ٹرمپ انتظامیہ کی ایران میں رجیم چینج کی آرزو دم توڑ چکی! مسعود حسین جعفری

ٹرمپ رجیم چینج چاہتے تو ہیں، مگر پاکستان والا فارمولا ایران پر نہیں چل سکتا۔ وجہ ایران میں امریکی اثر و رسوخ صفر ہے۔سیدھا سا سوال ہے کیا ٹرمپ واقعی ایران میں رجیم چینج چاہتے ہیں؟ تو جواب ہاں، لیکن کھل کر نہیں کہتے۔ ثبوت یہ ہیں پہلی ٹرم 2017-2021 ٹرمپ نے 2018 میں ایران نیوکلیئر ڈیل JCPOA ختم کی اور “زیادہ سے زیادہ دباؤ پالیسی لگائی۔ مقصد تھا کہ معاشی پابندیوں سے ایرانی عوام تنگ آ کر حکومت گرا دیں۔فروری 2026 میں امریکہ-اسرائیل حملے کے بعد ٹرمپ نے کہا ایرانی عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ایٹم بم چاہتے ہیں یا خوشحالی یہ رجیم چینج کا بالواسطہ اشارہ تھا۔ ٹرمپ عوامی سطح پر کہتے ہیں ہم رجیم چینج نہیں چاہتے، صرف ایٹم بم نہیں چاہیے۔ مگر 2026 میں CIA کی رپورٹ لیک ہوئی کہ امریکہ ایران میں عوامی بے چینی کو سپورٹ کر رہا ہے۔امریکہ کے پاس 3 آپشن ہیں اور تینوں مشکل بھی۔پہلا فوجی حملہ کر کے حکومت گرانا عراق 2003 ماڈل ۔دوسرا پابندیوں سے معیشت تباہ کر کے عوامی بغاوت شاہ ایران 1979 ماڈل۔تیسرا اندر سے کوئی جنرل/گروپ توڑنا پاکستان/مصر ماڈل۔سعودی عرب کی ٹرمپ سے بڑی خواہش تھی ایران پر حملے جاری رکھو مگر رجیم چینج نہیں چاہتا، کیونکہ اس کے بعد خانہ جنگی ہو گی اور حوثی/داعش بارڈر پر آ جائیں گے۔انور قرقاش UAE نے کہا تھا GCC کا ایران پر ردعمل تاریخی طور پر سب سے کمزور تھا، کیونکہ سب کو ڈر ہے کہ رجیم چینج سے خطہ 10 سال کے لیے جلے گا اور پاکستان والا کھیل ایران میں ناممکن ہے۔ 2026 کی جنگ بندی کے بعد پالیسی یہ ہے۔ایران کو ایٹم بم سے روکو، میزائل پروگرام محدود کرو، اور پراکسیز کی فنڈنگ بند کرواؤ۔ حکومت گرانا دوسرے نمبر کا ہدف ہے، اور وہ بھی ایرانی عوام خود کریں کی امید پر۔اس سوال کا سیدھا جواب ٹرمپ چاہتا ہے، مگر کر نہیں سکتا۔ پاکستان میں امریکہ کنگ میکر ہے، ایران میں تماشائی ہے۔

عوام پر ٹیکس کا بوجھ بہت زیادہ ہے،پیٹرول عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے! مسعود حسین جعفری

