انسانی حقوق اور دستور امریکہ


ہم نے پہلے دستور پاکستان کے چند ایسے آرٹیکیلز تحریر کیے جو انسانی حقوق سے متعلق بنائے گئے مگر افسوس اس بات پر کہ ہر با اثر شخصیت ان قوانین سے انحراف کرتی نظر آتی ہیں باالخصوص ایسی خاندانی سیاسی جماعتیں جو عوام کو آئین کے درس دیتی نہیں تھکتی ان میں آئین قانون و دستور پر عمل کا کھلا فقدان پایا جاتا ہے۔ ایک جمہوری مملکت میں خاندانی سیاست کو آمریت اور ملوکیت سمجھا جاتا ہے مگر عرض پاک میں سیاست خاندانی آمریت سے شروع کی جاتی ہے جو نسل در نسل ملوکیت کا روپ دھار کر انسانی حقوق غضب کر لیتی ہے۔

امریکہ میں آسمانی حقوق کی پاسداری کے لیے ایسے قوانین ترتیب دیے گئے ہیں جس کی بدولت انسانی حیات کو مکمل تحفظ فراہم ہوتا ہے جیسا کہ

امریکی آئین لوگوں کو وسیع پیمانے پر حقوق کی ضمانت فراہم کرتا ہے اور اس قانون پر سختی اور بلا روک ٹوک عمل کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب کانگریس پر پابندی عائد کی جاتی ہے کہ کانگریس کوئ قانون نہیں بنائے گی جس کی رو سے کسی مذہب کا قیام عمل میں آئے یا کسی مذہب پر عمل پیرا ہونے سے روکا جائے۔

تقریر اور پریس کی مکمل ازادی۔ آزادی اجتماع اور حکومت سے شکایت دور کرنے کی ضمانت آئین میں موجود ہے۔

کسی بھی شخص کو مقدمہ چلائے بغیر غداری کے الزام میں پھانسی کی سزا نہیں دی جاسکتی ۔کسی بھی شخص کو خودمختاری سے نہ تو قید کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی مبحوس کیا جاسکتا ہے۔ بغاوت یا جنگ کے علاؤہ قیدی کو عدالت میں پیش کرنے کی درخواست کو رد نہیں کیا جاسکتا ہر ملزم مطالبہ کرسکتا ہے کہ اس پر آزادانہ 

مقدمہ چلایا جائے۔


وہ دفاع کے لیے وکیل مقرر کرسکتا ہے اور عدالت شہادتیں قلمبند کرسکتیں ہیں۔ کسی شخثسے بہت زیادہ ضمانت کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا ۔ بغیر قانونی کارروائی کے کسی شخص کو زندگی، آزادی اور جائیداد سے محروم نہیں رکھا جاسکتا ۔

کسی شخص کو ذات، رنگ، جنس یا گزشتہ غلامی کی وجہ سے ووٹ دینے سے محروم نہیں کیا جاسکتا ۔

آمد و رفت اور پیشہ انتخاب کی مکمل آزادی ہے۔ قانون ہر شخص کی مساوی حفاظت کرتا ہے۔ کسی بھی شخص کی جائیداد بغیر مناسب معاوضہ دیئے حکومت نہیں کے سکتی۔ لوگوں کو ہتھیار رکھنے اور کے کر چلنے کی اجازت ہے۔

کسی بھی ریاست کے لیے انسانی حقوق کو ترجیحات میں شامل کیا جاتا ہے مگر افسوس کہ عرض پاک میں انسانی حقوق کی پامالی اس طرح کی جاتی ہے جیسے انسانی حقوق اور انسانیت کا تعلق ہمارے ملک کے لیے ہے ہی نہیں اور اگر ہے بھی تو چند ایسے افراد جو ملک و قوم پر مسلط کیے گئے ہیں صرف ان کے لیے تمام تر وسائل ہیں جس سے وہ قوم کی حق تلفی کرتے ہوئے اپنے لیے مخصوص کر لیں۔

Saved life

Under Article 9 of the Constitution, every citizen has the birthright of life and liberty which is also recognized by the Constitution and the government has the responsibility to make arrangements for the betterment of the lives of the citizens. There are those who are busy day and night to protect the lives and property of the citizens. Under Article 24 of the Constitution, no citizen can be deprived of his legal property. Every citizen in Pakistan has the right to buy, sell or own.

