میرے ہم وطنوں کیا لگتا ہے؟ عوامی مینڈیٹ کی حیثیت صرف ایک رسمی مہر کی رہ گئی ہے؟ مسعود حسین جعفری

ارباب اختیار و اقتدار و مجاز اور اقتدار کا کھیل۔یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ اربابِ اختیار سیاسی قیادت کا انتخاب ووٹ کی پرچی سے نہیں بلکہ بند کمروں میں انٹرویو اور ڈیل کے تحت کرتی ہے۔ عوام کو الیکشن کے نام پر ایک ڈرامہ دکھایا جاتا ہے تاکہ جمہوریت کا تاثر قائم رہے۔ اصل فیصلہ کہیں اور ہوتا ہے۔جسے اسٹبلشمنٹ منظور کر لے، اقتدار اس کے قدموں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اور جسے ناپسند کر لیا جائے، اس سے اقتدار واپس چھین لیا جاتا ہے۔ یہ چھیننا کبھی عدالتی فیصلے کی صورت میں ہوتا ہے، کبھی احتساب کے نام پر، اور کبھی “غیر آئینی” کہہ کر۔ عوامی مینڈیٹ کی حیثیت صرف ایک رسمی مہر کی رہ جاتی ہے۔الیکشن مہم، جلسے، نعرے، سب کچھ صرف دھوکا ہے۔ اصل سلیکشن پہلے ہی ہو چکی ہوتی ہے۔ اسی لیے حکومتیں پانچ سال پورے نہیں کر پاتیں۔ جس دن اسٹبلشمنٹ کا من پسند تبدیل ہو جائے، اسی دن حکومت کی قسمت بھی بدل جاتی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اگلا اقتدار کس کو دیا جائے گا۔ پرانا چہرہ واپس لایا جائے گا یا کوئی نیا من پسند سامنے آئے گا۔ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا، فیصلہ وہی کریں گے جو ہمیشہ کرتے آئے ہیں۔میرے محب وطن ہم وطنوں کو کیا لگتا ہے، اگلا من پسند کون ہو گا؟

تعلیم و صحت کے بجٹ میں کٹوتی کر کے مستقبل کی نسلوں کو پسماندگی کی طرف دھکیل دیا گیا! مسعود حسین جعفری

وفاقی بجٹ اور عوامی اثرات۔وفاقی غیر آئینی و غیر قانونی حکومت عوام پر زبردستی بجٹ تھوپنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ یہ بجٹ مشاورت، شفافیت اور عوامی مفاد کے بغیر تیار کیا گیا، جس کے اثرات آنے والے مہینوں میں پوری قوم محسوس کرے گی۔ مہنگائی، ٹیکسوں کا بوجھ اور سبسڈیز کا خاتمہ عام آدمی کی قوت خرید کو براہ راست متاثر کرے گا۔ بجلی، گیس، پیٹرول اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے سے متوسط طبقہ پہلے ہی دباؤ کا شکار تھا، اب اس پر مزید بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق ایسے یکطرفہ فیصلوں سے سرمایہ کاروں کا اعتماد کم ہوتا ہے، کاروبار سست پڑتے ہیں اور بے روزگاری بڑھتی ہے۔ تعلیم و صحت کے بجٹ میں کٹوتی کر کے مستقبل کی نسلوں کو پسماندگی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ کسان، مزدور اور چھوٹے تاجر وہ طبقات ہیں جو اس پالیسی کی قیمت سب سے زیادہ ادا کریں گے۔جب فیصلے ایوانوں میں عوام کی آواز سنے بغیر کیے جائیں تو ملک و قوم کا نقصان یقینی ہو جاتا ہے۔ ایسے اقدامات سے عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے بڑھتے ہیں اور عدم اعتماد جنم لیتا ہے۔ یہ لوگ کسی صورت ملک و قوم سے مخلص نہیں، کیونکہ مخلص قیادت ہمیشہ عوام کو ساتھ لے کر چلتی ہے، ان پر فیصلے نہیں تھوپتی۔