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کا بوجھ واقعی بہت زیادہ ہے اور اس وقت قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں۔اس وقت پیٹرول پر کتنا ٹیکس ہے؟ مئی 2026 حالیہ اعداد و شمار کے مطابق پیٹرول کی قیمت*: 414.78 روپے فی لیٹر ڈیزل کی قیمت 414.58 روپے فی لیٹر 317c ٹیکس کی تفصیل فی لیٹر پیٹرول پیٹرولیم لیوی 160.61 روپے تک، یا فروری 2026 کی دستاویز کے مطابق 84.40 روپے کسٹم ڈیوٹی 24.12 روپے سے 15.84 روپے تک کلائمیٹ سپورٹ لیوی 2.50 روپے آئل کمپنیوں کا مارجن 7.87 روپے ڈیلرز کا کمیشن 8.64 روپے ۔ایک رپورٹ کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت کا تقریباً 46% صرف ٹیکسز اور مارجنز پر مشتمل ہے۔ یعنی اگر ایکس ریفائنری قیمت 247.15 روپے ہے تو عوام 211.26 روپے صرف ٹیکس ادا کر رہی ہے۔ سیلز ٹیکس فی الحال صفر ہے۔ ڈیزل پر ایکس ریفائنری پرائس 461.23 روپے پر 59.12 روپے کے ٹیکسز ہیں، یعنی 11.36%۔ پیٹرولیم لیوی صفر ہے لیکن 35.74 روپے کسٹم ڈیوٹی ہے۔ حکومت مزید ٹیکس کیوں لگا رہی ہے؟ آئی ایم ایف کے مطالبات آئی ایم ایف نے بجٹ 2026-27 کے لیے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی نہ دی جائے اور ٹیکس چھوٹ کم سے کم رکھی جائے۔ مالی بوجھ سے بچنے کے لیے ایندھن کی قیمتوں میں بروقت ایڈجسٹمنٹ کا کہا گیا ہے۔پیٹرولیم لیوی کا ہدف حکومت 1468 ارب روپے کے سالانہ ہدف کے قریب ہے، لیکن اس کے باوجود لیوی مزید بڑھانے پر غور ہو رہا ہے۔عالمی قیمتیں مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل مہنگا ہوا ہے۔ پاکستان درآمدی تیل پر انحصار کرتا ہے اس لیے اثر سیدھا پڑتا ہے۔ مہنگائی کا دباؤ 400 روپے سے اوپر پیٹرول سے ٹرانسپورٹ، خوراک، بجلی سب مہنگی ہوتی ہے۔ ماہرین مئی میں مزید جھٹکے کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔عوام پر بوجھ تنخواہ دار طبقہ اور غریب آدمی کے لیے گزارا مشکل ہو گیا ہے، کیونکہ آمدنی نہیں بڑھی لیکن خرچے دگنے ہو گئے۔ حکومتی موقف قرض اور خسارہ آئی ایم ایف کے مطابق ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح بڑھانی ہے اور قرضوں کا بوجھ کم کرنا ہے۔ پیٹرولیم لیوی حکومت کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہے۔شرح نمو کا ہدف اصلاحات سے آئندہ مالی سال شرح نمو 5.5% تک رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بے شک عوام پر ٹیکس کا بوجھ بہت زیادہ ہے اور 414 روپے لیٹر پیٹرول عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔ حکومت آئی ایم ایف پروگرام، قرضوں کی ادائیگی اور بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے لیوی بڑھا رہی ہے۔تباہی کا انحصار اس پر ہے کہ یہ پالیسیاں کب تک چلتی ہیں۔ اگر ٹیکس سے جمع پیسہ صحت، تعلیم، روزگار پر لگے اور کرپشن کم ہو تو معیشت سنبھل سکتی ہے۔ اگر صرف قرض اتارنے اور خسارہ پورا کرنے میں لگتا رہے تو عوام کا اعتماد مزید کم ہوگا۔بہت سے ماہرین بھی کہہ رہے ہیں کہ بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کم کر کے براہ راست ٹیکس نیٹ بڑھانا چاہیے تاکہ بوجھ صرف عام آدمی پر نہ پڑے۔

ایران اسرائیل امریکہ جنگ بندی صرف کاغذ پر ہے، متحدہ عرب امارات تعصب اور جہالت کا شکار

خلیج میں صورتحال کافی کشیدہ ہے، لیکن ابھی سفارتی حل کی امیدیں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔تازہ ترین صورتحال کے مطابق جمعرات 7 مئی کو امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان آبنائے ہرمز میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ امریکہ کے مطابق ایران نے 3 امریکی نیوی ڈسٹرائرز پر میزائل، ڈرون اور چھوٹی کشتیوں سے حملہ کیا۔ امریکہ نے جوابی کارروائی میں ایران کے میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس کو نشانہ بنایا۔جمعہ 8 مئی کی صبح ایران نے متحدہ عرب امارات پر ڈرون اور میزائلوں کی بوچھاڑ کی۔ UAE نے کہا اس کے فضائی دفاعی نظام فعال طور پر حملے کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ فجیرہ میں تیل کی تنصیب پر حملے میں 3 بھارتی شہری زخمی بھی ہوئے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی ابھی بھی برقرار ہے۔ انہوں نے امریکی کارروائی کو “just a love tap” اور ایرانی حملے کو “trifle” قرار دیا۔ ٹرمپ نے کہا: “They trifled with us today. We blew them away” لیکن یہ بھی کہا کہ “The ceasefire is going. It’s in effect”۔
ٹرمپ نے خود کہا “We’re negotiating with the Iranians” اور یہ کہ ڈیل “any day” آ سکتی ہے۔ امریکہ ایران کے جواب کا انتظار کر رہا ہے ایک امریکی امن تجویز پر۔ 7 اپریل کو اعلان کردہ جنگ بندی کو دونوں فریق ابھی توڑنے سے انکاری ہیں۔ امریکہ کہتا ہے “CENTCOM does not seek escalation”۔ ایران نے بھی کہا کہ قشم جزیرے اور ساحلی شہروں میں صورتحال “back to normal” ہے۔ تجزیہ کار اسے جنگ بندی کا سب سے سنجیدہ امتحان کہہ رہے ہیں۔ دونوں طرف سے دھمکیاں بھی جاری ہیں۔ ٹرمپ نے کہا اگر ایران نے ڈیل سائن نہ کی تو “we’ll knock them out a lot harder”۔ جھڑپوں کے بعد برینٹ کروڈ $102 فی بیرل سے اوپر چلا گیا، جو ظاہر کرتا ہے مارکیٹ بھی پریشان ہے۔  جنگ بندی کاغذ پر قائم ہے اور سفارتی چینل کھلے ہیں۔ پاکستان ثالثی کر رہا ہے۔ لیکن آبنائے ہرمز میں فائرنگ اور UAE پر حملے نے اسے بال سے لٹکا دیا ہے۔ فوری حل کی امیدیں کمزور ضرور ہوئی ہیں، مگر ٹرمپ اور ایران دونوں مکمل جنگ سے بچنے کی بات کر رہے ہیں۔ اگلے چند دن اہم ہوں گے کہ ایران امریکی تجویز کا کیا جواب دیتا ہے۔ صورتحال بہت تیزی سے بدل رہی ہے۔

