جب پیٹ خالی ہو انصاف نہ ملے آواز دبائی جائے اور مستقبل تاریک لگے تو خاموشی غصے میں بدل جاتی ہے!مسعود حسین جعفری

پاکستان کا قیام ہی اس وعدے پر ہوا تھا کہ یہاں عوام خود مختار ہوں گے۔ آئین نے بنیادی حقوق دیے، جمہوریت کا نعرہ لگایا، اور ریاست کو عوام کی خادم کہا گیا۔ مگر 76 سال بعد سوال یہ ہے کہ کیا حکمران واقعی عوام کے حقوق کے محافظ ہیں یا انہی حقوق کو غضب کرنے والے سب سے بڑے دشمن؟ جب ریاست خود عوام سے ان کا رزق، انصاف، آزادیٔ اظہار اور عزتِ نفس چھین لے تو ملک ٹوٹنے سے نہیں بچ سکتا اور عوام کا بپھر جانا فطری ردعمل بن جاتا ہے۔مہنگائی، بے روزگاری اور ٹیکسوں کا بوجھ عام آدمی کی کمر توڑ چکا ہے۔ بجلی، گیس، پیٹرول کی قیمتیں ہر ماہ بڑھتی ہیں، مگر تنخواہیں وہیں کی وہیں ہیں۔ کسان کی فصل کوڑیوں کے بھاؤ بکتی ہے اور کارخانے بند ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف حکمران طبقہ، بیوروکریسی اور اشرافیہ مراعات، پلاٹوں، مفت پٹرول اور غیر ملکی دوروں سے مستفید ہو رہی ہے۔ جب ایک طرف اشرافیہ عیش کرے اور دوسری طرف ماں اپنے بچے کے لیے دودھ نہ خرید سکے تو سماجی معاہدہ ٹوٹ جاتا ہے۔ معاشی ناانصافی بغاوت کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے۔آئین ہر شہری کو برابر کا حق دیتا ہے، مگر عملی طور پر قانون صرف کمزور کے لیے ہے طاقتور کے لیے الگ قانون الگ عدالتیں الگ سہولتیں تھانے میں غریب کی ایف آئی آر نہیں کٹتی، مگر بااثر کا فون آتے ہی مقدمے ختم۔ جبری گمشدگیاں جھوٹے مقدمات اور میڈیا پر پابندیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست عوام کو دشمن سمجھنے لگی ہے۔ جب عوام کو عدالتوں سے انصاف نہ ملے تو وہ سڑکوں پر نکلتا ہے، اور سڑک کا انصاف ہمیشہ خون مانگتا ہے۔جمہوریت کا مطلب عوام کی رائے ہے۔ لیکن جب مینڈیٹ چوری ہو، انتخابی عمل کو کنٹرول کیا جائے مخالف آوازوں کو غداری کے سرٹیفکیٹ دیے جائیں تو عوام اپنا سیاسی مستقبل خود طے کرنے کا حق کھو دیتا ہے۔ نوجوان، جو ملک کی 60 فیصد آبادی ہے، اپنے آپ کو اس نظام میں اجنبی محسوس کرتا ہے۔ جب ووٹ کی طاقت بے اثر ہو جائے تو لوگ پھر پتھر اور نعرے اٹھاتے ہیں۔تعلیم، صحت، صاف پانی جیسی بنیادی سہولتیں آج بھی خواب ہیں سرکاری اسکول کھنڈر اور اسپتال قبرستان بن چکے ہیں۔بلوچستان سابقہ فاٹا اور سندھ کے پسماندہ علاقے آج بھی ریاست کی توجہ کے منتظر ہیں جب ایک قوم کے بڑے حصے کو یہ احساس ہو کہ یہ ریاست ہماری نہیں بلکہ ان کی ہے تو علیحدگی کے بیانیے جنم لیتے ہیں مشرقی پاکستان کا سانحہ ہمیں یہی سبق دیتا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ کوئی قوم زیادہ دیر تک ظلم برداشت نہیں کرتی جب پیٹ خالی ہو انصاف نہ ملے آواز دبائی جائے اور مستقبل تاریک لگے تو خاموشی غصے میں بدل جاتی ہے۔ یہ غصہ پہلے احتجاج پھر تحریک اور آخر میں بغاوت کی شکل اختیار کرتا ہے۔ پاکستان جیسا کثیر القومی ملک اگر اپنے شہریوں کو برابر کے حقوق نہ دے تو اندرونی انتشار ناگزیر ہو جاتا ہے۔حکمرانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ریاست بندوق بجٹ اور بیانیے سے نہیں چلتی ریاست عوام کے اعتماد سے چلتی ہے جس دن یہ اعتماد ختم ہوا، اس دن نہ کوئی آئین بچے گا نہ سرحد نہ جھنڈا وقت ابھی ہے۔ حقوق لوٹا دیے جائیں انصاف قائم کیا جائے اور عوام کو اصل حکمران تسلیم کیا جائے ورنہ یہ بپھری ہوئی قوم اس نظام کو بہا لے جائے گی جس نے اسے دھتکارا ہے۔