مسلم ممالک اسرائیلی اثر ورسوخ کے آگے بے بسی کا شکار ہیں! مسعود حسین جعفری

مسلم ممالک میں اسرائیل کا خوف ایک ناسور بن گیا ہے ۔مسلم دنیا آج جس دور سے گزر رہی ہے وہ تاریخ کا تلخ ترین باب ہے۔ وہ ممالک جو کبھی اسلام کا قلعہ کہلاتے تھے، آج مسلمانوں کے لیے ناسور بن چکے ہیں۔ اسرائیل کے خوف نے ان کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی ہے۔ پہلے فلسطین کی زمین پر قبضہ ہوا تو آوازیں اٹھیں، قراردادیں پاس ہوئیں۔ اب جب معاملہ اپنی سرحدوں تک پہنچا تو وہی آوازیں خاموش ہو گئیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ کے سامنے مسلم حکمرانوں نے اپنی زمینیں، اپنی خودمختاری، اپنی غیرت سب کچھ سودے بازی میں رکھ دی۔ جو ممالک کل تک امت کی بات کرتے تھے، آج معاہدوں کے نام پر اپنی سرزمین کے ٹکڑے دشمن کے حوالے کر رہے ہیں۔ بیس کیمپ دیے جا رہے ہیں، فضائی حدود کھول دی گئی ہیں، اور سفارتی تعلقات کو “مصلحت” کا نام دے کر جائز قرار دیا جا رہا ہے۔ مسلمان بے بس دیکھ رہا ہے کہ اس کے اپنے ہی گھر کے دروازے دشمن کے لیے کھل رہے ہیں۔ اسرائیل کا خوف اتنا بڑھ گیا ہے کہ مسلم ممالک اپنی بقا کے لیے اپنی شناخت بیچنے پر مجبور ہیں۔ جب تک یہ خوف دل سے نہیں نکلے گا، مسلم امہ یونہی بکھری رہے گی۔ اور جب تک حکمران اپنی زمین امریکہ اسرائیل کے قدموں میں رکھتے رہیں گے، مسلمانوں کا زخم بھرتا نہیں دکھائی دے گا۔

گلگت بلتستان اور کشمیر حق کی پامالی،گلگت بلتستان اور کشمیر، دونوں خطے قدرتی حسن اور قربانیوں کی سرزمین ہیں! مسعود حسین جعفری

گلگت بلتستان اور کشمیر حق کی پامالی۔گلگت بلتستان اور کشمیر، دونوں خطے قدرتی حسن اور قربانیوں کی سرزمین ہیں۔ لیکن آج ان کے اصل حقدار، یعنی یہاں کے باسی، اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ دہائیوں سے وعدے کیے گئے، قراردادیں پاس ہوئیں، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ فیصلے ہمیشہ اوپر سے مسلط کیے جاتے رہے۔گلگت بلتستان کے لوگ آج بھی آئینی حیثیت کے انتظار میں ہیں۔ ان کے وسائل، بجلی، معدنیات اور پانی پر دوسروں کا کنٹرول ہے جبکہ مقامی آبادی روزگار، تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتوں کو ترستی ہے۔ ہر الیکشن کے بعد نعرے بدلتے ہیں، مگر پالیسی وہی رہتی ہے۔ طاقتور مافیا نے زمینوں، ٹھیکوں اور وسائل پر قبضہ جما رکھا ہے۔ اصل باشندے تماشائی بن کر رہ گئے ہیں۔ادھر کشمیر میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ کشمیریوں کی رائے کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا۔ ان کی شناخت، ان کی تہذیب اور ان کے مستقبل کے فیصلے ان کی مرضی کے بغیر کیے گئے۔ باہر سے آنے والے مافیا گروپ معیشت، زمین اور سیاست پر حاوی ہیں۔ مقامی نوجوان بیروزگاری اور مایوسی کا شکار ہے۔دونوں خطوں کا مسئلہ ایک ہے: حقدار کو حق نہیں مل رہا۔ جب تک فیصلے ایوانوں میں بیٹھے لوگ کریں گے اور مقامی آواز دبائی جائے گی، امن و ترقی ممکن نہیں۔ گلگت بلتستان اور کشمیر کے لوگ خودمختار فیصلے چاہتے ہیں۔ وہ مافیاز کی جبری مسلط کردہ سیاست سے تنگ آ چکے ہیں۔حقداروں کو ان کا حق دیا جائے، ورنہ محرومی کی یہ آگ مزید شدت پکڑے گی۔

