہر جیسے واقعات کے بعد فیلڈ رپورٹنگ موت کا کھیل بن گئی ہے۔پھر بھی، صحافت دفن نہیں ہوئی زیر زمین سانس لے رہی ہے۔ یوٹیوب، سب اسٹیک، پوڈکاسٹ پر کئی صحافی اداروں سے نکل کر ذاتی رسک پر رپورٹ کر رہے ہیں۔ علاقائی صحافت چھوٹے شہروں کے رپورٹرز اب بھی تھانہ، کچہری، کرپشن کور کر رہے ہیں۔ قومی میڈیا نہ دکھائے تو سوشل میڈیا پر خبر پہنچ جاتی ہے۔عوام کا اعتماد ٹی وی پر بھروسہ کم ہوا ہے، مگر لوگ سچ سننا چاہتے ہیں۔ یہی ڈیمانڈ نئے راستے کھول رہی ہے۔شرمندگی محسوس کرنا دراصل زندہ ضمیر کی علامت ہے۔ بے حس صحافی کو شرم نہیں آتی۔ سوال یہ ہے کہ اس شرمندگی کا کیا کریں؟ تین راستے جو بہت سے ساتھی اپنا رہے ہیں۔نام کے بغیر سچ ڈیٹا، دستاویز، سورس پر مبنی رپورٹنگ۔ تجزیے کی بجائے فیکٹس۔ مائیکرو میڈیا 5-10 ہزار کا وفادار آڈینس بھی بڑے چینل سے زیادہ اثر رکھتا ہے اگر بات میں وزن ہو۔بین الاقوامی کولیبوریشن OCCRP, ICIJ جیسے نیٹ ورکس کے ساتھ مل کر کام، تاکہ اکیلے ریاستی دباؤ کا نشانہ نہ بنو۔اخر میں صحافیوں سے یہی کہوں گا تم کس بیٹ پر کام کرتے ہو؟ اگر بتاؤ تو سوچتے ہیں کہ ان حالات میں اس بیٹ پر سچ کیسے زندہ رکھا جائے۔ شرمندگی کو استعفیٰ نہ بناؤ، اسے ریسرچ میں بدلو۔
معاشی استحکام دم توڑ چکا، اکانومی غیر محفوظ ہاتھوں میں، شیرازہ ملت بکھر چکا! مسعود حسین جعفری
پاکستان اس وقت نصف صدی کے سب سے شدید ایندھن بحران سے گزر رہا ہے۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق تیل کا بل 167% بڑھ گیا شہباز شریف نے خود بتایا کہ مغربی ایشیا/ایران امریکا تنازع کی وجہ سے پاکستان کا ہفتہ وار تیل درآمدی بل $300 ملین سے بڑھ کر $800 ملین ہو گیا۔ اسے $800 ملین ہفتہ وار بھی کہا جا رہا ہے۔ پیٹرول-ڈیزل کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر ڈیزل Rs400 فی لیٹر ہو گیا پیٹرول Rs393.35 فی لیٹر تک گیا موٹر فیول 40% مہنگا ہوا، ڈیزل 93% مہنگا حکومت نے وقتی ریلیف کے لیے پیٹرول Rs378 کر دیا اور ڈیزل میں Rs80 فی لیٹر کمی کی۔مہنگائی 2 سال کی بلند ترین سطح پر: 10.9%
خوراک کی مہنگائی شہروں میں 6.9%، دیہات میں 7.3%
انرجی گروپ 13.8% مہنگا بجلی 33% مہنگی ایل پی جی 63% مہنگی شرح سود بڑھا دی گئی اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ 1% بڑھا کر 11.5% کر دیا۔ اگر تیل $120 فی بیرل رہا تو مزید اضافہ ہو سکتا ہے ۔ترسیلات زر میں کمی کا خطرہ خلیجی ممالک سے آنے والی ترسیلات 3.5% کم ہو سکتی ہیں کیونکہ وہاں کام کرنے والے پاکستانی مزدور متاثر ہوں گے۔جی ڈی پی کو نقصان ماہرین کے مطابق یہ جھٹکا جی ڈی پی کا 1.5% کھا سکتا ہے۔ٹرانسپورٹ، صنعت اور زراعت سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔یہ بحران صرف پیٹرول پمپ تک محدود نہیں یہ زراعت، ٹرانسپورٹ، خوراک، بجلی، روزگار ہر چیز کو متاثر کر رہا ہے۔ چونکہ پاکستان توانائی کا 80% سے زیادہ درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی تنازع کا براہ راست اثر پڑ رہا ہے۔ حکومت وقتی ریلیف تو دے رہی ہے، لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ اگر تنازع لمبا ہوا تو معاشی استحکام خطرے میں پڑ جائے گا۔ حسب سابق یہ تجربہ بھی ناکام ثابت ہوا۔