اب تک اسرائیلی حملوں میں 3,020 افراد شہید ہوچکے ہیں! مسعود حسین جعفری

امریکہ کی ثالثی میں لبنان-اسرائیل کے درمیان 16-17 اپریل 2026 کو جنگ بندی ہوئی تھی، جسے بعد میں جون تک بڑھا دیا گیا۔ لیکن اس کے باوجود اسرائیلی حملے روزانہ کی بنیاد پر جاری ہیں۔ لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی نے 18 مئی کو جنوبی لبنان میں نصف درجن سے زیادہ مقامات پر اسرائیلی فضائی حملوں کی رپورٹ دی۔ایران-اسرائیل-امریکہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے ہلاکتیں 3000 سے زائد ہیں۔لبنان کی وزارت صحت کے مطابق 18 مئی 2026 تک اسرائیلی حملوں میں 3,020 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 292 خواتین اور 211 بچے شامل ہیں۔تازہ ترین تعداد 3,042 ہلاک ہوئے جن میں 211 بچے، 292 خواتین اور 116 میڈیکل ورکرز شامل ہیں۔جنگ کا آغاز 2 مارچ 2026 کو ہوا جب حزب اللہ نے اسرائیل پر فائرنگ کی یہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے 2 دن بعد ہوا تھا۔ایران-امریکہ-اسرائیل جنگ 28 فروری 2026 کو شروع ہوئی تھی۔ جنگ بندی 17 اپریل سے نافذ ہونے کے باوجود کم از کم 740 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ UN نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد سے کم از کم 127 شہری مارے گئے ہیں۔ جنوبی لبنان کے لوگوں کو روزانہ اسرائیلی حملے، مسماری اور بے دخلی کے احکامات کا سامنا ہے۔ اس تنازع کو امریکہ-اسرائیل کے ایران سے تنازع نے دوبارہ بھڑکایا۔ ایران نے کہا ہے کہ لبنان میں اسرائیل کی جنگ کا خاتمہ وسیع تر معاہدے کے لیے اس کی شرائط میں سے ایک ہے۔حزب اللہ مذاکرات کا حصہ نہیں ہے اور اس نے انہیں مسترد کر دیا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کے دوبارہ اسلحہ جمع کرنے کی کوشوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ 16 اپریل کی جنگ بندی کے باوجود 2 مارچ 2026 سے اب تک لبنان میں اسرائیلی حملوں سے ہلاکتوں کی تعداد 3,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔ زیادہ تر ہلاکتیں مارچ سے مئی کے درمیان ہوئیں اور جنگ بندی کے بعد بھی روزانہ حملے جاری ہیں۔

پاکستان کو معاشی طور پر خودمختار ہونے کا کوئی راستہ باقی ہے یا یہ انحصار اب مستقل ہو چکا ہے؟ مسعود حسین جعفری