الیکشن چوری کی وارداتوں کا سلسلہ جاری،مافیا مسلط! مسعود حسین جعفری

گلگت بلتستان اور کشمیر اب مزید دھوکہ نہیں چلے گا۔موجودہ صورتحال شرمناک ہے۔ گلگت بلتستان اور کشمیر کے اصل وارث آج اپنی ہی سرزمین پر اجنبی بن چکے ہیں۔ ان کے حقِ حکمرانی، حقِ ملکیت اور حقِ رائے کو کھلم کھلا روندا جا رہا ہے یہ محرومی اتفاق نہیں یہ ایک سوچی سمجھی پالیسی ہے۔ذمہ دار کون؟ وفاقی اشرافیہ اسلام آباد میں بیٹھے فیصلہ ساز جنہوں نے دونوں خطوں کو ہمیشہ سودے بازی کا مال سمجھا۔ وعدے کیے، قراردادیں توڑیں، اور آئینی حیثیت کو لٹکایا ہوا ہے۔ گلگت بلتستان کو آج تک مکمل آئینی صوبہ بنانے سے انکار اور کشمیر کی سیاسی قیادت کو کچلنا ان کی پالیسی کا ثبوت ہے۔اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی جنہوں نے ہر الیکشن ہر احتجاج اور ہر مطالبے کو اپنے اشاروں پر نچایا مقامی نمائندے صرف کٹھ پتلی ہیں اصل اختیارات ہمیشہ غیر مقامی افسران اور اداروں کے پاس رہے۔مقامی مافیا گروپ زمین مافیا، ٹھیکہ مافیا اور معدنیات مافیا جو اشرافیہ کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں انہوں نے سرکاری مشینری کے ساتھ مل کر وسائل لوٹے گلگت کی زمینیں کشمیر کے جنگلات اور دریا آج ان کی جاگیر بن چکے ہیں مقامی نوجوان کو روزگار نہیں صرف مایوسی ملی۔نتیجہ یہ نکلا کہ بجلی پیدا کرنے والے اندھیرے میں ہیں۔ معدنیات کے مالک خود خالی ہاتھ ہیں پانی پر حق رکھنے والے پیاسے ہیں۔ بس اب کافی ہو گیا اگر حقداروں کو فوری حقِ خودارادیت اور آئینی تحفظ نہ دیا گیا تو یہ مافیاز کی مسلط کردہ خاموشی زیادہ دیر نہیں ٹکے گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ محکوم قومیں ہمیشہ اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔

کوئی بھی ملک اپنی مرضی سے ٹیکس لگائے خرچ کرے پھر IMF/World Bank بیچ میں کیوں آتے ہیں؟  مسعود حسین جعفری

بجٹ تو ہر ملک کا اندرونی معاملہ ہی ہوتا ہے۔ کوئی بھی ملک اپنی مرضی سے ٹیکس لگائے، خرچ کرے پھر IMF/World Bank بیچ میں کیوں آتے ہیں؟ جب پاکستان IMF سے بیل آؤٹ پیکج لیتا ہے، جیسے $3 ارب یا $7 ارب کا پروگرام، تو IMF کہتا ہے پیسے دوں گا، لیکن پہلے تمہاری معیشت ٹھیک کرو۔ وہ شرائط بجٹ پر لگتی ہیں – جیسے سبسڈی کم کرو، ٹیکس بیس بڑھاؤ، خسارہ کم کرو۔ ورنہ قسط روک دیتے ہیں۔عالمی ساکھ World Bank والے پروجیکٹ لون دیتے ہیں  سڑکیں، بجلی، تعلیم کے لیے۔ وہ بھی بجٹ میں شفافیت اور مخصوص ہدف مانگتے ہیں۔ڈالر کا مسئلہ ہمارے پاس ڈالر کم ہیں تیل، گندم، دوائیں باہر سے خریدنی ہیں IMF کے بغیر ڈالر نہیں ملتے، روپیہ گرتا ہے، مہنگائی بڑھتی ہے تو مجبوراً ان کی بات ماننی پڑتی ہے۔گھر آپ کا ہے، خرچے آپ کی مرضی۔ لیکن اگر آپ نے بینک سے قرض لیا ہوا ہے تو بینک کہے گا “غیر ضروری خرچہ بند کرو، پہلے قسط دو”۔ IMF بھی وہی بینک ہے، بس پیمانہ پورے ملک کا ہے۔تو تکنیکی طور پر بجٹ اندرونی ہے، لیکن عملی طور پر جب تک ہم قرض میں ہیں، IMF کی رضامندی کے بغیر بجٹ پاس نہیں ہو سکتا۔ پاکستان ہر سال $60 ارب+ کی امپورٹ کرتا ہے۔ تیل، LNG، دوائیں، مشینری – سب ڈالر میں۔ ہمارے پاس ڈالر نہیں بنتے۔ IMF قسط دے تو ڈالر آتے ہیں، روپیہ مستحکم رہتا ہے۔ ورنہ 1 ڈالر = 400 روپے والا سین ہو جائے۔ہمارا بیرونی قرضہ $130 ارب+ ہے۔ ہر سال $20-25 ارب واپس کرنے ہیں۔ نئے قرضے کے بغیر پرانے نہیں اترتے World Bank, IMF, سعودیہ، چین  یہی نئے قرضے دیت ہے۔امریکہ IMF بورڈ میں سب سے بڑا ووٹ رکھتا ہے۔ اگر امریکہ ناراض ہو جائے تو IMF پیسے نہیں دیتا پھر کوئی اور ملک بھی قرض نہیں دیتا ریٹنگ جنک ہو جاتی ہے۔لیکن آکسیجن کا مسئلہ یہ ہے مریض آکسیجن پر زندہ رہ سکتا ہے، صحت مند نہیں ہو سکتا۔ 35 سال سے ہم IMF پروگرام میں ہیں۔ ہر 3 سال بعد نیا پروگرام آکسیجن لگ گئی، سانس چل پڑی، پھر اتار دی۔ پھر سانس پھول گئی۔لیکن سوال یہ ہے ہم کب تک آکسیجن پر رہیں گے؟ برآمدات بڑھائیں، ٹیکس چوری روکیں، توانائی سستی کریں  تبھی ہم وینٹی لیٹر سے اتر پائیں گے۔

