سیاسی آمریت نے کیا ہمیں برباد

وفاق اور سندھ حکومت کی مسلسل نااہلی ناانصافی اور ناکامی کا ناسور بری طرح پھیل چکا ہے۔

شہر قائد پچھلے 14 برس سے مصیبتوں میں گھرا تباہ شدہ شہر بنادیا گیا۔ شہر قائد میں دہشتگردی سندھ حکومت کی کوتاہی و نااہلی کا کھلا ثبوت ہے۔ پچھلے 14 برس سے سندھ میں خاندانی آمریت ایک بھیانک لاعلاج موذی مرض کی طرح پھیل چکی ہے جس کا سد باب بظاہر دیکھائی نہیں دیتا یہ سیاسی آمریت اس زہر کی علامت ہے جو تباہی کے سوا کچھ فراہم کرنے سے قاصر و عاری ہے۔

نااہلی کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوگا کہ اتنی طویل مدت تک قابض رہنے کے باوجود عوام بنیادی اشیاء سے محروم کر دیے گئے ناکام ترین افراد جو قانون کو مختلف جرائم میں مطلوب ہیں ان کے جرائم کی پردہ پوشی کرتے ہوئے انہیں وزارتیں فراہم کی جارہی ہیں۔

اگر سوال کیا جائے کہ سندھ حکومت کے ماتحت کوئ بھی ادارہ اپنی کارکردگی پیش کرے تو صد فیصد قوی امید کی جاسکتی ہے کہ زرداری لیگ کے نمک خوار بغلیں جھانکنے کے سوا کچھ نہیں کر سکیں گے یا بات کرنے سے گریز کریں گے کیوں کہ انہیں معلوم ہے کہ صفر کارکردگی پر بھی ان کے آقا انہیں نوازتے رہیں گے۔

شہر قائد میں اس وقت مافیاز سب سے زیادہ طاقت میں دکھائی دیتی ہیں جس گلی جس محلے جس سڑک پر جائیں قبضہ ہی قبضہ نظر آتا ہے انتظامیہ کس مقصد کے لیے ہے اور اس انتظامیہ کے اغراض و مقاصد کیا ہیں اس کا علم خود اہلکاروں کو بھی نہیں۔

شہر قائد میں بسنے والے کن سخت ترین دشواریوں کا شکار ہیں سندھ حکومت اور اس کے ماتحت انتظامیہ ایک طویل مدت کے بعد بھی بالکل ناواقف ہیں۔ عوام اب اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ شہر قائد کو اگر بنانا ہے تو سیاسی خاندانی آمریت و ملوکیت سے اس شہر کو میلوں دور رکھنا ہوگا۔

Universal declaration of human rights

یونیورسل ڈیکلریشن کے آرٹیکل (1) ایک فطری و آفاقی اصول دیا گیا ہے کہ تمام انسان آزاد پیدا ہوئے ہیں اور وہ حقوق و وقار میں یکساں ہیں۔
ڈیکلریشن کے آرٹیکل (6) میں واضح کیا گیا ہے کہ ہر شخص کا حق ہے کہ قانون ہر مقام پر اسکی شخصیت کو تسلیم کرے. جبکہ آرٹیکل (7) میں کہا گیا کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور بلا تفریق و امتیاز ہر ایک کو قانون کا تحفظ حاصل ہے۔
آرٹیکل (9) کے تحت کسی شخص کو محض حاکم کی مرضی پر گرفتار نظر بند یا جلاوطن نہیں کیا جاسکتا ۔
آرٹیکل (10) میں واضح کیا گیا ہے کہ ہر شخص کو حق ہے کہ اس کے ساتھ انصاف ہو اور اس کا حق ہے کہ اس کے خلاف عائد کردہ جرم کے بارے میں مقدمے کی سماعت آزاد و غیر جانبدار عدالت کے کھلے اجلاس میں منصفانہ طریقے سے ہو۔
آرٹیکل (11) میں ہر شخص کو معصوم تصور کیا گیا ہے جب تک کہ اس پر عائد الزام کی کھلی و جانبدار عدالت میں ثابت نہ ہو جائے اور اسے اپنے دفاع کا پورا موقع دیا گیا ہو۔
آرٹیکل (5) کے تحت کسی شخص کو جسمانی اذیت یا ظالمانہ غیر انسانی یا ذلت آمیز سلوک یا غیر قانونی سزا نہیں دی جاسکتی ۔

جس ملک میں خاندانی آمریت و ملوکیت قابض ہو چکی ہو تو یہ سب کاغذی اور بناوٹی باتیں تصور کی جائیں گی۔ جہاں چند خاندانی ڈکٹیٹر اپنے خاندان کے تحفظ کے لیے ملک و قوم کو برباد کرسکتا ہو اسے کسی قاعدے قانون آئین آرٹیکلز کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔

From the windows of history

Actually, if we talk about the religious revolution so very powerful important personalities here. The period from policy of Aristotle is called the ancient period of history of philosophy in which the scholars continue to present their views on Man and the universe and the creator of the universe according to their own intellect.

The ideas of these philosophers, especially Plato and Aristotle, continue to guide human though to this day. We may differ from many of the ideas of these philosophers, but they promoted human thought, thought their knowledge, thought and research.

The time after Aristotle is the time of Lord Jesus who introduced the philosophy of life along with the philosophy of monotheism.

The advent of Lord Jesus brought about a tremendous change in human thought and Lord Jesus thought on the creation of the human universe, it’s creator and it’s purpose in life gave a new directions to human thought and revolutionized religious life.

Lord Jesus raises his voice against oppression in human society, Christianity began after Lord Jesus Christ, which had a profound effect not only on the common man but also on philosophers.

Philosophy of life

The name of Aristotle along with Socrates for and Plato has always been described as always been described as golden.

Aristotle was born in 322 BC and died in 384 BC at the age of 60. Aristotle was the son of a physician and a disciple of Plato. Due to his intellectual abilities and abilities Alexander the great appointment him as his mentor.

Aristotle set up an institute for those with intellectual interests where he discussed the mysteries and secrets of knowledge and adorned the disciples with the armaments of knowledge and wisdom.

Like Socrates Plato spoke openly criticizing irrational ideas and customs he fled Athens once the authorities intended to punish him for his disobedience.

Aristotle’s ideas influenced philosophers and scientists for centuries. Aristotle did valuable work on the subject of logic. Aristotle described two forms of logical conclusion. In the first are we reach the individual example connected with general principal through reason and reasoning, where in the second case we can reach the general form from the partial cases through reasoning. Through logic we draw true and correct conclusion.