Featured

What are the responsibilities of caretaker government?

By: Masood Hussain Jaffri (VON)

A caretaker government assumes power and responsibility temporarily when the incumbent government completes its term or is unable to function effectively due to specific circumstances such as elections, political transitions, or emergency situations. During this period, the caretaker government carries out essential functions to ensure stability and facilitate a smooth transition of power.

The primary responsibilities of a caretaker government are as follows:

1. Conducting Elections: One of the crucial tasks of a caretaker government is to oversee the electoral process impartially and ensure free and fair elections. It must ensure that all necessary arrangements are in place, voter registration is accurate, and electoral laws are strictly followed. This responsibility aims to guarantee the legitimacy and transparency of the electoral process.

2. Maintaining Law and Order: Another critical duty of a caretaker government is to maintain law and order within the country. It must ensure that public safety and security are upheld, and any potential threats or disturbances are effectively addressed. This responsibility is vital to provide a conducive environment for the electoral process and safeguard the rights of citizens.

3. Administering Government Affairs: The caretaker government assumes temporary administrative powers to ensure the continued functioning of essential government affairs during the transitional phase. This includes managing public finances, public services, and day-to-day governance. However, it should exercise restraint and refrain from making major policy decisions that could encroach upon the mandate of the future elected government.

4. Facilitating a Seamless Transition: A caretaker government acts as a facilitator for the incoming government, ensuring a seamless transition of power. It coordinates with the incoming administration, provides necessary information, assists in handing over responsibilities, and offers guidance on matters of national importance. This responsibility aims to promote stability and continuity in governance.

5. Acting as a Public Trustee: As a caretaker, the government holds a position of trust and must act in the best interests of the nation. It should demonstrate impartiality, transparency, and accountability in all its decisions and actions. This responsibility helps maintain public confidence in the transitional process and ensures that the caretaker government fulfills its duties with integrity.

In conclusion, a caretaker government assumes crucial responsibilities such as conducting elections, maintaining law and order, administering government affairs, facilitating a seamless transition, and acting as a public trustee. These functions are vital in upholding democratic principles, preserving stability, and ensuring a smooth transfer of power within a nation.

اعزازات قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں، جب یہ سرمایہ غیر مستحق ہاتھوں میں چلا جائے تو قوم کا حوصلہ ٹوٹتا ہے، مسعود حسین جعفری

تمغہ امتیاز ریاست کا وہ اعزاز ہے جو قربانی، علم، فن اور وطن سے وفا کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جب یہ تمغہ میرٹ کے بجائے سفارش، تعلق اور سیاسی مفاد کی بنیاد پر بانٹا جائے تو یہ اعزاز نہیں رہتا بلکہ ایک مذاق بن جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں جو تقسیم ہوئی اس نے قوم کے زخموں پر نمک چھڑک دیا ہے۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ان عناصر کو تمغوں سے نوازا گیا جن کا ماضی داغدار رہا۔ وہ لوگ جن کے فیصلوں سے وطن عزیز کو معاشی، سیاسی اور سماجی نقصان پہنچا، جن کی پالیسیوں سے ادارے کمزور ہوئے اور عوام کا اعتماد گرا، آج سینے پر تمغے سجائے قوم کے سامنے کھڑے ہیں۔ جب تاریخ کے مجرموں کو ہیرو بنا دیا جائے تو نئی نسل کیا سبق سیکھے گی؟ یہ عمل نہ صرف تمغہ امتیاز کی ناقدری ہے بلکہ اس ادارے کی بے عزتی ہے جس کے نام پر یہ دیا جاتا ہے۔ اس منظر پر پوری قوم کا سر شرم سے جھک گیا۔اس سے بھی بڑا المیہ تعصبی رویہ ہے جو اس تقریب میں عیاں ہوا۔ دیگر صوبوں کی خدمات، قربانیاں اور صلاحیتیں یکسر نظر انداز کر دی گئیں۔ سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان سے ایسے نام تھے جو اس اعزاز کے اصل حقدار تھے، مگر فہرست میں انہیں جگہ نہ مل سکی۔ اس کے برعکس وفاق اور پنجاب کی بناوٹی قیادت کو خصوصی طور پر مدعو کر کے ایک ایک ایسا فیصلہ سامنے آیا جس نے فاصلوں کو مزید گہرا کر دیا اور عوام کو مایوس کر دیا۔فیلڈ مارشل کے عہدے سے توقع تھی کہ وہ قوم کو جوڑنے والا، حوصلہ دینے والا پیغام دیں گے۔ قوم کو لگا تھا کہ شاید یہ موقع اتحاد، مساوات اور میرٹ کے فروغ کے لیے استعمال ہوگا۔ لیکن ہوا اس کے برعکس۔ ایک ایسا فیصلہ سامنے آیا جس نے فاصلوں کو مزید گہرا کر دیا اور عوام کو مایوس کر دیا۔ اعزازات قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ جب یہ سرمایہ غیر مستحق ہاتھوں میں چلا جائے تو قوم کا حوصلہ ٹوٹتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آئندہ تمغہ امتیاز کی تقسیم شفاف، غیر سیاسی اور تمام صوبوں کی نمائندگی کی بنیاد پر ہو، تاکہ یہ اعزاز اپنی کھوئی ہوئی عزت واپس پا سکے۔