بالکل یہی تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان کی مجبوری یہ ہے کہ “چاہے” اور “نہ چاہے” کا آپشن ہی محدود ہے۔سب سے بڑی معاشی مجبوری یہ ہے کہ اس وقت بھی IMF کا پروگرام چل رہا ہے اگر امریکہ ناراض ہو جائے تو فنڈنگ قرضوں کی ری شیڈولنگ اور ٹریڈ پریفرنس سب خطرے میں پڑ جاتے ہیں اس لیے واشنگٹن سے آنے والے اشارے کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہتا۔افغانستان دہشتگردی اور انٹیل شیئرنگ میں ابھی بھی امریکہ سے رابطہ چاہیے۔ ایران کے ساتھ سرحد پر کشیدگی بڑھے تو پاکستان کو دونوں طرف سے پریشر ملتا ہے۔ ثالثی کر کے پاکستان کم از کم یہ میسج دے رہا ہے کہ ہم مسئلہ کا حصہ نہیں حل کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔دوسری بڑی مجبوری پاکستان ایران اور انڈیا کے بیچ ہے اور پیچھے افغانستان نہ یہاں سے نکل سکتا ہے نہ لڑ سکتا ہے۔اگر ایران-امریکہ جنگ چھڑے تو سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہوگا  تیل مہنگا مہاجرین کا سیلاب اور بلوچستان میں عدم استحکام۔ اس لیے ثالثی کرنا چوائس کم اور ڈیمج کنٹرول زیادہ ہے۔سچ یہ ہے کہ شارٹ ٹرم میں کوئی بڑا فائدہ نظر نہیں آتا۔لونگ ٹرم میں پاکستان یہ ثابت کرنے کی کوش کر رہا ہے کہ وہ خطے میں اسٹیبلائزر بن سکتا ہے۔ اگر کبھی کوئی ڈیل ہوئی تو کم از کم کریڈٹ ملے گا کہ پاکستان نے چینل کھلا رکھا۔ لیکن یہ بات بھی درست ہے کہ یہ سب اپنی بقا کے لیے ہے پاکستان کی پالیسی اس وقت کم سے کم نقصان پر چل رہی ہے زیادہ سے زیادہ فائدہ پر نہیں۔لیکن میں یہ سمجھتا ہوں پاکستان کو معاشی طور پر خودمختار ہونے کا کوئی راستہ باقی ہے یا یہ انحصار اب مستقل ہو چکا ہے؟ کیونکہ یہاں قومی پالیسی کا تصور تک نہیں۔

جنگ بندی ٹوٹ گئی تو پاکستان کے سرحدی علاقے سب سے پہلے متاثر ہوں گے! مسعود حسین جعفری

کیا پاکستان اس وقت بیچ میں پِس رہا ہے؟ کیا پاکستان کے پاس آپشن کم ہیں؟ ایران امریکہ سے کہہ رہا ہے پیغام پاکستان کے ذریعے بھیجو امریکہ بھی پاکستان کو استعمال کر رہا ہے کیونکہ اس کے ایران سے براہ راست سفارتی تعلقات نہیں۔مطلب پاکستان کی مرضی نہیں مجبوری ہے۔ اگر انکار کرے تو دونوں ناراض اگر کرے تو گالیاں بھی کھائے اور گارنٹی بھی کوئی نہیں۔لیکن یہ رگڑا کیوں لگ رہا ہے؟ لوگ کہتے ہیں پاکستان امریکہ کا آلہ کار بن گیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جنگ بندی ٹوٹ گئی تو پاکستان کے سرحدی علاقے سب سے پہلے متاثر ہوں گے نہ امریکہ پاکستان کو کریڈٹ دے گا نہ ایران۔ اگر ڈیل ہوئی تو کریڈٹ بڑے لے جائیں گے اگر ناکام ہوئی تو الزام پاکستان پر آئے گا کہ ثالثی نہیں کر سکے۔بلوچستان اور سیستان کا بارڈر پہلے ہی حساس ہے ایران-امریکہ جنگ ہوئی تو دہشتگردی اور مہاجرین کا بوجھ سیدھا پاکستان پر آئے گا۔ تو پھر پاکستان کر کیا رہا ہے؟ یہ رگڑا اس لیے برداشت کر رہا ہے کیونکہ متبادل بدتر ہے۔اگر پاکستان انکار کر دے تو خطے میں جنگ کا امکان بڑھے گا اور وہ جنگ پاکستان کی مغربی سرحد پر لگے گی۔ایکٹو ثالثی سے پاکستان اپنے لیے تھوڑی سی لیوریج بنانے کی کوش کر رہا ہے  کہ دیکھو ہم بغیر جنگ کے مسئلہ حل کرانے کی کوش کر رہے ہیں۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ پاکستان کے پاس نہ پیسے ہیں نہ فوجی طاقت نہ سفارتی وزن کہ وہ امریکہ اور ایران دونوں کو اپنی بات منوا سکے تو بس پل کا کردار ادا کر رہا ہے اور پل پر سب چلتے ہیں اور گزر کر بھول جاتے ہیں۔