کراچی بار ایسوسی ایشن کے انتخابات، مسعود حسین جعفری کی تفصیلی رپورٹ

کراچی بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں جعلی بلیٹ پیپر کے تھیلے والا معاملہ دراصل الیکشن ملتوی ہونے اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے سے جڑا ہوا ہے۔ کراچی بار ایسوسی ایشن کا الیکشن 23 دسمبر 2025 کو ہونا تھا، لیکن عین موقع پر ملتوی کر دیا گیا۔صدر کراچی بار عامر نواز وڑائچ کے مطابق الیکشن کمشنر کی طبیعت ناساز تھی اس لیے پولنگ شروع نہ ہو سکی۔ بار نے رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو متبادل چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے خط بھی لکھا۔ 21 دسمبر 2025 کو حق نواز تالپور ایڈووکیٹ کو چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا تھا۔ انہوں نے چارج سنبھالتے ہی کہا کہ غیر معمولی صورتحال ہے۔ان کے مطابق آزاد اور شفاف انتخابات کے لیے 200 سے زائد غیر جانبدار پولنگ اسٹاف درکار تھا
امیدواروں سے مشاورت کے بعد 17 جنوری کو پولنگ کی نئی تاریخ دی گئی۔چیف الیکشن کمشنر حق نواز تالپور نے استعفے میں کہا کہ کچھ امیدواروں نے ابتدائی اتفاق رائے کے باوجود سیاسی مفادات کے تحت معاملات کو متنازع بنایا سوشل میڈیا پر ان پر ذاتی حملے ہوئے اجتماعی فیصلے کو ذاتی فیصلہ قرار دے کر بار کے جمہوری اصولوں اور وقار کو نقصان پہنچایا گیا۔وکلاء حلقوں اور سوشل میڈیا پر یہ الزامات گردش کرتے رہے کہ الیکشن میں دھاندلی کے لیے جعلی بلیٹ پیپر تیار کیے گئے تھے، اور اسی غیر معمولی صورتحال کی وجہ سے الیکشن رکا۔ اسی تنازع پر حق نواز تالپور 23 دسمبر کو مستعفی ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نیک نیتی سے کیے فیصلے پر عمل درآمد ممکن نہیں تو عہدے پر رہنے کا جواز نہیں۔ الیکشن سے پہلے منیجنگ کمیٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ دوہری رکنیت رکھنے والے اراکین کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کیے جائیں گے۔ اس پر بھی تنازع ہوا۔ الیکشن ملتوی ہونے کی بڑی وجہ غیر معمولی صورتحال امیدواروں کے آپس کے اختلافات اور شفافیت پر سوالات تھے۔ چیف الیکشن کمشنر نے انہی الزامات اور دباؤ کی وجہ سے استعفیٰ دیا۔ نئی تاریخ کا اعلان 17 جنوری کیا گیا تھا، مگر اس کے بعد کیا ہوا ؟

سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ویڈیوز گردش کر رہی ہیں۔ سرکاری میڈیا/اخبارات نے “تھیلے پکڑے گئے” کی تفصیل شائع نہیں کی، لیکن وکلاء حلقوں میں جو کہانی وائرل ہوئی وہ یہ ہے وائرل ویڈیو میں کیا دعویٰ کیا گیا وکلاء کے ایک گروپ کا دعویٰ ہے کہ الیکشن والے دن سٹی کورٹ میں کچھ مشکوک تھیلے دیکھے گئے۔وکلاء نے ہنگامہ کرتے ہوئے وہ تھیلے قبضے میں لیے اور موقع پر موجود سینکڑوں وکلاء کے سامنے کھول دیے۔ویڈیو بنانے والے وکلاء کا کہنا ہے کہ تھیلوں میں پہلے سے مہر لگے جعلی بلیٹ پیپر تھے۔ کچھ پر تو مخصوص امیدواروں کے حق میں ٹھپے بھی لگے ہوئے تھے۔اسی ہنگامے کے دوران چیف الیکشن کمشنر حق نواز تالپور نے الیکشن ملتوی کر دیا۔ بعد میں اپنے استعفے میں انہوں نے غیر معمولی صورتحال اور سیاسی مفادات کے تحت معاملات متنازع بنانے کا ذکر کیا وکلاء کے دو گروپ بن گئے ایک گروپ کا کہنا تھا کہ یہ دھاندلی کی کوشش تھی، دوسرے گروپ نے اسے ڈرامہ قرار دیا۔ابھی تک کراچی بار یا پولیس کی طرف سے جعلی بلیٹ پیپر کے تھیلے برآمد ہوئے کی کوئی FIR یا سرکاری پریس ریلیز سامنے نہیں آئی۔ الیکشن 17 جنوری 2026 کو دوبارہ کرانے کا اعلان ہوا تھا، لیکن اس کے بعد کی اپڈیٹ رپورٹ نہیں ہوئی۔ وکلاء گروپس کے درمیان کیس سندھ ہائی کورٹ میں بھی گیا، مگر جعلی بلیٹ پیپر والی ویڈیو کی فرانزک یا عدالتی تصدیق کی خبر نہیں ملی۔چونکہ یہ ویڈیو سرکاری اداروں سے تصدیق شدہ نہیں ہے، اس لیے قانونی طور پر ابھی اسے الزام ہی سمجھا جائے گا۔
کراچی بار جیسے بڑے الیکشن میں دھڑے بندی بہت سخت ہوتی ہے، اس لیے ایسے الزامات ہر سال سامنے آتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ اس بار ویڈیو کی وجہ سے معاملہ زیادہ ہائی لائٹ ہو گیا۔

این۔پی۔ٹی کے رکن کی حیثیت سے ایران کو پرامن جوہری توانائی کا حق حاصل ہے! مسعود حسین جعفری

این۔پی۔ٹی کے رکن کی حیثیت سے ایران کو پرامن جوہری توانائی کا حق حاصل ہے! مسعود حسین جعفری

ایران کے اندر بھی بہت سے حلقے یہی موقف رکھتے ہیں کہ جوہری پروگرام قومی خودمختاری اور دفاع کا معاملہ ہے، اس سے دستبردار نہیں ہونا چاہیے۔ایران کے موقف کے پیچھے یہ دلائل دیے جاتے ہیں قومی خودمختاری ایران کا کہنا ہے کہ NPT کے رکن کی حیثیت سے اسے پرامن جوہری توانائی کا حق حاصل ہے۔ 2015 کے JCPOA معاہدے کے تحت بھی افزودگی کی محدود اجازت تھی، جس سے ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر نکل کر معاہدہ توڑا۔سیکیورٹی ڈیٹرنس ایرانی حکام کئی بار کہہ چکے ہیں کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد جوہری پروگرام ہی ملک کے تحفظ کی ضمانت ہے۔ ٹرمپ نے خود کہا کہ اگر امریکا ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ نہ بناتا تو وہ مشرق وسطیٰ کو تباہ کر چکا ہوتا۔ ایران اسی کو دلیل بناتا ہے کہ پروگرام رکھنا ضروری ہے۔ماضی کا تجربہ ایران کا کہنا ہے کہ لیبیا اور عراق نے اپنے پروگرام ختم کیے، پھر بھی ان پر حملہ ہوا۔ اس لیے صرف پروگرام ختم کرنا سیکیورٹی کی گارنٹی نہیں۔معاشی فائدہ جوہری توانائی سے بجلی، میڈیکل آئسوٹوپس اور زرعی تحقیق میں مدد ملتی ہے۔ پابندیوں کے باوجود ایران یہ ٹیکنالوجی نہیں چھوڑنا چاہتا۔امریکا نے واضح کیا ہے کہ جوہری پروگرام بحال ہوا تو کارروائی کریں گے اور وہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی برقرار رکھے ہوئے ہے۔جنگ تیل کی برآمدات رکنے اور 3 ماہ کا خوراک کا ذخیرہ رہ جانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ایران چاہتا ہے پہلے جنگ بندی ہو، جوہری بات بعد میں مگر امریکا جوہری پروگرام کو ہی بنیادی مسئلہ سمجھتا ہے۔اس لیے ایران کے سامنے چوائس ہے: مکمل ڈٹ جانا اور پابندیوں/جنگ کا خطرہ مول لینا، یا کوئی ایسا فارمولا نکالنا جیسے 2015 میں تھا، جس میں محدود افزودگی کی اجازت ہو لیکن ہتھیار نہ بنائے جائیں۔