ایم کیو ایم میں دراڑیں گہری، ووٹ بینک خطرے میں،بہادر آباد کا فیصلہ یا لندن کا بیانیہ! مسعود حسین جعفری

ایم کیو ایم پاکستان برسوں سے اندرونی اختلافات کا شکار رہی ہے۔ اصل چپقلش بنیادی طور پر دو دھاروں کے درمیان ہے: ایک طرف “بانی ایم کیو ایم” کے بیانیے سے جڑے کارکن، دوسری طرف بہادر آباد قیادت جو ریاستی اداروں اور موجودہ سیاسی نظام کے ساتھ بقا کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ حالیہ دنوں میں یہ اختلافات پھر سر اٹھا رہے ہیں کیونکہ کراچی کی بلدیاتی نمائندگی، سیٹ ایڈجسٹمنٹ اور پارٹی کے اندر فیصلہ سازی پر کسی ایک مرکز کا کنٹرول نہیں رہا۔سوال یہ ہے کہ اب آگے کیا ہو سکتا ہے؟ کیا مزید دھڑے بندی کا جواز بنایا جائے گا؟ اگر قیادت کسی متفقہ بیانیے پر نہیں آتی تو کارکنوں کی وفاداریاں تقسیم ہوتی رہیں گی۔ بہادر آباد گروپ عملی سیاست میں مصروف ہے، جبکہ لندن سے بیانیہ اب بھی جذباتی ووٹ بینک کو متحرک کرتا ہے۔ دونوں کو ایک ساتھ لے کر چلنا مشکل ہو گیا ہے۔پیپلزپارٹی، جے یو آئی اور نئی مقامی جماعتیں کراچی میں ایم کیو ایم کا ووٹ بینک کھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اندرونی لڑائی سے پارٹی کا انتخابی اثر کم ہو گا، خاص کر نوجوان ووٹر متبادل تلاش کریں گے۔اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی اتحادی دونوں چاہتے ہیں کہ ایم کیو ایم ایک پلیٹ فارم پر رہے تاکہ کراچی میں استحکام رہے۔ اس لیے باہر سے “مفاہمت” کا پریشر بڑھے گا، مگر اندرونی اعتماد کی کمی رکاوٹ بنے گی۔اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بات بالکل واضح ہوجاتی ہے۔ایم کیو ایم کی اصل طاقت کراچی کے مہاجر طبقے کی نمائندگی تھی۔ جب تک پارٹی اپنے بیانیے کو نئی نسل کے مسائل روزگار، پانی، ٹرانسپورٹ سے جوڑ کر متحد نہیں کرتی، قیادت کی چپقلش صرف اندرونی بیانات تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ووٹ اور اثر دونوں گنوا دے گی۔ بقا کا راستہ یا تو مکمل مفاہمت ہے یا پھر ایک نیا، نوجوان قیادتی ڈھانچہ جو ماضی کے بوجھ سے آزاد ہو۔

محسن نقوی کا بیان،حکومت کے لیے ریڈ الرٹ،ملک میں ہلچل، “ہم سے نہیں سنبھل رہا” مسعود حسین جعفری