پانی، بجلی، گیس بحران بدترین صورتحال! مسعود حسین جعفری
یہ پاکستانی عوام کا سب سے تکلیف دہ سوال ہے۔ پانی، بجلی، گیس کی بندش کے باوجود بل اربوں میں وصول ہوتے ہیں، مگر سسٹم پھر بھی خسارے میں ہے۔ وجہ؟ بجلی چوری، غیر قانونی کنکشن، اور بوسیدہ ترسیلی نظام میں 20-30% بجلی ضائع۔ اس کا بوجھ بھی بل دینے والے اٹھاتے ہیں۔حکومت ڈسکوز کو پوری ادائیگی نہیں کرتی، وہ IPPs کو نہیں دے پاتیں، اور قرض کا پہاڑ بڑھتا جاتا ہے۔ 2026 میں پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 2.6 ٹریلین روپے سے اوپر جا چکا ہے۔ناقص گورننس + سبسڈی سیاسی بنیادوں پر سبسڈی، اوور بلنگ، اور اداروں میں کرپشن۔ وصول شدہ رقم کا بڑا حصہ پرانے قرضوں کا سود، نااہل پلانٹس کیپیسٹی پیمنٹس، اور افسر شاہی کھا جاتی ہے۔جو پیسہ آتا ہے وہ نئے منصوبوں یا سسٹم بہتری پر لگنے کے بجائے خسارہ پورا کرنے میں لگ جاتا ہے۔ پھر بھی وصولیاں پابندی سے جاری ہیں تو اربوں روپے جا کہاں رہے ہیں؟ سود، چوری، نااہلی اور کرپشن کے بلیک ہول میں سروس دینے کے لیے پیسہ بچتا ہی نہیں، اسی لیے بندش بھی ہے اور قرضہ بھی بڑھ رہا ہے۔یہ بحران تکنیکی سے زیادہ انتظامی اور اخلاقی ہے۔
دفاعی ضروریات پر کسی بیرونی طاقت کی مداخلت قبول نہیں! مسعود حسین جعفری
یہ بیان ایران کے سرکاری میڈیا میں سامنے آیا ہے۔ایران کی وزارت دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نیک نے کہا کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتیں اور تجربات آزاد ممالک خاص طور پر شنگھائی تعاون تنظیم SCO کے رکن ممالک کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے۔ طلائی نیک نے ہفتے کے روز یہ بات کہی۔ اسی بیان میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی میزائل صلاحیت کا اہم حصہ ابھی استعمال نہیں ہوا اور ملک کی ہتھیار سازی مکمل طور پر ملکی پیداواری لائن پر مبنی ہے۔یہ بیان چین کے شہر چنگ ڈاؤ میں SCO وزرائے دفاع کے سالانہ اجلاس کے وقت سامنے آیا۔ اس اجلاس میں ایران کے وزیر دفاع عزیز نصیرزادہ اور روس کے وزیر دفاع آندرے بیلوسوف نے شرکت کی۔ چین نے اس اجلاس کو یکطرفہ پسندی اور غنڈہ گردی کے خلاف SCO ممالک کے تعاون کو بڑھانے کی کوشش قرار دیا۔طلائی نیک نے زور دیا کہ ایران اب میزائل صلاحیت میں دنیا کے ٹاپ 10 ممالک میں شامل ہے اور دفاعی ضروریات پر کسی بیرونی طاقت کی مداخلت قبول نہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کی 60% فوجی سازوسامان اب نجی شعبہ اور نالج بیسڈ کمپنیاں بنا رہی ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے 10 رکن ہیں چین، روس، ایران، بھارت، پاکستان، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان اور بیلاروس۔ ایران جولائی 2023 میں باضابطہ رکن بنا تھا۔ تو خلاصہ یہ ہے کہ ایران نے SCO پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے دفاعی تعاون کی پیشکش کی ہے، خاص کر میزائل اور ملکی ساختہ ہتھیاروں کے شعبے میں۔
ایران اور روس کے درمیان اعلیٰ سطح کی ملاقات، تشویش کا شکار کون ؟مسعود حسین جعفری