ایران کے مطالبات جارحیت کا خاتمہ، نقصانات کا معاوضہ، اور آبنائے ہرمز پر ایران کا اختیار تسلیم کرنا، مسعود حسین جعفری

ایران نے امریکا کو اپنے مطالبات بھیجے ہیں، جن میں جارحیت کا خاتمہ، نقصانات کا معاوضہ، اور آبنائے ہرمز پر ایران کا اختیار تسلیم کرنا شامل ہے۔ابھی تک ایران نے امریکی مطالبات پر اپنا جوہری پروگرام مکمل بند کرنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔ تازہ صورتحال کچھ یوں ہے امریکا کا 15 نکاتی منصوبہ سامنے آیا ہے جس میں اہم مطالبات یہ ہیں۔جوہری پروگرام کا خاتمہ نطنز، اصفہان اور فردو کی تنصیبات ختم کرنا یورینیم افزودگی پر مکمل پابندی پہلے سے افزودہ یورینیم IAEA کے حوالے کرنا، اور ملک کے اندر افزودگی نہ کرنا۔میزائل پروگرام میں کمی اور علاقائی گروپوں کی حمایت ختم کرنا۔آبنائے ہرمز کھولنا۔ٹرمپ نے واضح کہا ایران کو جوہری سرگرمیاں بند کرنا ہوں گی، جوہری پروگرام بحال ہوا تو کارروائی کریں گے۔ اور ایران کا موقف یہ ہے کہ ایران نے مکمل انکار نہیں کیا مگر شرائط سخت ایران نے امریکی شرائط کو غیر معمولی حد سے زیادہ قرار دیا ہے۔جوہری پروگرام پر بات بعد میں ایران نے نئی پیشکش کی ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے اور جنگ ختم کرنے کے لیے بات ہو، لیکن جوہری مذاکرات کو فی الحال مؤخر کر دیا جائے۔جوابی مطالبات میں ایران نے امریکا کو اپنے مطالبات بھیجے ہیں، جن میں جارحیت کا خاتمہ، نقصانات کا معاوضہ، اور آبنائے ہرمز پر ایران کا اختیار تسلیم کرنا شامل ہے۔ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ یورینیم افزودگی یا جوہری مواد سے متعلق مذاکرات کی خبریں “محض قیاس آرائیاں ہیں”۔ ایران کی توجہ صرف جنگ کے خاتمے پر ہے۔دونوں فریق بات کر رہے ہیں، مگر بڑا فاصلہ باقی ہے۔امریکا کا دباؤ بڑھتا جارہا ہے امریکا سمجھتا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے ایران پر دباؤ ہے تاکہ وہ افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ختم کرے۔اس پر ایران کا جواب ایرانی پارلیمنٹ کے ترجمان نے امریکی تجویز کو امریکی خواہشات کی فہرست کہا اور واضح کیا کہ واشنگٹن جو چیزیں دو بدو ملاقات میں حاصل نہیں کرسکتا وہ اُسے ہاری ہوئی جنگ سے نہیں ملیں گی۔4 مئی 2026 کو ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکی تجویز زیر غور ہے، لیکن حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ امریکا کے غیر معمولی مطالبات کی وجہ سے جائزہ لینا آسان نہیں۔ایران فی الحال جوہری پروگرام بند کرنے پر تیار نہیں۔ وہ جوہری مسئلے کو جنگ بندی سے الگ رکھنا چاہتا ہے، جبکہ امریکا جوہری پروگرام کا مکمل خاتمہ چاہتا ہے۔ دونوں میں مذاکرات چل رہے ہیں اور پاکستان ثالثی کر رہا ہے، لیکن کسی فوری معاہدے کا امکان کم ہے۔

یونیورسٹی روڈ ،بار بار ڈیزائن بدلنے پر دونوں ادارے ناخوش ہیں۔ ADB کا قرضہ 2022 میں شروع ہوا تھا