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان کے بعد ملک بھر میں سیاسی اور انتظامی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ ان کے بیان کو موجودہ حکمرانی کے بیانیے کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق نقوی نے اپنے بیان میں موجودہ حکومت کی کارکردگی، عوامی مسائل اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار پر کھل کر بات کی۔ بیان سامنے آتے ہی اسلام آباد سے لے کر کراچی تک سیاسی گلیاروں میں فوری مشاورتیں شروع ہو گئیں۔ ملٹری اسٹبلشمنٹ کے اندر بھی اس بیان کو سنجیدگی سے لیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سخت الفاظ کسی ذمہ دار وفاقی وزیر سے سامنے آنے کے بعد اداروں میں گھبراہٹ کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے، کیونکہ اس سے ریاست کے اندر پالیسی ہم آہنگی پر سوالات اٹھتے ہیں۔دوسری طرف ن لیگ اور زرداری لیگ کے رہنماؤں میں شدید بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔ دونوں جماعتوں کے ترجمان میڈیا پر ایک دوسرے کا دفاع کرتے نظر آئے، لیکن اندرون خانہ اجلاسوں میں حکومت کے مستقبل اور اتحادی ڈھانچے پر کھلی بحث ہوئی۔ پارٹی کارکن بھی سوشل میڈیا پر سوال کر رہے ہیں کہ مہنگائی، بے روزگاری اور امن و امان کی صورتحال کے بعد اب حکومت کے پاس عوام کو جواب دینے کے لیے کیا بچا ہے۔عوام کا ردعمل سب سے سخت ہے۔ مختلف شہروں میں عام شہریوں، وکلا، تاجروں اور طلبہ کی گفتگو میں یہی بات سنائی دے رہی ہے کہ موجودہ سیٹ اپ عوامی مینڈیٹ سے محروم ہے اور اب حکومت میں رہنے کا کوئی اخلاقی یا سیاسی جواز باقی نہیں رہا۔ لوگ سڑکوں پر مہنگائی اور لوڈشیڈنگ کا رونا رو رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ جب حکومت کے اپنے وزراء ہی مایوسی کا اظہار کریں تو پھر تبدیلی ناگزیر ہو جاتی ہے۔مجموعی طور پر محسن نقوی کے بیان نے اس بحث کو ہوا دے دی ہے کہ ملک کس سمت جا رہا ہے، اور اگلے چند دن سیاسی طور پر فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

جب ووٹ نہ ملا تو گولی چلائی،مکروہ چہرے بے نقاب، کشمیریوں کا فیصلہ! مسعود حسین جعفری

ن لیگ اور زرداری لیگ کا اصل چہرہ اب کشمیریوں کے سامنے کھل چکا ہے۔ برسوں تک یہ اقتدار پرست جماعتیں کشمیر کے نام پر تقریں کرتی رہیں، قراردادوں کے وعدے کرتی رہیں، لیکن عملی طور پر کشمیر کو بھی سندھ، پنجاب اور بلوچستان کی طرح ایک جاگیر سمجھ کر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ ان کا مقصد کشمیریوں کے حقوق نہیں تھے، مقصد صرف اسلام آباد اور لندن میں بیٹھ کر کرسیاں بچانا تھا۔کشمیری قوم نے بہت صبر کیا۔ انہوں نے ان کے جھوٹے بیانیے، فوٹو سیشن اور خالی نعرے دیکھے۔ جب کشمیریوں نے سوال کیا کہ ہمارے زخموں کا مداوا کب ہوگا، ہمارے شہیدوں کے قاتل کب پکڑے جائیں گے، ہمارے بچوں کے مستقبل کا کیا ہوگا تو ان اقتدار پرستوں کے پاس جواب نہیں تھا۔ کشمیریوں نے جب انکار کیا، جب مسترد کر دیا، تو ان کے اصل مکروہ چہرے سامنے آ گئے۔مکالمے کی بجائے دھمکی، سیاست کی بجائے طاقت اور دلیل کی بجائے گولی کو ہتھیار بنایا گیا۔ جن لوگوں نے جمہوریت کا لیکچر دیا تھا وہی آج کشمیریوں پر بندوق تان رہے ہیں۔ جنہوں نے خود کو عوام کا خادم کہا تھا وہی آج کشمیری نوجوانوں کو شہید کر رہے ہیں۔لیکن کشمیری ثابت قدم ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ کشمیر کی سرزمین نے ہمیشہ ظالم کو مسترد کیا ہے۔ آج بھی کشمیری یہ واضح کر چکے ہیں کہ وہ کسی کی غلامی قبول نہیں کریں گے۔ ۔ لیگ اور زرداری لیگ چاہے جتنا زور لگا لیں، کشمیریوں کے عزم کو بندوق سے نہیں دبایا جا سکتا۔ خون کے دھبے ان کے دامن پر ہیں اور کشمیری اب ان کا پول کھول کر رہیں گے۔