ایران کی تجویز میں اسرائیل کی کارروائیاں روکنا شامل ہے لیکن اسرائیل اس مذاکرات کا حصہ نہیں اور امریکہ اسرائیل کو نظر انداز نہیں کر سکتا!مسعود حسین جعفری

ایران کے 14 نکات کی کامیابی کے امکانات کتنے ہیں؟ امریکہ کا مؤقف سخت ہے۔ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کی 14 نکاتی تجویز کو قابل قبول نہیں کہا۔امریکہ کی 5 شرائط سامنے آئی ہیں ایران صرف 1 جوہری پلانٹ چلائے، 400 کلو افزودہ یورینیم امریکہ کو دے، اور ایران کو جنگ کے نقصان کا معاوضہ نہ ملے۔ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے ابھی تک اتنی بڑی قیمت ادا نہیں کی یعنی وہ مزید دباؤ چاہتے ہیں۔ایران کا مؤقف بھی سخت ہے ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ جوہری تنصیبات ختم کرنے یا انفراسٹرکچر تباہ کرنے کی شرط قبول نہیں کرے گا۔ایران کہہ رہا ہے کہ 14 نکاتی تجویز کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔یعنی دونوں فریق کی ریڈ لائنز ٹکرا رہی ہیں۔ امریکہ جوہری پروگرام ختم کرنا چاہتا ہے، ایران صرف محدود کرنا چاہتا ہے۔جبکہ پاکستان کا دونوں سے اچھا رابطہ ہے امریکہ پاکستان کو افغانستان کے معاملے میں استعمال کرتا رہا ہے اور ایران ہمسایہ ہے۔اپریل میں پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی ہوئی تھی اس لیے اعتماد موجود ہے۔محسن نقوی کی تہران آمد اور اسد منیر کی حالیہ ملاقات سے لگتا ہے ایران سنجیدہ ہے۔ایران نے خود کہا ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں جنگ بندی لائف سپورٹ پر ہے۔ایران کی تجویز میں اسرائیل کی کارروائیاں روکنا شامل ہے لیکن اسرائیل اس مذاکرات کا حصہ نہیں اور امریکہ اسرائیل کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔امریکہ میں ٹرمپ پر دباؤ ہے کہ ایران کے ساتھ نرم نہ پڑے۔ ایران میں بھی سخت گیر حلقے کوئی رعایت نہیں چاہتے۔اعتماد کا فقدان ہے برسوں کی دشمنی ہے ایران کہتا ہے امریکہ وعدے توڑتا ہے، امریکہ کہتا ہے ایران خفیہ جوہری کام کرتا ہے۔امریکہ 20 سال کے لیے جوہری پروگرام معطل کرنے پر راضی ہو گیا ہے۔ ہو سکتا ہے یہی بیچ کا راستہ بنے۔اگر ڈیل نہ ہوئی تو جنگ بندی ٹوٹ سکتی ہے۔ ایرانی میڈیا کہہ رہا ہے کہ امریکہ نے حملے دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی دی ہے۔پاکستان کا کردار ابھی پیغام رساں کا ہے وہ ڈیل نہیں کرا رہا بس چینل کھلا رکھ رہا ہے۔ اصل فیصلہ واشنگٹن اور تہران میں ہوگا۔اگر یہ تجویز ناکام ہوتی ہے تو خطے کے لیے سب سے بڑا خطرہ آبنائے ہرمز کا بند ہونا ہے جس سے تیل کی قیمتوں پر فوری اثر پڑے گا۔