یونیورسٹی روڈ کے معاملے پر ورلڈ بینک اور دیگر اداروں نے بھی تحفظات اٹھائے ہیں مگر کرپشن پر براہِ راست کم، اور تاخیر + پلاننگ پر زیادہ۔اگر ورلڈ بینک کا کردار دیکھا جائے تو ریڈ لائن BRT میں ورلڈ بینک براہِ راست فنڈنگ نہیں کر رہا۔ یہ منصوبہ ایشین ڈیولپمنٹ بینک ADB کے 79 ارب روپے کے قرض سے بن رہا ہے۔البتہ ورلڈ بینک Yellow Line BRT میں مدد کر رہا ہے، اور اسی لیے سندھ حکومت نے Red Line کی تاخیر پر کہا کہ ہم ورلڈ بینک کی مدد سے دن رات کام کر رہے ہیں۔ یعنی ورلڈ بینک کو اس پورے BRT نیٹ ورک کی ساکھ کی فکر ہے۔ اب کن اداروں نے اعتراض اٹھایا؟ سول ایوی ایشن اتھارٹی  50% کام مکمل ہونے کے بعد CAA نے پورے ڈیزائن پر اعتراض کر دیا اور اسے دوبارہ بنوانے کا کہا۔ اسی وجہ سے پروجیکٹ 2026 تک مزید لیٹ ہو گیا۔ وزیر شرجیل میمن نے اس پر شدید ناراضگی ظاہر کی۔سندھ ہائی کورٹ SHC عدالت نے 5 مئی 2026 کو شدید تشویش ظاہر کی کہ یونیورسٹی روڈ اب تک نامکمل ہے۔ عدالت نے کہا پورے لائف اسپین کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔یوٹیلیٹی ادارے PTCL اور K-Electric نے لائنز شفٹ کرنے کے کروڑوں روپے مانگ لیے جس سے کام رکا۔ KWSC نے بھی Red Line کمپنی کو 3.5 کروڑ کا بل بھیجا کیونکہ ان کی لائن لیک ہو گئی تھی۔ کرپشن پر بین الاقوامی ردعمل؟ ابھی تک ورلڈ بینک یا ADB نے کھل کر کرپشن کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ مگر تاخیر، لاگت بڑھنے، اور بار بار ڈیزائن بدلنے پر دونوں ادارے ناخوش ہیں۔ ADB کا قرضہ 2022 میں شروع ہوا، منصوبہ 2025 میں مکمل ہونا تھا، اب 2028 تک چلا گیا ہے۔ یہاں ٹھیکیدار کا یہ موقف ہے ٹھیکیدار نے عدالت میں کہا کہ بار بار ڈیزائن بدلنا اور منظوری میں تاخیر اصل وجہ ہے، اور عوام کو غلط تاثر دیا جا رہا ہے کہ صرف کنٹریکٹر ذمہ دار ہے۔ ورلڈ بینک نے براہِ راست کرپشن کا الزام نہیں لگایا، کیونکہ یہ ADB کا پروجیکٹ ہے۔ مگر CAA، سندھ ہائی کورٹ، KWSC، اور یوٹیلیٹی کمپنیوں کے اعتراضات سامنے آ چکے ہیں۔ ADB کے لیے لاگت کا بڑھنا اور 6 سال کی تاخیر یقیناً “ریڈ فلیگ” ہے، اسی لیے اب FWO کو کام دیا گیا ہے۔ 15bc

سڑکوں کے ٹھیکوں میں ہر سطح کے افسران کرپشن میں ملوث ہیں۔ “بلیو آئیڈ” ٹھیکیداروں کو مہنگے ٹھیکے ملتے ہیں اور متعلقہ محکموں کے وزراء بھی حصہ لیتے ہیں۔