The government fully protects this right, but the property must be acquired legally. In the case of property, the 1973 constitution states that if the government wishes for a national need, it can remove an individual’s property from its possession and make it national. Can own It is imperative that the nationalized property be properly compensated to the citizen. No citizen can be deprived of his property without the formal permission of the law.
Under Article 25 of the Constitution, all citizens are equal in the eyes of the law. The Constitution of Pakistan considers all citizens equal and does not discriminate in any way. No one is considered superior to another because of his religion, nationality, race, property or any other reason
Can go All citizens can enjoy equal political and civil rights in the country. The constitution does not recognize caste discrimination in society. The concept of equality is present in every aspect of political, religious, economic and social purposes. However, there are separate rules for women and children and different rules have been laid down for their protection, such as their working hours and the nature of their work.

زندگی کا تحفظ

آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت ہر شہری کو زندگی اور آزادی کا پیدائشی حق حاصل ہے جسے آئین بھی تسلیم کرتا ہے اور حکومت پر زمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ شہریوں کی بہتر زندثکے لیے انتظامات کرے اس عرض سے پولیس اور دیگر دوسرے محکمے موجود ہوتے ہیں جو شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے رات دن مصروف رہتے 

ہیں۔

آئین کا آرٹیکل 24 کے تحت کسی شہری کو اس کی قانونی جائیداد سے محروم نہیں کیا جاسکتا ۔ پاکستان میں ہر شہری کو خریدنے فروخت کرنے یا اپنے پاس رکھنے کا حق ہے۔

حکومت اس حق کی پوری طرح حفاظت کرتی ہے البتہ جائیداد کا قانونی انداز میں حاصل کیا جانا ضروری ہے جائیداد کے سلسلے میں 1973 کے آئین میں درج ہے کہ اگر حکومت قومی ضرورت کے لیے چاہے وہ کسی فرد کی جائیداد کو اسکی ملکیت سے نکال کر قومی ملکیت میں لے سکتی ہے۔ ضروری ہے کہ قومیائ گئ جائیداد کا مناسب معاوضہ شہری کو دیا جائے قانون کی باقاعدہ اجازت کے بغیر کسی شہری کو اس کی جائیداد سے محروم نہیں کیا جاسکتا ۔

آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت تمام شہری قانون کی نگاہ میں یکساں ہیں پاکستان کا آئین تمام شہریوں کو مساوی سمجھتا ہے وہ کسی قسم کی تفریق یا امتیاز روا نہیں رکھتا۔ کسی فرد کو اس کے مذہب و ملت رنگ و نسل جائیداد یا کسی اور وجہ سے دوسرے سے برتر نہیں سمجھا 

جا سکتا ۔

سارے شہری ملک کے سیاسی و شہری حقوق سے برابر مستفید ہوسکتے ہیں۔ معاشرے میں ذات پات کالے گورے کی تمیز کو آئین تسلیم نہیں کرتا۔ مساوات کا تصور سیاسی مذہبی معاشی اور معاشرتی غرض یہ کہ ہر پہلو میں موجود ہے۔ عورتوں اور بچوں کے لیے البتہ جداگانہ قوانین ہیں اور ان کے تحفظ کے لیے مختلف اصول ترتیب دیے گئے ہیں جیساکہ ان سے کام لینے کے 

اوقات اور کام کی نوعیت بھی مختلف 

 ہے۔

جرائم پیشہ عناصر کی آئین شکنی

بین الاقوامی یونیورسل ڈیکلریشن اور دستور پاکستان میں ہر شخص کو جان ومال عزت وآبرو اور معاشرتی عدل وانصاف میں یکساں حق دیا گیا ہے اور واضح کیا گیا ہے بلکہ لازم کیا گیا ہے کہ قانون سب کے لیے ہو سب کو تحفظ فراہم کرے بلاامتیاز و تفریق رنگ و نسل علاقہ و زبان امیر و غریب قوی و کمزور حاکم و محکوم سوسائٹی میں نافذ العمل ہو تاکہ ہر شخص اپنے آپ کو محفوظ سمجھے۔

لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں عدل وانصاف کا فقدان ہے۔ دستور و قانون میں عدم وانصاف کو تحفظ فراہم ہے مگر عملاً سب اس کے برعکس ہے۔حاکم قانون سے مبرا و بالا تصور کیے جاتے ہیں۔ با اثر افراد خواہ سیاسی عناصر ہوں کہ مذہبی لسانی تنظیموں کے عہدیداران ہوں علاقائی تنظیموں کے اہلکار ہوں جاگیر دار ہوں کہ سردار پولیس ان لوگوں پر ہاتھ نہیں ڈال سکتی بلکہ اکثر و بیشتر پولیس ممبران ان کے آلہ کار بن جاتے ہیں اور جائز وناجائز تحفظ فراہم کر کے جرائم کی پردہ پوشی کرتے ہیں اور ان کے اشاروں پر چلتے ہیں جن صاحبان بھی ان طاقتوں سے خوفزدہ رہتے ہیں موجودہ مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ کس طرح پنجاب میں ایک نام نہاد جرائم پیشہ خاندان نے جج صاحبان اور مقتدر حلقوں کو بلیک میل کر کے رکھا ہوا ہے۔

Constitution


Open denial or confrontation of Articles 4, 10, 12, 13, 14 of the Constitution of Pakistan.

Under the Constitution of Pakistan, the right to justice of every person has been protected and it has been made clear that there will be justice in the society and its implementation will be equal for all without any discrimination so that law and order and rights can be protected in the society.
Article 4 of the Constitution states that it is the natural right of every person to be protected by the law and to be treated in accordance with the law and that no action shall be taken that would harm his or her life, property, honor, liberty or reputation. ۔ In addition, no person can be prevented from doing something that is not legally forbidden and cannot be forced to do something that is legally prohibited.
Article 10 stipulates that no person may be detained unless he has been given a reason for his arrest and is entitled to a lawyer of his choice in his defense.

In addition, the person arrested will be produced before a magistrate within 24 hours and will not be detained unless such legal order has been obtained from a relevant court.
Article 12 stipulates that if a person commits an act which has not been declared a crime at that time, he cannot be punished or given more than the prescribed punishment at that time.
Article 13 provides protection from the death penalty. That is, a person cannot be given more than one sentence for the same crime.
Article 14 makes it clear that a person cannot be tortured for a statement or confession, nor can he be forced to testify against himself.

Constitution

آئین پاکستان آرٹیکل 4, 10, 12, 13, 14 کی

کھلی نفی یا تصادم۔

دستور پاکستان کے تحت ہر شخص کے حق انصاف کو تحفظ دیا گیا ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ معاشرے میں عدل وانصاف ہوگا جس کا نفاذ بلا امتیاز و تفریق ہر ایک کے لیے یکساں ہوگا تاکہ معاشرے میں امن وامان اور حقوق کا تحفظ ہو سکے۔

دستور کی دفعہ 4 میں کہا گیا ہے کہ ہر شخص کا یہ فطری حق ہے کہ اسے قانون کا تحفظ اور اس کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک ہو اور کوئی ایسا ایکشن نہیں ہوگا جو اس کی جان و مال عزت و آزادی اور Reputation کو نقصان دے۔ علاؤ ازیں کسی بھی شخص کو کسی ایسے کام سے بھی نہیں روکا جا سکتا جو قانونی ہو ممنوع نہ ہو اور کسی ایسے کام کے لیے مجبور نہیں کیا جاسکتا جو قانونی طور پر ممنوع ہو۔

آرٹیکل 10 کے تحت یہ لازم قرار دیا گیا ہے کہ کسی بھی شخص کو حراست میں نہیں رکھا جاسکتا جب تک اسے اسکی گرفتاری کی وجہ نہ بتا دی گئی ہو اور اسے حق دیا گیا ہے کہ وہ اپنے دفاع میں اپنی مرضی کا وکیل کرے۔

مزید برآں جس شخص کو گرفتار کیا جائے گا 24 گھنٹوں کے اندر کسی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا اور اسے حراست میں نہیں رکھا جائے گا جب تک کہ کسی متعلقہ عدالت سے ایسا قانونی حکم نہ حاصل کر لیا گیا ہو۔

آرٹیکل 12 کے تحت یہ لازم کیا گیا ہے کہ کسی شخص نے جب کسی فعل کا ارتکاب کیا ہو اس وقت وہ فعل جرم نہ قرار دیا گیا ہو تو اسے سزا نہیں دی جاسکتی اور نہ ہی اس وقت مقرر شدہ سزا سے زیادہ دی جاسکتی ہے ۔