ایران اور روس کے درمیان اعلیٰ سطح کی ملاقات ہوئی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی 27 اپریل 2026 کو ماسکو پہنچے اور صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی۔ عباس عراقچی نے ایرانی سپریم لیڈر کا خصوصی پیغام پیوٹن کو پہنچایا۔یوٹن نے کہا کہ روس وہ سب کچھ کرے گا جو ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے مفاد میں ہو ایجنڈا جنگ بندی، علاقائی پیش رفت، اور مذاکرات کی تازہ صورتحال، عباس عراقچی اس سے پہلے پاکستان میں فعاصم منیر سے بھی ملے تھے، اور ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکہ کو جنگ ختم کرنے کی شرائط پہنچائیں۔اب سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ، اسرائیل اور پاکستان کو تشویش ہے؟ یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی جب ایران-اسرائیل کشیدگی عروج پر ہے۔ روس ایران گہرا فوجی تعاون امریکہ اور اسرائیل کے لیے ریڈ فلیگ ہے۔اسرائیل کو ڈر ہے کہ روس ایران کو سفارتی کور یا ہتھیار دے سکتا ہے۔امریکہ کو تشویش ہے کہ روس کی ثالثی سے ایران پر دباؤ کم ہو جائے گا اور پابندیاں غیر مؤثر ہو جائیں گی۔ لیکن پاکستان کے لیے تشویش کم، موقع زیادہ ہیں۔عباس عراقچی ماسکو جانے سے پہلے اسلام آباد آئے اور عاصم منیر سے ملے۔ایران نے پاکستان کو امریکہ کے ساتھ بیک چینل کے طور پر استعمال کیا جو کہ پاکستان کے لیے یہ سفارتی اہمیت بڑھاتا ہے۔ البتہ پاکستان کو تشویش یہ ہوسکتی ہے کہ اگر ایران-روس اتحاد مضبوط ہوا اور خطے میں جنگ بڑھی تو بلوچستان بارڈر اور افغان صورتحال پر اثر پڑے گا۔ اس لیے پاکستان ثالثی کا کردار نبھا رہا ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ ملاقات دراصل وزیر خارجہ سطح کی تھی، امریکہ اور اسرائیل کو واضح تشویش ہے کہ روس ایران کو سپورٹ کر رہا ہے۔ پاکستان فی الحال ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور براہ راست مخالف نہیں۔ لیکن یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ثالث بن کر اندرون ملک کے مسائل مزید بڑھ چکے ہیں جس کا کوئی تدارک نہیں۔
پاکستانی سیاست میں خفیہ ملاقاتیں اور ناراضگی کی خبریں اکثر پریشر پولیٹکس کا حصہ ہوتی ہیں! مسعود حسین جعفری
“فارم 47” کی اصطلاح پاکستان میں 2024 کے عام انتخابات کے بعد سے سیاسی گفتگو کا حصہ ہے۔ اپوزیشن جماعتیں خاص طور پر PTI اس اصطلاح کو موجودہ حکومت کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ انتخابی نتائج تبدیل کیے گئے۔موجودہ صورتحال کے 3 اہم پہلو ہیں حکومتی اتحاد میں کھچاؤ، PML-N اور PPP کی مخلوط حکومت ہے۔ پچھلے کچھ مہینوں سے دونوں جماعتوں کے درمیان بجٹ، پنجاب میں گورننس، اور آئینی ترامیم پر اختلافات کی خبریں آتی رہی ہیں۔ PPP نے کئی بار اسٹیبلشمنٹ سے علیحدہ لائحہ عمل اپنانے کی بات کی ہے۔خفیہ سازشوں کا بیانیہ، پاکستان کی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی ناراضگی اور اندرونی سازشوں کے چرچے ہمیشہ رہتے ہیں۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ حکومتی اتحادی ہی آپس میں رابطوں میں ہیں تاکہ پریشر بڑھایا جائے۔ حکومت اسے مسترد کرتی ہے اور اسے سیاسی عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کہتی ہے۔