یونیورسٹی روڈ پچھلے ساڑھے 4 سال سے ریڈ لائن BRT کی وجہ سے تباہ حال ہے۔ سڑک پر بڑے گڑھے، سیوریج کا پانی اور ٹریفک جام معمول ہے۔ شہری روزانہ حادثات کا شکار ہو رہے ہیں۔ کرپشن کے الزامات اور ذمہ دار کون؟ سرکاری افسران + ٹھیکیدار گٹھ جوڑ سڑکوں کے ٹھیکوں میں ہر سطح کے افسران کرپشن میں ملوث ہیں۔ “بلیو آئیڈ” ٹھیکیداروں کو مہنگے ٹھیکے ملتے ہیں اور متعلقہ محکموں کے وزراء بھی حصہ لیتے ہیں۔کے ایم سی نے اب تک سڑکوں پر 1500 ملین روپے خرچ کیے، جبکہ مرمت کے لیے 4000 ملین درکار ہیں۔ 2023-24 کا 3.6 ارب کا بجٹ ابھی تک جاری نہیں ہوا۔ فنڈز میں تاخیر سے کام رکا ہوا ہے۔مرتضیٰ وہاب نے مانا کہ کام کا معیار تسلی بخش نہیں تھا اور ذمہ داری قبول کی۔ انہوں نے کہا حادثے والی جگہ کا ٹاؤن چیئرمین جماعت اسلامی کا ہے۔جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان نے شہر کو ٹوٹی سڑکوں اور ناکام منصوبوں کا بھول بھلیاں کہا۔وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے Red Line کے Lot 2 کا ٹھیکہ سست روی اور ناقص کارکردگی پر منسوخ کر دیا۔ 4 سال پہلے ٹھیکہ دیا گیا تھا مگر کام معیاری نہیں تھا۔ اب موجودہ صورتحال میں وزیراعلیٰ نے یونیورسٹی روڈ کی مکسڈ ٹریفک لین 90 دن میں بنانے کا اعلان کیا ہے۔ FWO سے بات ہوئی ہے اور عید کی چھٹیوں میں بھی کام جاری رہے گا۔ براہِ راست کسی ایک شخص کا نام عدالت میں ثابت نہیں ہوا، لیکن رپورٹس کے مطابق KMC افسران، ٹھیکیدار مافیا، متعلقہ وزراء، اور ناقص کارکردگی والے کنٹریکٹرز اس تباہی کے ذمہ دار قرار دیے جا رہے ہیں۔ فنڈز کی عدم دستیابی اور احتساب نہ ہونا اصل وجہ ہے۔ یہ عوامی رپورٹس اور سیاسی بیانات پر مبنی ہے۔ حتمی ذمہ داری کا تعین انکوائری رپورٹ کے بعد ہی ہوگا، جو سندھ حکومت نے شروع کر دی ہے۔

وائٹ ہاؤس سمجھتا ہے کہ معاہدہ قریب ہے ایران سے 48 گھنٹے میں جواب کی توقع! مسعود حسین جعفری

پاکستانی ذرائع کے حوالے سے جو رپورٹ سامنے آئی ہے، وہ کئی میڈیا آؤٹ لیٹس کی رپورٹس سے مطابقت رکھتی ہے۔تازہ ترین صورتحال کے لحاظ سے ایک صفحے کی یادداشت پر معاہدہ Axios کی رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران ایک صفحے کی مفاہمتی یادداشت پر معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں تاکہ جنگ ختم کی جا سکے اور مزید تفصیلی جوہری مذاکرات کا فریم ورک طے ہو ایران نے امریکہ کو اپنی 14 نکاتی تجویز پاکستان کے ذریعے پہنچائی۔امریکہ نے بھی پاکستان کے ذریعے ایران کی تجویز کا جواب بھیجا ہے۔پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ساری رات رابطے میں رہے۔
اس ڈیل کو عارضی طور پر اسلام آباد ایکارڈ کا نام دیا جا رہا ہے۔معاہدے کے اہم نکات میں فوری جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا۔جبکہ ایران کی شرائط کے مطابق 30 دن کے اندر تمام مسائل حل کرنا، امریکی افواج کا انخلا، بحری ناکہ بندی اور پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثے بحال کرنا، اور لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ شامل ہیں۔دوسری جانب امریکی شرائط ایران کا جوہری افزودگی پر پابندی، امریکہ کا پابندیاں ہٹانا اور اربوں ڈالر کے منجمد فنڈز جاری کرنا شامل ہیں۔لیکن فریقین کا ٹائم لائن پر اختلاف ہے امریکہ 45-60 دن کی جنگ بندی چاہتا ہے، جبکہ ایران 30 دن میں مکمل معاہدہ چاہتا ہے۔پھر بھی حتمی صورتحال یہ ہے کہ ابھی تک کچھ بھی طے نہیں ہوا۔ وائٹ ہاؤس سمجھتا ہے کہ معاہدہ قریب ہے اور ایران سے 48 گھنٹے میں جواب کی توقع ہے، لیکن حکام نے خبردار کیا کہ ابھی تک کچھ بھی طے نہیں ہوا۔ ٹرمپ نے بھی کہا کہ وہ ایرانی تجویز کا جائزہ لے رہے ہیں لیکن شکوک کا اظہار کیا۔ یہ مذاکرات اپریل 2026 کی جنگ بندی کے بعد اسلام آباد میں ہونے والے تاریخی مذاکرات کا تسلسل ہیں۔ پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے کیونکہ امریکہ اور ایران کے براہ راست سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔

جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے UAE سمیت دیگر ممالک میں پیسہ گیا! مسعود حسین جعفری