واضع پیغام ،گلگت بلتستان میں سلیکشن نہیں صرف الیکشن قابل قبول ہے! مسعود حسین جعفری

گلگت بلتستان میں ن لیگ، زرداری لیگ اور ان کے مالکان کی ساری منصوبہ بندی چوپٹ۔گلگت بلتستان ایک بار پھر ثابت کر رہا ہے کہ زبردستی کی سیاست یہاں نہیں چلتی۔ ن لیگ، زرداری لیگ پردے کے پیچھے بیٹھے مالکان سے مل کر جس پلان پر مہینوں محنت کی تھی، وہ عوام کی مزاحمت کے آگے ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔پہلے مرحلے میں دونوں جماعتوں نے اسلام آباد سے ہدایات لے کر مقامی قیادت کو خریدنے، نوٹس بانٹنے اور دباؤ کے ذریعے وفاداریاں تبدیل کرانے کی کوش کی۔ وفاق سے آنے والے وزرا نے ترقیاتی فنڈز اور عہدوں کا لالچ دیا، جبکہ انتظامی مشینری کو مخالف آوازوں کو دبانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اسٹیبلشمنٹ نے اپنی روایتی حکمت عملی کے تحت بیک ڈور میٹنگز، کالز اور دھمکیوں کا سہارا لیا تاکہ الیکشن سے پہلے ہی میدان صاف کر لیا جائے۔لیکن گلگت بلتستان کے لوگوں نے 2015 اور 2020 کا حساب ابھی تک بھولا نہیں۔ یہاں کے نوجوان، طلبہ، تاجر اور عام شہری سوشل میڈیا پر متحد ہوئے اور ہر اس اقدام کو بے نقاب کیا جس کا مقصد عوامی مینڈیٹ چوری کرنا تھا۔ جلسے جلوسوں میں واضح پیغام دیا گیا کہ اب “سیلیکشن” نہیں، صرف “الیکشن” قابل قبول ہے۔نتیجہ یہ نکلا کہ جن حلقوں میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے بھاری سرمایہ کاری کی تھی، وہاں مقامی امیدواروں نے ان کی نیندیں اڑا دیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے لگائے ہوئے سارے مهرے ایک کر کے بے اثر ہو گئے۔ جو لوگ کل تک وزارتوں کے خواب دیکھ رہے تھے، آج اپنے گھروں میں بیٹھے عوام کے سوالات کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔اس ذلت کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگ اب کسی کو اپنا فیصلہ مسلط نہیں کرنے دیں گے۔ انہوں نے سمجھ لیا ہے کہ جب تک مرکز کی پارٹیاں اور بیک ڈور طاقتیں مل کر کھیلتی رہیں گی، یہاں کے وسائل، زمین اور حقوق لٹتے رہیں گے
۔آج گلگت بلتستان سے جو پیغام جا رہا ہے وہ صاف ہے تمہاری ساری تیاری، ساری پلاننگ، ساری طاقت یہاں بے بس ہے۔ عوام بیدار ہو چکے ہیں، اور جب عوام بیدار ہو جائیں تو کوئی اسٹیبلشمنٹ، کوئی ن لیگ، کوئی زرداری لیگ ان کا راستہ نہیں روک سکتی۔