ایران کی14نکاتی تجاویز ! مسعود حسین جعفری

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکہ کو ایک 14 نکاتی تجویز بھیجی ہے۔اہم نکات جو سامنے آئے ہیں۔جنگ کا مکمل خاتمہ، صرف عارضی جنگ بندی میں توسیع نہیں۔اعتماد سازی اور خطے میں کشیدگی ختم کرنا۔ ایران کے اہم مطالبات سیکیورٹی ضمانتیں ایران پر دوبارہ حملہ نہ کرنے کی ضمانت۔امریکی فوجوں کا انخلا ایران کے گرد موجود امریکی افواج کا انخلا۔بحری ناکہ بندی ختم ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز پر پابندی کا خاتمہ۔پابندیاں ختم امریکہ اور بین الاقوامی پابندیوں کا مکمل خاتمہ۔منجمد اثاثے واپس ایران کے منجمد اثاثوں کی مرحلہ وار بحالی۔تلافی جنگ سے ہونے والے نقصان کا معاوضہ۔تمام محاذوں پر جنگ بندی لبنان سمیت تمام محاذوں پر لڑائی کا خاتمہ۔ امریکہ نے 2 ماہ کی جنگ بندی تجویز کی تھی، ایران نے اسے مسترد کر کے 30 دن میں تمام مسائل حل کرنے پر زور دیا ہے۔تجویز میں 3 مراحل پر مشتمل حکمت عملی ہے۔پہلا مرحلہ آبنائے ہرمز کھولنا، بحری بارودی سرنگیں صاف کرنا۔دوسرا مرحلہ یورینیم افزودگی 3.6% تک بحال زیرو اسٹوریج اصول کے تحت۔تیسرا مرحلہ عرب ممالک سے اسٹریٹیجک مذاکرات اور مشترکہ سکیورٹی نظام۔ یہ تجویز امریکہ کی 9 نکاتی تجویز کے جواب میں دی گئی ہے۔پاکستان ثالثی کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ تجویز کا جائزہ لے رہے ہیں لیکن شک ہے کہ قابل قبول ہوگی۔انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ایران نے ابھی تک اتنی بڑی قیمت ادا نہیں کی۔ ایران کے مطابق یہ 14 نکاتی منصوبہ صرف جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے اس میں جوہری معاملہ شامل نہیں ہے۔

جو معاہدے سیاحت اور تجارت تک محدود تھے اب میزائل ڈیفنس انٹیلی جنس اور بحری تعاون میں بدل رہے ہیں! مسعود حسین جعفری

