پاکستان کا قیام ہی اس وعدے پر ہوا تھا کہ یہاں عوام خود مختار ہوں گے۔ آئین نے بنیادی حقوق دیے، جمہوریت کا نعرہ لگایا، اور ریاست کو عوام کی خادم کہا گیا۔ مگر 76 سال بعد سوال یہ ہے کہ کیا حکمران واقعی عوام کے حقوق کے محافظ ہیں یا انہی حقوق کو غضب کرنے والے سب سے بڑے دشمن؟ جب ریاست خود عوام سے ان کا رزق، انصاف، آزادیٔ اظہار اور عزتِ نفس چھین لے تو ملک ٹوٹنے سے نہیں بچ سکتا اور عوام کا بپھر جانا فطری ردعمل بن جاتا ہے۔مہنگائی، بے روزگاری اور ٹیکسوں کا بوجھ عام آدمی کی کمر توڑ چکا ہے۔ بجلی، گیس، پیٹرول کی قیمتیں ہر ماہ بڑھتی ہیں، مگر تنخواہیں وہیں کی وہیں ہیں۔ کسان کی فصل کوڑیوں کے بھاؤ بکتی ہے اور کارخانے بند ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف حکمران طبقہ، بیوروکریسی اور اشرافیہ مراعات، پلاٹوں، مفت پٹرول اور غیر ملکی دوروں سے مستفید ہو رہی ہے۔ جب ایک طرف اشرافیہ عیش کرے اور دوسری طرف ماں اپنے بچے کے لیے دودھ نہ خرید سکے تو سماجی معاہدہ ٹوٹ جاتا ہے۔ معاشی ناانصافی بغاوت کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے۔آئین ہر شہری کو برابر کا حق دیتا ہے، مگر عملی طور پر قانون صرف کمزور کے لیے ہے طاقتور کے لیے الگ قانون الگ عدالتیں الگ سہولتیں تھانے میں غریب کی ایف آئی آر نہیں کٹتی، مگر بااثر کا فون آتے ہی مقدمے ختم۔ جبری گمشدگیاں جھوٹے مقدمات اور میڈیا پر پابندیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست عوام کو دشمن سمجھنے لگی ہے۔ جب عوام کو عدالتوں سے انصاف نہ ملے تو وہ سڑکوں پر نکلتا ہے، اور سڑک کا انصاف ہمیشہ خون مانگتا ہے۔جمہوریت کا مطلب عوام کی رائے ہے۔ لیکن جب مینڈیٹ چوری ہو، انتخابی عمل کو کنٹرول کیا جائے مخالف آوازوں کو غداری کے سرٹیفکیٹ دیے جائیں تو عوام اپنا سیاسی مستقبل خود طے کرنے کا حق کھو دیتا ہے۔ نوجوان، جو ملک کی 60 فیصد آبادی ہے، اپنے آپ کو اس نظام میں اجنبی محسوس کرتا ہے۔ جب ووٹ کی طاقت بے اثر ہو جائے تو لوگ پھر پتھر اور نعرے اٹھاتے ہیں۔تعلیم، صحت، صاف پانی جیسی بنیادی سہولتیں آج بھی خواب ہیں سرکاری اسکول کھنڈر اور اسپتال قبرستان بن چکے ہیں۔بلوچستان سابقہ فاٹا اور سندھ کے پسماندہ علاقے آج بھی ریاست کی توجہ کے منتظر ہیں جب ایک قوم کے بڑے حصے کو یہ احساس ہو کہ یہ ریاست ہماری نہیں بلکہ ان کی ہے تو علیحدگی کے بیانیے جنم لیتے ہیں مشرقی پاکستان کا سانحہ ہمیں یہی سبق دیتا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ کوئی قوم زیادہ دیر تک ظلم برداشت نہیں کرتی جب پیٹ خالی ہو انصاف نہ ملے آواز دبائی جائے اور مستقبل تاریک لگے تو خاموشی غصے میں بدل جاتی ہے۔ یہ غصہ پہلے احتجاج پھر تحریک اور آخر میں بغاوت کی شکل اختیار کرتا ہے۔ پاکستان جیسا کثیر القومی ملک اگر اپنے شہریوں کو برابر کے حقوق نہ دے تو اندرونی انتشار ناگزیر ہو جاتا ہے۔حکمرانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ریاست بندوق بجٹ اور بیانیے سے نہیں چلتی ریاست عوام کے اعتماد سے چلتی ہے جس دن یہ اعتماد ختم ہوا، اس دن نہ کوئی آئین بچے گا نہ سرحد نہ جھنڈا وقت ابھی ہے۔ حقوق لوٹا دیے جائیں انصاف قائم کیا جائے اور عوام کو اصل حکمران تسلیم کیا جائے ورنہ یہ بپھری ہوئی قوم اس نظام کو بہا لے جائے گی جس نے اسے دھتکارا ہے۔











You must be logged in to post a comment.