سندھ میں پانی کا بحران قدرتی نہیں یہ ایک منظم ڈکیتی ہے اور سرپرست اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہیں! مسعود حسین جعفری

سندھ میں پانی کا بحران قدرتی نہیں یہ ایک منظم ڈکیتی ہے۔ اس ڈکیتی کا نام ٹینکر مافیا ہے اور اس کے سرپرست اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہیں۔پانی کی لائنیں خشک کی جاتی ہیں واٹر بورڈ کے افسران جان بوجھ کر مین لائنیں بند رکھتے ہیں۔ پورے پورے محلے مہینوں پانی کو ترستے ہیں۔ٹینکر مافیا کو مالی فوائد پہچانے کے لیے سندھ حکومت مصنوعی قلت پیدا کرنے میں پیش پیش رہی ہے جب پائپ میں پانی نہیں آئے گا تو عوام مجبور ہو کر ٹینکر مانگے گی۔ یہ مافیا ریٹ خود طے کرتی ہے 1200 گیلن کا ٹینکر جس کی اصل لاگت 800 روپے ہے، وہ 4000 سے 8000 روپے میں بیچا جاتا ہے غریب کی جیب سے روزانہ کروڑوں نکل رہے ہیں۔ٹینکر مافیا اکیلا نہیں چل سکتا اس کے پیچھے طاقتور سرپرستوں کا نیٹ ورک ہے۔ واٹر بورڈ کے کرپٹ افسران یہ لوگ والو بند کرتے ہیں ہائیڈرنٹ پر غیرقانونی کنکشن دیتے ہیں اور مافیا سے حصہ لیتے ہیں تبادلے اور پوسٹنگ کی نیلامی لگتی ہے۔مقامی سیاسی وڈیرے ہر علاقے کا سردار ٹینکرز کا ٹھیکہ لیتا ہے۔ وہی فیصلہ کرتا ہے کس گلی کو پانی ملے گا اور کس کو نہیں پولیس اور انتظامیہ اس کے سامنے بے بس ہوتی ہے اقتدار کے قریبی ٹھیکیدار 20 سال سے جن کے پاس KMC، واٹر بورڈ کے ٹھیکے ہیں وہی ٹینکرز کے مالک ہیں۔ سرکاری پانی چوری کر کے عوام کو مہنگا بیچتے ہیں۔ افسر، پولیس، سیاستدان سب کو حصہ جاتا ہے۔کراچی میں 500 سے زائد غیرقانونی ہائیڈرنٹ چل رہے ہیں یہ سب واٹر بورڈ کی ناک کے نیچے چھاپہ پڑتا ہے 2 دن بند پھر پہلے سے زیادہ تیزی سے شروع۔ کیونکہ اوپر سے “این او سی” آ چکی ہوتی ہے۔غریب 200 روپے فی بالٹی پانی خریدتا ہے امیر اپنے گھر بورنگ لگوا لیتا ہے اور درمیان میں زرداری مافیا کا ٹینکر مافیا ہر روز کروڑوں کماتا ہے پانی بیچ کر۔20 سال میں یہ مافیا اتنا مضبوط ہو چکا ہے کہ واٹر بورڈ خود اس کا ملازم لگتا ہے۔ جب تک سرپرستوں کے ہاتھ نہیں توڑے جائیں گے، سندھ کا شہری پانی کو ترستا رہے گا۔

مافیا کا قبضہ 20 سال پر محیط ہے دو دہائیوں سے یہ گروہ اقتدار، ٹھیکوں اور وسائل پر مکمل قابض ہے! مسعود حسین جعفری