حالیہ مہینوں میں یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان ملاقاتیں اور سیکیورٹی تعاون واضح طور پر بڑھا ہے اور یہ سب ایران کے ساتھ جاری جنگ کے پس منظر میں ہو رہا ہے۔نیتن یاہو اور محمد بن زاید کی ملاقات کا معاملہ کچھ یوں ہے۔مئی 2026 میں اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے کہا کہ نیتن یاہو نے ایران-اسرائیل جنگ کے دوران یو اے ای کا خفیہ دورہ کیا اور صدر شیخ محمد بن زاید سے ملاقات کی اس دفتر کے مطابق یہ ملاقات تاریخی پیش رفت کا باعث بنی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات 26 مارچ کو العین میں ہوئی اور کئی گھنٹے جاری رہی۔موساد کے سربراہ ڈیڈی بارنیا نے جنگ کے دوران کم از کم دو بار یو اے ای کا دورہ کرکے فوجی کارروائیوں پر رابطہ کیا۔لیکن یو اے ای کی وزارت خارجہ نے اسے مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یو اے ای کے اسرائیل سے تعلقات عوامی ہیں اور ابراہام معاہدوں پر مبنی ہیں کسی خفیہ یا غیر شفاف انتظام پر نہیں۔ نئے معاہدے سیکیورٹی تعاون اور خفیہ ملاقات پر اختلاف کے باوجود  کھلے عام ہونے والی پیش رفت یہ ہے کہ آئرن ڈوم کی تعیناتی
امریکی سفیر مائیک ہکابی نے 13 مئی 2026 کو تصدیق کی کہ اسرائیل نے ایران کی جانب سے حملوں کے دفاع کے لیے یو اے ای کو آئرن ڈوم بیٹریاں اور انہیں چلانے والے اہلکار بھیجے ہیں۔یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل نے اپنا آئرن ڈوم سسٹم کسی دوسرے ملک میں تعینات کیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے 28 فروری 2026 سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے یو اے ای کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا ہے۔رپورٹس کے مطابق یو اے ای نے ایران پر جوابی حملوں میں حصہ لیا۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ 6 مئی کو یو اے ای اور اسرائیل نے مل کر ایران کے اسالویہ پیٹرو کیمیکل پلانٹ پر حملہ کوآرڈینیٹ کیا۔اسرائیل نے جنوبی ایران میں شارٹ رینج میزائل لانچرز کو نشانہ بنانے کے لیے یو اے ای کے ساتھ کوآرڈینیشن کی بھی اطلاعات ہیں۔ تو کیا یہ ایران کے خلاف نئی چالیں ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صرف سفارتی تعلق نہیں رہا اب یہ ہارڈ پاور سیکیورٹی الائنس بن رہا ہے۔ یاد رہے کہ ابراہام معاہدے کا ارتقا 2020 کے معاہدے جو سیاحت اور تجارت تک محدود تھے اب میزائل ڈیفنس انٹیلی جنس اور بحری تعاون میں بدل رہے ہیں ور ایران پر فوکس کر رہے ہیں یو اے ای اور بحرین کو فرنٹ لائن اڈاپٹر کہا جا رہا ہے جو اسرائیل کے ایئر اینڈ میزائل ڈیفنس اور انٹیلی جنس کو امریکہ کی قیادت میں ایران مخالف ڈیفنس اسکیم میں ضم کر رہے ہیں۔جس میں امریکی حمایت شامل ہے۔امریکی سینیٹ میں مارچ 2026 میں ابراہام اکارڈز ڈیفنس کوآپریشن ایکٹ پیش ہوا ہے جس کا مقصد ایران اور اس کے پراکسیز کو روکنے کے لیے فوجی تعاون کو گہرا کرنا ہے۔ یو اے ای کا موقف سرکاری طور پر یہ ہے کہ وہ تصادم نہیں چاہتا اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے۔ لیکن عملی طور پر ایران کے حملوں کے بعد ابوظہبی نے امریکہ اور اسرائیل سے اپنے تعلقات مضبوط کیے ہیں اور اسے علاقائی اثر و رسوخ اور واشنگٹن تک رسائی کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ نیتن یاہو کی ملاقات کی اسرائیلی تصدیق ہے یو اے ای نے انکار کیا ہے۔معاہدے کے مطابق آئرن ڈوم کی تعیناتی اور انٹیلی جنس شیئرنگ کھلے عام ہو چکی ہے۔تعاون کا محور ایران کے میزائل اور ڈرون حملے ہیں اور یہ تعلقات ابراہام معاہدوں سے آگے بڑھ کر عملی فوجی اتحاد کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔

سیاسی و فوجی ایکشن کے اخراجات نے آنکھیں کھول دیں،صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو براہِ راست جنگ سے بچنا چاہتے ہیں! مسعود حسین جعفری