کشمیری عوام لاہور اور لاڑکانہ کو کسی صورت قبول کرنے کو تیار نہیں! مسعود حسین جعفری

آزاد کشمیر میں حالیہ دنوں جو کچھ ہوا اس نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ ن لیگ اور زرداری لیگ اپنی اقتدار کی بھوک میں کسی حد تک جانے سے گریز نہیں کرتیں۔ کشمیر کے عوام دہائیوں سے حق خودارادیت، مہنگائی، آٹے اور بجلی کے بلوں میں ریلیف کے لیے پرامن احتجاج کر رہے تھے۔ لیکن ان دونوں جماعتوں نے اپنے ناپاک ہتھکنڈوں سے اس پرامن تحریک کو سبوتاژ کرنے کی کوش کی۔ن لیگ نے ہمیشہ اسلام آباد سے بیٹھ کر کشمیر کو صرف ووٹ بینک سمجھا۔ جب عوام سڑکوں پر نکلے تو اس کی مقامی قیادت نے مذاکرات کے بجائے طاقت کا استعمال بہتر سمجھا۔ پولیس اور انتظامیہ کو آگے کر کے نوجوانوں پر لاٹھی چارج کروایا گیا، گرفتاریاں کی گئیں، اور میڈیا پر پابندیاں لگا کر اصل صورتحال چھپانے کی کوش ہوئی۔ دوسری طرف زرداری لیگ نے بھی ماضی کی طرح موقع پرستی کا راستہ اپنایا۔ ایک طرف بیانات میں کشمیریوں سے ہمدردی کے دعوے، اور دوسری طرف اقتدار کی خاطر اسی مکاری چالبازی بندوق کے ذریعے عوامی تحریک کے خلاف بیانیہ بنایا۔ دونوں جماعتوں نے کشمیر کے اندر اپنی اپنی گروپ بندیوں کو فنڈز اور سرکاری مشینری دی تاکہ اصل عوامی نمائندوں کی آواز دبائی جا سکے۔ اس ٹکراؤ میں کئی بے گناہ کشمیری زخمی ہوئے اور کچھ جانوں کا ضیاع بھی ہوا۔ یہ خون دونوں جماعتوں کی اقتدار کی سیاست کی بھینٹ چڑھا۔سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ طاقتوروں نے ان دونوں کو کھلی سپورٹ دی۔ جس مقصد کے لیے کشمیر بنا تھا، یعنی عوام کی مرضی، اسے پس پشت ڈال کر اقتدار کی کرسی بچانے کے لیے ان جماعتوں کو شیلٹر فراہم کیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج کشمیری یہ سوال کر رہے ہیں کہ اگر اسلام آباد لاہور لاڑکانہ کی جماعتیں ہی ہمارے خون سے ہولی کھیلیں گی تو پھر فرق کیا رہ گیا؟ کشمیر کے لوگ اب شعور رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جب تک ن لیگ اور زرداری لیگ جیسی روایتی جماعتیں کشمیر کو صرف سیٹوں اور وزارتوں کی منڈی سمجھیں گی، اور جب تک طاقتوروں کی طرف سے ان کو بیساکھیاں ملتی رہے گی، تب تک کشمیریوں کے زخم نہیں بھریں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ فیصلہ کشمیری خود کریں، نہ کہ اسلام آباد کی کسی ڈیل کے تحت۔

عرب ممالک میں اسرائیلی اڈوں پر حملے، پاکستانی کرپٹ عناصر میں بے چینی! مسعود حسین جعفری

ایران کے عرب ممالک میں قائم اسرائیلی اڈوں پر حملے مشرقِ وسطیٰ کی طاقت کا توازن بدل رہے ہیں۔ اس سے خطے میں نئی صف بندی شروع ہو گئی ہے اور ہر ملک کو اپنا موقف واضح کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان کے کچھ کرپٹ عناصر اس لیے بے چین ہیں کیونکہ ان کے مفادات بیرونی طاقتوں اور خلیجی سرمایہ سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان لوگوں نے ماضی میں دوغلی پالیسی اپنائی: ایک طرف عوام کے سامنے مزاحمت اور خودمختاری کی بات، دوسری طرف پردے کے پیچھے ایسے معاہدے اور تعلقات جو قومی مفاد سے زیادہ ذاتی فائدے کے لیے تھے۔ جب ایران کھل کر اسرائیلی موجودگی کو نشانہ بناتا ہے تو یہ دوغلا بیانیہ بے نقاب ہو جاتا ہے۔ اس بے نقابی سے دو نقصان ہوتے ہیں۔ پہلا، ان کے بیرونی سرپرست ناراض ہوتے ہیں اور فنڈنگ یا ویزے بند ہونے کا خوف بڑھ جاتا ہے۔ دوسرا، عوام کو سچ نظر آتا ہے اور سوشل میڈیا پر سوال اٹھتے ہیں کہ پالیسی کیا ہے۔ اسی تضاد کی وجہ سے ملک و قوم میں نفرت پھیل رہی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ قیادت اصولوں پر نہیں، مفادات پر فیصلے کر رہی ہے۔ جب عوام کو لگے کہ حکمران دباؤ میں آ کر قوم کے جذبات بیچ رہے ہیں تو اعتماد ٹوٹتا ہے اور مایوسی نفرت میں بدل جاتی ہے۔