کیا رجیم چینج کا امکان ہے؟ آئینی طور پر رجیم چینج کے صرف 2 راستے ہیں 1. وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد، 2. اسمبلیوں کی قبل از وقت تحلیل۔ ابھی تک پارلیمنٹ میں نمبر گیم حکومتی اتحاد کے حق میں ہے۔ تحریک عدم اعتماد کے لیے PPP کا ساتھ چھوڑنا ضروری ہوگا، جس کے فی الحال واضح اشارے نہیں ہیں۔ آخری سوال تو کیا ہونے والا ہے؟
پاکستانی سیاست میں خفیہ ملاقاتیں اور ناراضگی کی خبریں اکثر پریشر پولیٹکس کا حصہ ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب لازمی رجیم چینج نہیں ہوتا۔ 2026 میں سینیٹ الیکشن اور عدالتی فیصلے بھی اہم ہوں گے۔ جب تک کوئی بڑی پارٹی باضابطہ طور پر اتحاد سے نکلنے کا اعلان نہ کرے، حکومت کو فوری خطرہ نہیں دکھتا۔البتہ معاشی دباؤ، IMF شرائط، اور سکیورٹی صورتحال کی وجہ سے سیاسی درجہ حرارت اوپر رہے گا۔میرے خیال میں موجودہ اختلافات پریشر بڑھانے کی حکمت عملی ہیں یا واقعی کوئی بڑی تبدیلی کی بنیاد بن رہی ہے؟
سندھ حکومت کا طویل ترین اقتدار اور عوامی محرومیاں، مسعود حسین جعفری
سندھ حکومت کا طویل ترین اقتدار اور عوامی محرومیاں سندھ پر پچھلے تقریباً 20 سال سے مسلسل ایک ہی جماعت کی حکومت ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا کسی بھی صوبے میں سب سے طویل بلاتعطل اقتدار ہے۔ مگر اس پورے عرصے میں عام آدمی کی زندگی میں کوئی واضح بہتری نظر نہیں آتی۔ بنیادی سہولیات کا بحران، کراچی سے لے کر اندرونِ سندھ تک، پینے کا صاف پانی آج بھی لاکھوں لوگوں کے لیے خواب ہے۔ سرکاری اسکولوں کی 40% سے زیادہ عمارتیں کھنڈر بنی ہوئی ہیں، اور اسپتالوں میں نہ ڈاکٹر ہیں نہ دوائیں۔ سیوریج کا نظام تباہ حال ہے، اور ہر مون سون میں شہر دریا بن جاتے ہیں۔ اربوں روپے کے ترقیاتی بجٹ کے باوجود سڑکیں، پل اور اسکیمیں کاغذوں سے آگے نہیں بڑھتیں۔ کرپشن بطور نظام بنا دیا گیا ہے نیب، ایف آئی اے اور آڈیٹر جنرل کی رپورٹیں سالہا سال سے سندھ کے محکموں میں کھربوں روپے کی بے ضابطگیاں دکھا رہی ہیں۔ گندم اسکینڈل، پانی کے منصوبوں میں کمیشن، جعلی بھرتیاں، اور ترقیاتی فنڈز کا احتساب کے ادارے بھی سیاسی مصلحتوں کی نذر ہو جاتے ہیں اقتدار کے باوجود کارکردگی صفر اتنا طویل عرصہ کسی بھی حکومت کے لیے اپنی کارکردگی دکھانے کو کافی سے زیادہ ہوتا ہے۔ دبئی، سنگاپور جیسے شہر اس سے کم وقت میں بن گئے۔ مگر سندھ میں ہر الیکشن کے بعد وہی وعدے، وہی نعرے، اور وہی تباہ حال نظام ملتا ہے۔ تعلیم میں سندھ آج بھی باقی صوبوں سے پیچھے ہے، صحت کا بجٹ سب سے زیادہ ہونے کے باوجود اسپتالوں کی حالت بدترین ہے، اور کراچی جیسا ریونیو جنریٹ کرنے والا شہر کچرے اور ٹوٹی سڑکوں کی تصویر بنا ہوا ہے۔طویل ترین اقتدار کے باوجود اگر عوام کو پینے کا پانی، علاج، تعلیم اور روزگار نہ ملے، اور ہر منصوبہ کرپشن کی نذر ہو جائے، تو پھر یہ سوال بجا ہے کہ یہ اقتدار کس کے لیے تھا؟ عوام کے لیے یا صرف اقتدار کے مزے لوٹنے والوں کے لیے؟ اگر تبدیلی صرف اشتہاروں اور بیانات میں ہے، زمین پر نہیں، تو عوام کا یہ کہنا غلط نہیں کہ سوائے کرپشن کے کچھ نہیں ملا۔بات یہاں اختتام پذیر نہیں ہوتی بلکہ بڑھ جاتی ہے۔
فنڈز اور کرپشن سندھ کا ترقیاتی بجٹ ہر سال کھربوں میں ہوتا ہے