سرچ رزلٹس کے مطابق بیجنگ میں ٹرمپ اور شی کی میٹنگ کے ایجنڈے میں ایران کا مسئلہ سب سے اوپر ہے۔ رپورٹس میں صاف لکھا ہے کہ امریکہ چین سے چاہتا ہے کہ وہ تہران پر دباؤ ڈالے اور آبنائے ہرمز کے تنازعے میں توانائی کے راستے مستحکم کرے۔غور طلب بات یہ ہے کہ پاکستان کے ثالثی کردار کے بعد کیوں ٹرمپ کو چین کی ثالثی چاہیے؟ سیدھا سا جواب ہے کہ چین کے پاس ایران پر لیوریج ہے چین ایران کا سب سے بڑا تیل خریدار اور معاشی پارٹنر ہے۔ اگر بیجنگ کہے تو تہران کے لیے نظر انداز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔کیونکہ امریکہ براہِ راست جنگ سے بچنا چاہتا ہے فروری 2026 میں سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے یکطرفہ ٹیرف والے اختیارات کم کر دیے تھے۔ اب فوجی ایکشن کا سیاسی خرچ بھی زیادہ ہے۔ اس لیے دباؤ کا راستہ بدل کر چین کو سامنے لانا سستا آپشن ہے۔اگر چین بیچ میں آ کر ایران کو مذاکرات پر راضی کر لے تو ٹرمپ اسے ڈیل آف دی ڈیل بیچ سکتے ہیں۔ 2025 میں بوسان میں انہوں نے چینی ٹیرف 57% سے 47% پر لانا بھی 12/10 ڈیل کہا تھا۔لیکن ایک مسئلہ اور بھی ہے چین خود نہیں چاہتا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں مکمل غالب آ جائے۔ بیجنگ کا بیانیہ تنازعے کو مینیج کرو کسی کو گھٹنے نہ ٹکاؤ والا ہے۔ وہ ثالث بنے گا لیکن ایران کو سرعام نیچا دکھانے والا رول لینے سے بچے گا۔تو غالب امکان یہی ہے کہ ٹرمپ چین کو ثالثی پر آمادہ کریں گے مگر نتیجہ ایران گھٹنے ٹیکے کی بجائے فائر سیز اور محدود ڈی ایسکلیشن جیسا ہوگا۔اب دیکھنا یہ ہے کیا شی جن پنگ کھل کر امریکہ کا ساتھ دیں گے یا بیچ کا راستہ نکال کر دونوں کو ناراض نہیں کریں گے؟

امریکی صدر چین میں، اغراض ومقاصد کیا ہیں؟مسعود حسین جعفری

امریکی صدر ٹرمپ واقعی 13 سے 15 مئی 2026 کو چین کے سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچے ہیں۔ یہ 2017 کے بعد کسی امریکی صدر کا پہلا دورہ ہے۔ دنیا کے لیے “نیا آرڈر” اور ٹرمپ کے مقاصد کچھ یوں سمجھے جا رہے ہیں یہاں خطے میں استحکام کی بات ہے یا کوئی بڑا سودا ؟ میرے خیال میں دونوں طرف توقعات بڑے معاہدوں کی نہیں بلکہ تعلقات کو مزید بگڑنے سے روکنے کی ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق فوکس تجارت، ایران، تائیوان، AI اور چپس پر بات چیت پر ہے۔امچیم چائنا کے چیئر نے بھی یہی کہا تھا کہ بہت مثبت نتائج تو ملیں گے لیکن کوئی گرینڈ بارگین نہیں ہوگا۔ اب ٹرمپ کے اغراض و مقاصد کیا ہیں اور معیشت پر اس کا اثر ہوگا یہ دیکھتے ہیں۔ شاید نئی بورڈ آف ٹریڈ بنانے کی تجویز ہے تاکہ دونوں ملک معاشی معاملات پر بات کریں۔جیسا کہ توانائی، ایرواسپیس اور زراعت جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانا۔ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ کا ہاتھ 2026 کے فروری میں سپریم کورٹ کے فیصلے سے کچھ بندھ گیا ہے۔ عدالت نے IEEPA کے تحت یکطرفہ ٹیرف لگانے کا اختیار ختم کر دیا۔ اس لیے اب کانگریس کی منظوری والے طویل مدتی معاہدوں کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ اور اگر جیو پولیٹکس کی بات کی جائے تو
امریکہ چاہتا ہے کہ چین تہران پر دباؤ ڈالے اور آبنائے ہرمز کے تنازعے میں توانائی کی سپلائی مستحکم کرے ایران جنگ اور ہرمز کی بندش عالمی معیشت پر وزن ڈال رہی ہے۔2017 کے مقابلے میں چین اب زیادہ خود انحصار اور پر اعتماد ہے۔ AI، گرین ٹیک، ایڈوانسڈ چپس میں سرمایہ کاری کے بعد بیجنگ خود کو امریکہ کے برابر کھڑا دیکھتا ہے چین کا پیغام ہے برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر تعاون بڑھائیں، اختلافات مینیج کریں، اور دنیا میں استحکام لائیں۔ فوری طور پر کوئی نئی عالمی ترتیب نہیں بن رہی۔ یہ دورہ زیادہ تر ڈیمیج کنٹرول اور کاروباری ڈیلز کی راہ ہموار کرنے کے لیے ہے۔ اصل چیز یہ ہے کہ دونوں سپر پاورز تسلیم کر رہی ہیں کہ ایران جنگ تائیوان اور ٹیکنالوجی وار کے بیچ مکمل تصادم مہنگا پڑے گا۔ شیڈول میں آج بیجنگ میں استقبالیہ تقریب، شی جن پنگ سے ون-آن-ون ملاقات، ٹیمپل آف ہیون کا دورہ اور ریاستی عشائیہ ہے۔ کل فرینڈشپ فوٹو چائے پر بات اور ورکنگ لنچ ہے۔