سندھ پر زرداری مافیا کا قبضہ 20 سال پر محیط ہے۔ دو دہائیوں میں یہ گروہ اقتدار، ٹھیکوں اور وسائل پر مکمل قابض رہا۔ نتیجہ؟ کراچی کی سڑکیں کھنڈرات، حیدرآباد کی لائنیں خشک، لاڑکانہ میں گٹر کے جوہڑ۔ شہر کے شہر پیاسے ہیں۔ پانی کا مسئلہ صرف مسئلہ نہیں، یہ مجرمانہ غفلت ہے۔ K-IV منصوبہ 15 سال سے فائل میں سڑ رہا ہے۔ S-III کا نام سن کر عوام تھک چکے ہیں۔ واٹر بورڈ، KMC، واسا، یہ سب ادارے عوام کی خدمت کے بجائے کمیشن، رشوت اور ٹینکر مافیا کی پشت پناہی میں مصروف ہیں۔ ٹیکس ہر ماہ بل کی صورت میں وصول ہوتا ہے، بدلے میں گندا پانی، 18 گھنٹے لوڈشیڈنگ، اور ٹوٹی سڑکیں ملتی ہیں۔20 سال میں اربوں روپے کے فنڈز ہڑپ کیے گئے۔ ہر منصوبے کے نیچے کمیشن کی لکیر کھنچی گئی۔ اسپتالوں میں دوا نہیں، اسکولوں میں استاد نہیں، لیکن زرداری مافیا کے اثاثے دبئی، لندن اور یورپ کی جائیدادوں میں بڑھتے گئے۔ ادارے مکمل طور پر مفلوج کر دیے گئے۔ جو افسر کام مانگے، اس کا تبادلہ۔ جو سوال کرے، اس کی فائل دبا دی جاتی ہے۔شہری کی زندگی عذاب بن چکی ہے۔ ماں اپنے بچے کے لیے پانی کی بالٹی بھرنے کے لیے رات 2 بجے اٹھتی ہے۔ نوجوان روزگار کے لیے در کی ٹھوکریں کھاتا ہے۔ تاجر بھتہ دیتا ہے، غریب ٹینکر کا پیسہ دیتا ہے۔ پورا نظام ایک مافیا کے کنٹرول میں ہے جسے عوام کے درد سے کوئی سروکار نہیں۔20 سال بہت ہوتے ہیں۔ اتنے وقت میں قومیں ترقی کر جاتی ہیں۔ یہاں صرف وعدے، صرف اشتہار، صرف فوٹو سیشن ہوا۔ بنیادی سہولت پانی تک نہ دے سکے۔ سوال اب یہ ہے جب ادارے مر جائیں، احتساب دفن ہو جائے، اور آواز دبا دی جائے، تو ظلم کا خاتمہ کیسے ہوگا؟ تاریخ بتاتی ہے کہ جب حکمران عوام کی پیاس اور تڑپ کو مذاق سمجھ لیتے ہیں، تو عوام کی خاموشی ٹوٹتی ہے۔ سندھ کے عوام مزید دھوکے، مزید وعدے، مزید 5 سال برداشت نہیں کریں گے۔

واٹر بورڈ کی نااہلی کا خاتمہ،احتساب، گرفتاری اور نئی ٹیم ناگزیر ہوگیا! مسعود حسین جعفری