منی لانڈرنگ اور UAE کے ذریعے پاکستان کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس پر دستیاب حقائق اور ریکارڈ کچھ یوں ہیں۔سرکاری تفتیش اور رپورٹس کے مطابق حبیب بینک HBL کی UAE میں کارروائیوں کی منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی فنانسنگ کے قوانین کی خلاف ورزی پر تحقیقات شروع کیں۔ پاکستان کے ریگولیٹر نے بھی 2018 میں HBL کی UAE آپریشنز میں بے ضابطگیاں پائی تھیں۔ 2018 میں حکومت کے اسپیشل اسسٹنٹ شہزاد اکبر نے بتایا کہ 5000 سے زائد جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے $1 ارب سے زیادہ رقم بیرون ملک لانڈر کی گئی۔ ان میں سے بہت سے اکاؤنٹس دبئی حکام کی مدد سے ٹریس کیے گئے۔ Dawn کی رپورٹ کے مطابق پاکستان سے پیسہ باہر لے جانے کا سب سے عام طریقہ “ٹریڈ مس ڈیکلریشن” ہے۔ مثلاً دبئی میں کمپنی رجسٹر کر کے جعلی سروسز یا مہنگے سامان کے بل بنا کر LC کے ذریعے رقم منتقل کرنا۔ 2023 میں سولر پینلز کی آڑ میں 16.2 ارب روپے کی منی لانڈرنگ پکڑی گئی۔شریف خاندان پر الزام وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے 2019 میں دعویٰ کیا کہ 1996-1998 میں 85 کروڑ روپے کی فارن ریمیٹنس ہُدیبیہ پیپر مل کے اکاؤنٹ میں آئیں، اور یہ رقم ہنڈی/ہوالہ سے باہر بھیجی گئی۔ دبئی لیکس” اور پاکستانی جائیدادیں 2024 میں “Dubai Unlocked” پراجیکٹ نے انکشاف کیا کہ 17,000 پاکستانیوں کی دبئی میں 23,000 پراپرٹیز ہیں، جن کی مالیت $11 ارب ہے۔سیاستدانوں کے نام آصف زرداری کے بچے، حسین نواز، محسن نقوی کی اہلیہ، فیصل واوڈا، شرجیل میمن، سابق جنرل پرویز مشرف، شوکت عزیز سمیت کئی نام شامل۔ سیاستدانوں کا مؤقف جن لوگوں کے نام آئے، ان میں سے اکثر نے کہا کہ یہ جائیدادیں ڈیکلیئرڈ ہیں اور FBR/ECP کو بتائی گئی ہیں۔ بلاول بھٹو کے ترجمان نے کہا کہ دبئی کی پراپرٹی بے نظیر بھٹو نے جلاوطنی میں خریدی تھی اور بچوں کو وراثت میں ملی۔ محسن نقوی نے کہا کہ اہلیہ کی پراپرٹی ٹیکس ریٹرن میں ڈیکلیئرڈ تھی اور بیچ دی گئی۔ متحدہ عرب امارات کو فائدہ اور پاکستان کو نقصان نقصان کے شواہد سرمایہ کا اخراج EU ٹیکس آبزرویٹری کے مطابق پاکستانیوں کی آف شور دولت 2001 میں 17% تھی جو 2022 میں 2% رہ گئی، یعنی پیسہ باہر گیا۔ 2018 کی رپورٹ میں کہا گیا کہ $5.3 ارب کی منی لانڈرنگ ہوئی۔ٹیکس چوری پاکستان میں رہائشی افراد کو بیرون ملک آمدنی پر ٹیکس دینا ہوتا ہے، لیکن اکثر ڈیکلیئر نہیں کرتے۔ پاکستان گرے لسٹ میں رہا  سرکاری رپورٹس، HBL کی تحقیقات، جعلی اکاؤنٹس، اور سولر اسکینڈل سے ثابت ہے کہ پاکستان سے غیر قانونی طور پر پیسہ باہر گیا۔بہت سے پاکستانیوں نے قانونی طریقے سے، ڈیکلیئر کر کے جائیدادیں خریدی ہیں۔ مسئلہ ان اثاثوں کا ہے جو آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے اور ڈیکلیئر نہیں۔ تاریخی طور پر پاکستان سے ہنڈی، جعلی تجارت اور جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے UAE سمیت دیگر ممالک میں پیسہ گیا ہے، جس سے پاکستان کو ٹیکس اور سرمائے کا نقصان ہوا۔ “دبئی لیکس” نے بتایا کہ پاکستانی اشرافیہ کی $11 ارب کی جائیدادیں دبئی میں ہیں۔ تاہم یہ کہنا کہ شہباز شریف کے حالیہ “حمایت کے اعلان” کا مقصد منی لانڈرنگ کو فائدہ دینا تھا، اس کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں۔ NAB اور UAE اب مل کر غیر قانونی اثاثوں پر کارروائی کی بات کر رہے ہیں۔