اسرائیل اور امریکہ کا جنگی جنون، ملکی معیشت کے ساتھ شعبہ زراعت بھی برباد!مسعود حسین جعفری

اسرائیلی امریکی جنگی جنون سے پاکستان بھی متاثر ہوا ہے اور اثر دو طرح کا ہے براہ راست کھاد/ایندھن کی قیمتوں پر اور معیشت پر بالواسطہ دباؤ ہے۔کھاد اور زراعت پر اثر پاکستان یوریا اور ڈی اے پی کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اور خلیج فارس کے ذریعے آنے والی گیس پر انحصار ہے۔ جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز کی رکاوٹ نے LNG اور کھاد کی فراہمی روک دی ہے۔یوریا کی عالمی قیمت جنگ سے پہلے $470 فی ٹن سے بڑھ کر $700+ فی ٹن ہو گئی ہے۔ پاکستان میں بھی یہی دباؤ منتقل ہو رہا ہے۔پاکستان میں یوریا اور ڈی اے پی کل کھاد کے استعمال کا 75-83% بناتے ہیں، اس لیے ان کی دستیابی خوراکی سیکیورٹی کے لیے بہت اہم ہے۔ایف اے او نے کہا ہے کہ پاکستان ان ممالک میں ہے جو کھاد کا اسٹاک کم رکھتے ہیں اور خلیج کی سپلائی چین پر زیادہ انحصار کرتے ہیں اس لیے زیادہ خطرے میں ہیں۔ ایندھن اور مہنگائی پر اثر پاکستان میں ڈیزل زراعت کی ریڑھ کی ہڈی ہے ٹرک، ٹریکٹر، تھریشر سب ڈیزل پر چلتے ہیں۔اپریل-مئی 2026 میں جب گندم کی کٹائی ہو رہی تھی، ڈیزل کی قیمت زیادہ ہونے سے کٹائی اور نقل و حمل کی لاگت بڑھ گئی۔ یہ لاگت براہ راست آٹے اور خوراک کی مہنگائی میں منتقل ہو رہی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق، ہرمز کی طویل بندش سے پاکستان کی ترقی 0.5-1% کم ہو سکتی ہے، مہنگائی اور شرح سود بڑھے گی، اور روپے پر دباؤ آئے گا۔ حکومت نے کھاد کی سبسڈی بڑھانے اور تیل کی کھپت کم کرنے کے لیے الیکٹرک بسیں تیز کرنے کی بات کی ہے۔لیکن کسانوں کو اب بھی ڈر ہے کہ اگر کھاد اور ڈیزل مہنگا رہا تو وہ بوائی کم کریں گے، جس سے اگلی فصل متاثر ہوگی۔ پاکستان کو فوری طور پر کھاد کی قیمت اور دستیابی کا مسئلہ درپیش ہے، اور بالواسطہ طور پر ایندھن کی مہنگائی سے خوراک کی مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ چونکہ پاکستان کے پاس بڑا اسٹریٹجک اسٹاک نہیں ہے، یہ خطرہ زیادہ ہے۔