کراچی کے مسئلے صرف ایک پارٹی یا ایک شخصیت تک محدود نہیں، لیکن سندھ میں پیپلز پارٹی کی 2008 سے مسلسل حکومت اور وفاق میں اس کا اثرورسوخ ہونے کے باوجود کراچی کے بنیادی مسائل جوں کے توں ہیں۔ اس پر عوامی سطح پر شدید تنقید موجود ہے۔ اتنی طاقت و اختیار کے باوجود کراچی کے حالات کیوں خراب ہیں؟ گورننس کا بحران 18ویں ترمیم کے بعد زیادہ اختیارات صوبے کے پاس ہیں مگر کراچی کے بلدیاتی ادارے مالی اور انتظامی طور پر کمزور رکھے گئے۔ میئر کے پاس کچرا، پانی، سیوریج، ٹرانسپورٹ جیسے بنیادی اختیارات بھی پورے نہیں۔ نتیجہ جوابدہی کا فقدان ٹھہرا۔فنڈز اور کرپشن سندھ کا ترقیاتی بجٹ ہر سال کھربوں میں ہوتا ہے، کراچی سے سب سے زیادہ ٹیکس جمع ہوتا ہے، مگر زمین پر کام نظر نہیں آتا۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹس میں سندھ کے کئی منصوبوں میں بے ضابطگیاں ریکارڈ ہوئی ہیں۔ K-IV پانی منصوبہ، گرین لائن، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ جیسے منصوبے سالوں تاخیر اور لاگت بڑھنے کا شکار رہے۔انفراسٹرکچر کی تباہی سڑکیں، سیوریج، پانی کی فراہمی، بجلی، پبلک ٹرانسپورٹ ہر شعبہ بحران کا شکار ہے۔ ہر بارش میں شہر ڈوب جاتا ہے۔سیاسی مفادات کراچی کی 25+ قومی اسمبلی سیٹیں ہیں وفاق میں حصہ داری کے باوجود جب صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی ترجیحات نہیں ملتیں تو کراچی سینڈوچ بن جاتا ہے۔ MQM، PPP، PTI سب نے مختلف ادوار میں وعدے کیے مگر ڈیلیوری کمزور رہی۔اب آخری سوال یہی بنتا ہے کیا حالات بہتر ہو سکتے ہیں؟ جی ہاں، لیکن 3 چیزوں کے بغیر مشکل ہے پہلا حقیقی بلدیاتی نظام جب تک میئر اور مقامی حکومت کو مالی و انتظامی خودمختاری نہیں ملے گی، فنڈز اوپر ہی رکیں گے۔ دنیا کے ہر بڑے شہر کا ماڈل یہی ہے نیویارک، لندن، استنبول کا میئر بااختیار ہوتا ہے۔دوسرا احتساب نیب، FIA، اینٹی کرپشن کے کیسز بنتے ہیں مگر سزائیں کم ملتی ہیں۔ جب تک کرپشن کی سیاسی قیمت نہ لگے، فنڈز لیپس ہوتے رہیں گے۔تیسرا وفاق-سندھ ورکنگ ریلیشن K-IV، گرین لائن، کراچی سرکلر ریلوے جیسے منصوبے وفاق اور سندھ کے تعاون کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتے۔ سیاسی لڑائی میں شہر پس جاتا ہے۔زرداری لیگ کا یہ مؤقف ہے کہ وہ جمہوری مینڈیٹ سے حکومت میں ہیں اور سندھ میں ترقیاتی کام ہوئے ہیں۔ تھر کول، صحت کارڈ، امن و امان میں بہتری کو وہ اپنی کامیابی بتاتے ہیں۔ ناقدین کہتے ہیں کہ کراچی کو جان بوجھ کر محروم رکھا گیا کیونکہ یہاں PPP کا ووٹ بینک کمزور ہے۔ سچ غالباً بیچ میں ہے – نظام میں خرابی ہے جس کا فائدہ طاقتور طبقے اٹھاتے ہیں، چاہے وہ کسی بھی پارٹی سے ہوں۔ کراچی تباہ نہیں ہوا مفلوج کیا گیا ہے۔ اس شہر نے 50 سال میں 3 کروڑ آبادی سمو لی، پھر بھی پاکستان کا 55% ایکسپورٹ اور 65% ریونیو دیتا ہے۔ اس میں واپسی کی طاقت ہے۔ سپریم کورٹ کی مداخلت پر کئی تجاوزات ہٹیں، نالوں کی صفائی ہوئی۔ نوجوان آبادی، پرائیویٹ سیکٹر، اور عدالتی ایکٹوازم پریشر بنا رہے ہیں۔بہتری ایک دن میں نہیں آئے گی۔ اس کے لیے ووٹر کا پریشر، عدالتی نگرانی، اور بلدیاتی اداروں کو بااختیار کرنا ضروری ہے۔ جب تک کراچی کا شہری اپنے ٹیکس کے بدلے سوال نہیں کرے گا، کوئی بھی “مافیا” خود سے نہیں ہٹے گا۔