واٹر بورڈ کی نااہلی کا خاتمہ احتساب گرفتاری اور نئی ٹیم ناگزیر ہے۔پانی ہر شہری کا بنیادی حق ہے لیکن جب یہی پانی نلکوں سے غائب ہو جائے گلیوں میں بہتا نظر آئے یا مہینوں سے بند موٹر کی وجہ سے پورا محلہ پیاسا رہے تو پھر سمجھ لینا چاہیے کہ ادارہ نہیں نااہلی راج کر رہی ہے۔ آج کراچی سمیت پورے سندھ میں کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن جسے عام زبان میں واٹر بورڈ کہا جاتا ہے اسی نااہلی کی بدترین مثال بن چکا ہے۔کبھی موٹر خراب کبھی لائن پھٹ گئی یہ حادثہ نہیں پالیسی ہے۔گزشتہ کئی سالوں سے شہری ایک ہی رونا رو رہے ہیں گرمی بڑھتے ہی پانی کی قلت رات گئے تک موٹریں نہ چلنا پرانی اور بوسیدہ لائنوں کا پھٹ جانا اور پھر ہفتوں تک مرمت کے نام پر خاموشی جب شکایت کی جائے تو جواب ایک ہی ملتا ہے۔کبھی موٹر جل گئی تو کبھی مین لائن لیک ہو گئی تو کبھی فنڈز نہیں آئے وغیرہ وغیرہ سوال یہ ہے کہ یہ موٹر ہر سال ہی کیوں جلتی ہے؟ یہ لائن صرف غریب علاقوں میں ہی کیوں پھٹتی ہے؟ اربوں روپے کے بجٹ کے باوجود نئی پائپ لائن کیوں نہیں بچھتی؟ اصل مسئلہ تکنیکی نہیں انتظامی اور اخلاقی ہے۔ جب ادارے کے سربراہ سے لے کر فیلڈ اسٹاف تک جوابدہی کا تصور ختم ہو جائے تو پھر ہر خرابی کو تکنیکی فالٹ کہہ کر عوام کو بیوقوف بنایا جاتا ہے۔ایم ڈی کی گرفتاری اور کڑا احتساب وقت کی ضرورت ہے۔کسی بھی ادارے کی کارکردگی کا تمام تر بوجھ اس کے سربراہ پر ہوتا ہے۔ واٹر بورڈ کے ایم ڈی وہ شخص ہیں جن کے ہاتھ میں پورے شہر کے پانی کا نظام ہے اگر ان کی نگرانی میں سالہا سال سے نظام زبوں حالی کا شکار ہے کروڑوں کے منصوبے کاغذوں تک محدود ہیں، اور ٹینکر مافیا دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے تو پھر خاموش تماشائی بنے رہنا جرم ہے۔لہذا سب سے پہلے واٹر بورڈ کے موجودہ ایم ڈی کو فوری طور پر گرفتار کر کے نیب یا کسی آزاد کمیشن کے تحت کڑا احتساب کیا جائے ان سے پوچھا جائے کہ گزشتہ 5 سال میں واٹر پراجیکٹس کے لیے آئے ہوئے فنڈز کہاں خرچ ہوئے؟ کتنی نئی لائنیں بچھیں اور کتنی صرف فائلوں میں بچھائی گئیں؟ ٹینکر مافیا کو کس کی سرپرستی حاصل ہے؟ ہر بار موٹر اور لائن کی مرمت کے نام پر جو ٹھیکے دیے گئے ان میں کمیشن کس نے کھایا؟ جب تک بڑے مگرمچھوں پر ہاتھ نہیں ڈالا جائے گا چھوٹے ملازمین کا احتساب محض دکھاوا رہے گا۔پورے عملے کو فارغ کر کے نئی پروفیشنل ٹیم لائی جائے۔ایک سڑا ہوا نظام چند لوگوں کی تبدیلی سے ٹھیک نہیں ہوتا۔ واٹر بورڈ میں اوپر سے لے کر نیچے تک ایک مخصوص مافیا بیٹھا ہے۔ کوئی لائن مین بغیر رشوت کام نہیں کرتا کوئی افسر فائل آگے نہیں بڑھاتا اور کوئی انجینئر سائٹ کا وزٹ نہیں کرتا یہ سب ایک زنجیر کی کڑیاں ہیں اس لیے مطالبہ ہے کہ واٹر بورڈ کے تمام غیر ضروری کرپٹ اور نااہل عملے کو فوری برطرف کیا جائے ان کی جگہ میرٹ پر ٹیسٹ اور انٹرویو کے ذریعے نوجوان، پڑھے لکھے اور ٹیکنیکل لوگوں کو بھرتی کیا جائے۔ نئی ٹیم میں سول انجینئرز، واٹر مینجمنٹ کے ماہرین اور آئی ٹی کے لوگ شامل ہوں جو SCADA سسٹم، لیک ڈیٹیکشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل بلنگ جیسے جدید نظام لاگو کر سکیں۔ پرانے بابو کلچر کو ختم کرنا ہو گا۔پانی سیاست نہیں، زندگی ہے۔واٹر بورڈ کو اب مزید تجربے کی بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا۔ ہر گرمی میں بچوں کا پانی کے لیے ترسنا خواتین کا گھنٹوں لائنوں میں لگنا اور بیماریوں کا پھیلنا کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے شرمندگی ہے۔ حکومت کو فیصلہ کرنا ہو گا یا تو وہ عوام کے ساتھ کھڑی ہے یا اس مافیا کے ساتھ جو پانی بیچ کر کروڑ پتی بن رہا ہے۔ ایم ڈی کی گرفتاری مکمل احتساب اور پورے عملے کی تبدیلی کے بغیر یہ گرداب نہیں ٹوٹے گا۔ اب مزید کمیٹیاں نہیں ایکشن چاہیے۔ کیونکہ پانی بند تو زندگی بند۔