
کراچی بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں جعلی بلیٹ پیپر کے تھیلے والا معاملہ دراصل الیکشن ملتوی ہونے اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے سے جڑا ہوا ہے۔ کراچی بار ایسوسی ایشن کا الیکشن 23 دسمبر 2025 کو ہونا تھا، لیکن عین موقع پر ملتوی کر دیا گیا۔صدر کراچی بار عامر نواز وڑائچ کے مطابق الیکشن کمشنر کی طبیعت ناساز تھی اس لیے پولنگ شروع نہ ہو سکی۔ بار نے رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو متبادل چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے خط بھی لکھا۔ 21 دسمبر 2025 کو حق نواز تالپور ایڈووکیٹ کو چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا تھا۔ انہوں نے چارج سنبھالتے ہی کہا کہ غیر معمولی صورتحال ہے۔ان کے مطابق آزاد اور شفاف انتخابات کے لیے 200 سے زائد غیر جانبدار پولنگ اسٹاف درکار تھا
امیدواروں سے مشاورت کے بعد 17 جنوری کو پولنگ کی نئی تاریخ دی گئی۔چیف الیکشن کمشنر حق نواز تالپور نے استعفے میں کہا کہ کچھ امیدواروں نے ابتدائی اتفاق رائے کے باوجود سیاسی مفادات کے تحت معاملات کو متنازع بنایا سوشل میڈیا پر ان پر ذاتی حملے ہوئے اجتماعی فیصلے کو ذاتی فیصلہ قرار دے کر بار کے جمہوری اصولوں اور وقار کو نقصان پہنچایا گیا۔وکلاء حلقوں اور سوشل میڈیا پر یہ الزامات گردش کرتے رہے کہ الیکشن میں دھاندلی کے لیے جعلی بلیٹ پیپر تیار کیے گئے تھے، اور اسی غیر معمولی صورتحال کی وجہ سے الیکشن رکا۔ اسی تنازع پر حق نواز تالپور 23 دسمبر کو مستعفی ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نیک نیتی سے کیے فیصلے پر عمل درآمد ممکن نہیں تو عہدے پر رہنے کا جواز نہیں۔ الیکشن سے پہلے منیجنگ کمیٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ دوہری رکنیت رکھنے والے اراکین کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کیے جائیں گے۔ اس پر بھی تنازع ہوا۔ الیکشن ملتوی ہونے کی بڑی وجہ غیر معمولی صورتحال امیدواروں کے آپس کے اختلافات اور شفافیت پر سوالات تھے۔ چیف الیکشن کمشنر نے انہی الزامات اور دباؤ کی وجہ سے استعفیٰ دیا۔ نئی تاریخ کا اعلان 17 جنوری کیا گیا تھا، مگر اس کے بعد کیا ہوا ؟
سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ویڈیوز گردش کر رہی ہیں۔ سرکاری میڈیا/اخبارات نے “تھیلے پکڑے گئے” کی تفصیل شائع نہیں کی، لیکن وکلاء حلقوں میں جو کہانی وائرل ہوئی وہ یہ ہے وائرل ویڈیو میں کیا دعویٰ کیا گیا وکلاء کے ایک گروپ کا دعویٰ ہے کہ الیکشن والے دن سٹی کورٹ میں کچھ مشکوک تھیلے دیکھے گئے۔وکلاء نے ہنگامہ کرتے ہوئے وہ تھیلے قبضے میں لیے اور موقع پر موجود سینکڑوں وکلاء کے سامنے کھول دیے۔ویڈیو بنانے والے وکلاء کا کہنا ہے کہ تھیلوں میں پہلے سے مہر لگے جعلی بلیٹ پیپر تھے۔ کچھ پر تو مخصوص امیدواروں کے حق میں ٹھپے بھی لگے ہوئے تھے۔اسی ہنگامے کے دوران چیف الیکشن کمشنر حق نواز تالپور نے الیکشن ملتوی کر دیا۔ بعد میں اپنے استعفے میں انہوں نے غیر معمولی صورتحال اور سیاسی مفادات کے تحت معاملات متنازع بنانے کا ذکر کیا وکلاء کے دو گروپ بن گئے ایک گروپ کا کہنا تھا کہ یہ دھاندلی کی کوشش تھی، دوسرے گروپ نے اسے ڈرامہ قرار دیا۔ابھی تک کراچی بار یا پولیس کی طرف سے جعلی بلیٹ پیپر کے تھیلے برآمد ہوئے کی کوئی FIR یا سرکاری پریس ریلیز سامنے نہیں آئی۔ الیکشن 17 جنوری 2026 کو دوبارہ کرانے کا اعلان ہوا تھا، لیکن اس کے بعد کی اپڈیٹ رپورٹ نہیں ہوئی۔ وکلاء گروپس کے درمیان کیس سندھ ہائی کورٹ میں بھی گیا، مگر جعلی بلیٹ پیپر والی ویڈیو کی فرانزک یا عدالتی تصدیق کی خبر نہیں ملی۔چونکہ یہ ویڈیو سرکاری اداروں سے تصدیق شدہ نہیں ہے، اس لیے قانونی طور پر ابھی اسے الزام ہی سمجھا جائے گا۔
کراچی بار جیسے بڑے الیکشن میں دھڑے بندی بہت سخت ہوتی ہے، اس لیے ایسے الزامات ہر سال سامنے آتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ اس بار ویڈیو کی وجہ سے معاملہ زیادہ ہائی لائٹ ہو گیا۔







You must be logged in to post a comment.