کشمیریوں نے واضح کر دیا وہ زرداری لیگ و سہولت کاروں کی جبری حکمرانی قبول نہیں کریں گے، مسعود حسین جعفری

آزاد کشمیر کے عوام آج ایک بار پھر اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہیں۔ کشمیری پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے واضح کر دیا ہے کہ وہ بلاول بھٹو زرداری کی جبری سیاست کو کسی صورت تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ ذرائع کے مطابق بلاول اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر کشمیر میں اپنی زبردستی کی ڈکٹیٹرشپ مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ منصوبہ یہ ہے کہ مقامی جماعتوں کو دیوار سے لگا کر فیصلے اسلام آباد سے مسلط کیے جائیں، اور کشمیریوں کی نمائندہ آواز کو دبایا جائے۔ کشمیریوں کا موقف ہے کہ ان کے وسائل، خودمختاری اور سیاسی فیصلوں پر پہلے ہی سمجھوتے کیے جا چکے ہیں۔ اب ایک نئی سازش کے تحت کشمیری پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو حاشیے پر دھکیل کر ایک ہی جماعت کی اجارہ داری قائم کی جا رہی ہے تاکہ عوامی مزاحمت کو کچلا جا سکے۔عوام سوال کر رہے ہیں کہ جب کشمیر کے اندر جمہوری جماعتیں موجود ہیں تو باہر سے مسلط کردہ قیادت کی کیا ضرورت ہے؟ بلاول پر الزام ہے کہ وہ کشمیریوں کے بنیادی حقوق غضب کرنے اور اسٹیبلشمنٹ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی سازش میں ملوث ہیں۔ کشمیری رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ کسی ڈکٹیٹ کیے گئے فیصلے کو نہیں مانیں گے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ کشمیر کا مستقبل کشمیری خود طے کریں، نہ کہ بیرونی دباؤ یا ذاتی اقتدار کی خواہش پر۔

خطے کی نئی سیاست، حکومتی موقف،اسرائیل نواز مذہبی بیانیہ، مسعود حسین جعفری

پاکستان میں بھی اب صورتحال دیگر اسلامی ممالک جیسی بنتی جا رہی ہے جہاں مذہبی طبقہ کھل کر اسرائیل کی حمایت میں سامنے آ رہا ہے۔ کئی پاکستانی مولوی ٹی وی چینلز، جمعہ کے خطبات اور سوشل میڈیا پر ایران کو اصل فتنہ قرار دے کر اسرائیل کے موقف کو بالواسطہ درست ثابت کر رہے ہیں۔ ان کا بیانیہ یہ ہے کہ خطے کا اصل خطرہ ایران ہے، اور اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانا وقت کی ضرورت ہے۔اس میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی خاموش رضامندی بھی شامل ہے۔ پالیسی سطح پر جب تعلقات کو نرم کرنے کے اشارے دیے جاتے ہیں تو مذہبی طبقے کو گرین سگنل مل جاتا ہے کہ وہ عوام کو ذہنی طور پر تیار کرے۔ اسی لیے اب ایسے مولوی سامنے آ رہے ہیں جو فلسطین کے بجائے “امت کی وحدت” اور “ایرانی توسیع پسندی” کے خلاف تقریریں کر رہے ہیں۔پاکستانی مولویوں کا سب سے اہم کردار ایران مخالف بیانیہ بنانا ہے۔ وہ شیعہ-سنی تفریق کو ہوا دے کر ایران کو امت کا دشمن ثابت کرتے ہیں اور ساتھ ہی اسرائیل کو ایک حقیقت کے طور پر قبول کرنے کا جواز فراہم کرتے ہیں۔ یوں مذہب، سیاست اور اسٹیبلشمنٹ کی لائن ایک ہی سمت میں جاتی دکھائی دے رہی ہے: ایران کے خلاف صف بندی اور اسرائیل سے ممکنہ مفاہمت کی راہ ہموار کرنا۔