امن مذاکرات کے دوسرے دور میں ایران کی شرکت ممکن نہیں! مسعود حسین جعفری
امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران کا ٹول ادا کرنے والے کسی بھی جہاز کو روک دیا جائے گا
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بحریہ نے خلیج عمان میں ایرانی پرچم والے مال بردار بحری جہاز _توسکا_ کو اس وقت قبضے میں لے لیا جب اس نے آبنائے ہرمز کی امریکی بحری ناکہ بندی کو چلانے کی کوشش کی۔ ڈسٹرائر USSSpruance نے جہاز کے انجن روم میں اس وقت فائر کیا جب عملے نے رکنے کی وارننگ کو نظر انداز کر دیا، اور پھر یو ایس میرینز نے سوار ہو کر جہاز کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ٹرمپ نے پوسٹ کیا کہ Touska تقریباً 900 فٹ لمبا ہے اور اس پر سابقہ غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے امریکی ٹریژری پابندیوں کے تحت ہے۔ CENTCOM نے چھ گھنٹے کے تعطل اور پروپلشن کو غیر فعال کرنے کے لیے ڈسٹرائر کی 5 انچ بندوق کے استعمال کی تصدیق کی۔ ایران کا جواب میں تہران نے قبضے کو مسلح بحری قزاقی قرار دیا اور متنبہ کیا کہ وہ جلد جوابی کارروائی کرے گا۔ایران کے سرکاری میڈیا نے کہا کہ ایران جاری ناکہ بندی اور ٹرمپ کے نئے فضائی حملوں کی دھمکی کا حوالہ دیتے ہوئے امن مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت نہیں کرے گا۔ایران کی فوج نے کہا کہ جہاز چین سے سفر کر رہا تھا اور اس نے جوابی کارروائی کا عزم کیا۔ اسلام آباد میں جنگ بندی کے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکہ نے ایرانی امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا جانے والے جہازوں کو روکنا۔ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا جانے والے جہازوں کو روکنا شروع کر دیا۔ایران نے فروری 2026 کے آخر سے آبنائے ہرمز کو زیادہ تر ٹریفک کے لیے مؤثر طریقے سے بند کر دیا ہے، سوائے ایران کے زیر کنٹرول جہازوں کے، جس نے تیل کی قیمتوں کو $100 فی بیرل سے اوپر دھکیل دیا ہے۔دونوں فریق ایک دوسرے پر دو ہفتے کی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہیں جو منگل کو ختم ہونے والی تھی۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران کا ٹول ادا کرنے والے کسی بھی جہاز کو روک دیا جائے گا، جبکہ ایران نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے کے قریب کسی بھی فوجی جہاز کو جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔ امریکی ناکہ بندی اور ایران کے جوابی اقدامات کی وجہ سے ہرمز کے راستے سمندری آمدورفت بدستور محدود ہے۔ خبروں پر تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، اور عالمی منڈیوں میں جنگ بندی کے خاتمے پر بے چینی ہے۔ امریکی فوج نے ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کرنے پر ایک ایرانی مال بردار جہاز کو پکڑ لیا، اور ایران نے جوابی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے مذاکرات کے اگلے دور سے دستبرداری اختیار کر لی ہے۔ خطے میں امن اس وقت متزلزل نظر آ رہا ہے، اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ شپنگ میں خلل ہے۔

You must be logged in to post a comment.