Constitution

آئین پاکستان آرٹیکل 4, 10, 12, 13, 14 کی

کھلی نفی یا تصادم۔

دستور پاکستان کے تحت ہر شخص کے حق انصاف کو تحفظ دیا گیا ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ معاشرے میں عدل وانصاف ہوگا جس کا نفاذ بلا امتیاز و تفریق ہر ایک کے لیے یکساں ہوگا تاکہ معاشرے میں امن وامان اور حقوق کا تحفظ ہو سکے۔

دستور کی دفعہ 4 میں کہا گیا ہے کہ ہر شخص کا یہ فطری حق ہے کہ اسے قانون کا تحفظ اور اس کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک ہو اور کوئی ایسا ایکشن نہیں ہوگا جو اس کی جان و مال عزت و آزادی اور Reputation کو نقصان دے۔ علاؤ ازیں کسی بھی شخص کو کسی ایسے کام سے بھی نہیں روکا جا سکتا جو قانونی ہو ممنوع نہ ہو اور کسی ایسے کام کے لیے مجبور نہیں کیا جاسکتا جو قانونی طور پر ممنوع ہو۔

آرٹیکل 10 کے تحت یہ لازم قرار دیا گیا ہے کہ کسی بھی شخص کو حراست میں نہیں رکھا جاسکتا جب تک اسے اسکی گرفتاری کی وجہ نہ بتا دی گئی ہو اور اسے حق دیا گیا ہے کہ وہ اپنے دفاع میں اپنی مرضی کا وکیل کرے۔

مزید برآں جس شخص کو گرفتار کیا جائے گا 24 گھنٹوں کے اندر کسی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا اور اسے حراست میں نہیں رکھا جائے گا جب تک کہ کسی متعلقہ عدالت سے ایسا قانونی حکم نہ حاصل کر لیا گیا ہو۔

آرٹیکل 12 کے تحت یہ لازم کیا گیا ہے کہ کسی شخص نے جب کسی فعل کا ارتکاب کیا ہو اس وقت وہ فعل جرم نہ قرار دیا گیا ہو تو اسے سزا نہیں دی جاسکتی اور نہ ہی اس وقت مقرر شدہ سزا سے زیادہ دی جاسکتی ہے ۔

آرٹیکل 13 میں دیدی سزا سے تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ یعنی کسی شخص کو ایک ہی جرم میں ایک سے زائد سزائیں نہیں دی جاسکتیں۔

آرٹیکل 14 میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی شخص کو کسی بیان یا اقبال جرم کے لیے تشدد ٹارچر نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اسے اسکے اپنے خلاف گواہی کے لیے مجبور کیا جاسکتا ہے۔