آرٹیکل 13 میں دیدی سزا سے تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ یعنی کسی شخص کو ایک ہی جرم میں ایک سے زائد سزائیں نہیں دی جاسکتیں۔

آرٹیکل 14 میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی شخص کو کسی بیان یا اقبال جرم کے لیے تشدد ٹارچر نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اسے اسکے اپنے خلاف گواہی کے لیے مجبور کیا جاسکتا ہے۔

Mafias

عرض پاک پر بڑی بے دردی بے رحمی اور بے باکی سے شب خون مارا گیا اور ایسے جرائم پیشہ عناصر کو مسلط کیا گیا جو سنگین جرائم میں ملوث تھے اس کا بھیانک نتیجہ یہ نکلا کہ سیاسی بحران معاشی بحران کے ساتھ ساتھ متعدد ایسے بحران جن کا خاتمہ تقریباً ہو چکا تھا ایک بار پھر سر اٹھا کر عوام کو ڈسنے لگے۔ نااہلی یہ کہ نہ تو منہگائی پر قابو پایا جاسکا اور نہ ہی ڈالر قابو میں آ سکا پیٹرولیم مصنوعات کی تو بات ہی نہ کریں وہ تو مفتاح اسمعیل کے بس میں تو کیا ان کے بڑے بھی آجائیں تو ہاتھ ملنے کے سواء کچھ نہیں کرسکتے ۔ رجیم چینج سے پہلے بڑی بڑی باتیں کرنے والے اتنے ڈھیٹ ہیں کہ آج انہیں معمولی سی شرم بھی محسوس نہیں ہو رہی بالخصوص وہ افراد جو مہنگائی کے خلاف لانگ مارچ کر رہے تھے آج ان کے منہ سے الزامات کے سواء ایک لفظ نہیں نکل رہا یعنی منافقت کی زندہ مثالیں آج بھی نہ جانے کس منہ سے آل اولاد سمیت سامنے ہیں اور اس پاک دھرتی کی چھاتی ہر مونگ دل رہی ہیں۔

شہر قائد کے ساتھ ظالمانہ سلوک کسی سے ڈھکا چھپا نہیں یہاں ہمیشہ سے ہی سیاسی چھتری تلے مافیاز کی اجارہ داری رہی ہے جسے شہر قائد میں بسنے والے مجبوراً برداشت کرتے آئے ہیں۔

تحفظ کی بات کی جائے تو انتظامیہ کی پول کھلتی ہے اگر بنیادی ضروریات کی بات کی جائے جس کی مد میں مٹھی بھر بھر کر رقمیں ادا کی جاتی ہیں تو وہاں بھی ظلم  و جبر لوٹ مار کے سوا کچھ دیکھائی نہیں دیتا۔

پانی اور بجلی کی فراہمی کی مد میں اتنا ٹیکس وصول کیا جاتا ہے اتنا پورے ملک سے اکھٹا نہیں ہوتا رشوت اور کرپشن اس کے علاؤہ ہے۔

کراچی واٹر بورڈ ہر ماہ پابندی سے اضافی واجبات وصول کرنے میں پیش پیش ہے لیکن پانی کہاں فروخت کیا جارہا ہے یہ صارفین نہیں جانتے لیکن واجبات ادا کرنے والے پانی سے محروم کر دیے گئے ہیں۔

بجلی فراہم کرنے والی کے۔الیکٹرک جس نے کرپشن لوٹ مار چھینا جھپٹی بھتہ خوری میں سیاستدانوں کے ریکارڈ توڑ ڈالے اب تک ریاست کے اندر ریاست بنا کر بادشاہت کر رہی ہے۔

رجیم چینج کے بعد کے۔الیکٹرک کا اس قدر من مانی کرنا ظاہر کرتا ہے کہ کسی خاص مشن پر عمل پیرا ہے۔

شہر قائد میں بسنے والے حیران ہیں کہ کے۔الیکٹرک کو ختم کر کے اس کی ٹاپ منجمنٹ کو گرفتار کیوں نہ کیا گیا؟ ان پر اتنے سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے باوجود غداری کے مقدمات کیوں نہ بنائے گئے ؟

ذرا سی تحقیقات سے معلوم ہو جائے گا کہ رجیم چینج کے بعد مال و زر ادھر سے ادھر منتقل ہوا ہے۔ اگر شہر قائد کو بچانا ہے تو کے۔الیکٹرک جیسی مافیا کو جڑ سے ختم کرنا ہوگا