آئین پاکستان جمہوری نظام، بنیادی حقوق، آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا اور جوابدہی کا تقاضا کرتا ہے، مسعود حسین جعفری

پاکستان کی موجودہ سیاسی و سماجی صورتحال انتہائی اختصار سے یہ ہے کہ پاکستان میں کئی دہائیوں سے سول، فوجی اور مخلوط حکومتی ادوار آتے رہے ہیں۔ آئین پاکستان جمہوری نظام، بنیادی حقوق، آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا اور جوابدہی کا تقاضا کرتا ہے۔ جب بھی آمریت، ڈکٹیٹرشپ یا غیر جمہوری مداخلت کا ذکر ہوتا ہے تو اس سے مراد وہ ادوار لیے جاتے ہیں جن میں منتخب نمائندوں کے بجائے غیر آئینی طریقے سے اقتدار سنبھالا گیا، بنیادی حقوق معطل ہوئے، یا سیاسی مخالفین پر کریک ڈاؤن ہوا۔ “ظلم و جبر”، “فرعونیت” اور “شہریوں کا قتلِ عام” جیسے الفاظ عام طور پر انسانی حقوق کی پامالیوں، لاپتہ افراد، ماورائے عدالت کارروائیوں اور پرتشدد واقعات پر عوامی ردعمل میں استعمال ہوتے ہیں۔ کھلی کرپشن کا بیانیہ شفافیت، احتساب کے اداروں کی کارکردگی اور بڑے مالی اسکینڈلز سے جڑا ہے۔ 2 خاندان بندوق کے زور پر مسلط ایک سیاسی نعرہ ہے جو مخصوص سیاسی گھرانوں کے تسلط اور اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر تنقید کے لیے بولا جاتا ہے، مگر اس کی تصدیق کے لیے آئینی، عدالتی اور انتخابی ریکارڈ دیکھنا ضروری ہے۔ جمہوری استحکام کے لیے آزاد انتخابات، اداروں کی حدود کا احترام، قانون کی حکمرانی اور شہری آزادیوں کا تحفظ کلیدی تقاضے ہیں۔

“ڈیجیٹل سندھ” اور “گرین انرجی” جیسے الفاظ استعمال کر کے بجٹ کو جدید دکھانے کی کوشش کی گئی! مسعود حسین جعفری

سندھ حکومت نے رواں مالی سال کا بجٹ پیش کر دیا، لیکن حقیقت میں یہ بجٹ عوام کی توقعات پر پورا اترنے کے بجائے صرف الفاظ کا ہیر پھیر لگتا ہے۔ تقریر میں “ترقی، خوشحالی اور عوام دوست اقدامات” کے نعرے تو بہت بلند کیے گئے، مگر زمینی سطح پر کوئی ٹھوس لائحہ عمل نظر نہیں آیا۔ تعلیم اور صحت کے لیے بڑے اعلانات کیے گئے، لیکن پچھلے سالوں کی طرح فنڈز کی اصل تقسیم اور خرچ کا طریقہ کار مبہم رکھا گیا۔ کراچی، حیدرآباد اور اندرونِ سندھ کی سڑکوں، پانی اور نکاسی کے مسائل پر پرانے وعدے ہی دہرا دیے گئے۔ نئے منصوبوں کے نام تو رکھ دیے گئے، مگر ان کی تکمیل کی کوئی واضح ٹائم لائن نہیں دی گئی۔ ٹیکس اور سبسڈی کے اعداد و شمار کو اس طرح پیش کیا گیا کہ سننے میں ریلیف لگے، مگر مہنگائی کے تناسب سے دیکھا جائے تو عام آدمی کی جیب پر بوجھ ہی بڑھے گا۔ “ڈیجیٹل سندھ” اور “گرین انرجی” جیسے الفاظ استعمال کر کے بجٹ کو جدید دکھانے کی کوش کی گئی، مگر عملی منصوبہ بندی غائب ہے۔مجموعی طور پر یہ بجٹ مسائل کا حل کم اور لفظی دلاسہ زیادہ لگتا ہے۔ کاغذ پر سب کچھ بہتر ہے، مگر عوام کو اس سے کتنا فائدہ پہنچے گا، یہ وقت ہی بتائے گا۔