What big events have taken place in your life over the past year?

<a href="https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-7924931983033252">https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-7924931983033252</a>
What big events have taken place in your life over the past year?

تصادم کی بازگشت واضح ہوچکی!
وفاقی وزیر داخلہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کو ایک بار پھر عملی جامہ پہنانے کی کوششوں میں!
زبردستی ملک و قوم پر مسلط کیے جانے والے وفاقی وزیر داخلہ اقتدار میں ہوں یا نہ ہوں لیکن انہوں نے ہمیشہ ہی ایک ڈکٹیٹر کا انداز اپنا کر شہریوں کا خون پانی سمجھ کر بہایا ہے جس کی متعدد و چیدہ چیدہ مثالیں موجود بھی ہیں اور محفوظ بھی۔ بہودہ کلام الزام تراشیاں غلیظ گفتگو گھٹیا لہجہ ان کی تعلیم و تربیت کی واضح غمازی کرتا ہے۔ یہ جماعتیں بدلنے کے بھی ماہر ہیں جسے عرف خاص میں چڑھتے سورج کا پجاری اور عرف عام میں جہاں دیکھی تری وہاں ہی بچھا دی دری جیسے مشہور زمانہ ڈائلاگ سے بھی یاد رکھا جاتا ہے۔ خطے شہر اور علاقائی زبان میں بھی متعدد حیران کر دینے والے ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے جو ناقابل اشاعت ہیں۔ اس کے علاؤہ ن لیگ کے لیے خاص الخاص اوصاف حمیدہ سے مالامال یہ وزیر عوامی خون چوسنے اور سڑکوں پر بہانے کا شوقین بھی ہے۔ پاکستانیوں کی 90 فیصد عوام وفاقی وزیر داخلہ کو انتہائی نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جبکہ بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کی تعداد بھی کروڑوں میں بتائ جاتی ہے۔ آخر اس انتہائی نفرت کی وجہ کیا ہے؟
ایک وجہ تو یہ بھی ہوسکتی ہے راقم الحروف نے پنچاب کے شہریوں سے سنا ہے کہ وفاقی وزیر نے باقاعدہ غنڈے پال رکھے ہیں جو وقت آنے پر نکالے جاتے ہیں اتنے خونخوار قسم کے غنڈے جو انسان تو انسان ان کی املاک کو بھی بڑی بے رحمی سے چبا ڈالتے ہیں اور ان کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی جاتی اب سے بڑا کمال تو شاید یہی ہے کہ رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والوں کے خلاف شواہد و ثبوتوں کا انبار کھڑا ہے مگر وفاقی وزیر ان غنڈوں کو فرشتہ ثابت کر دیتے ہیں۔ حالیہ صورتحال سے بھی یہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ 27 کلومیٹر تک محدود مسلط کردہ عناصر سانحہ ماڈل ٹاؤن کو ایک بار پھر سے عملی جامہ پہنانے کی کوششوں میں ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ پر الزامات لگنا کوئ نئ بات نہیں ہے یہ جب چاہتے ہیں خود پر الزام بھی لگا لیتے ہیں اور مقدمہ قائم کر کے خود کو باعزت رہا بھی کرا لیتے ہیں۔ بہرکیف تصادم کی راہیں ہموار و واضح ہو چکی ہیں۔ واللہ اعلم باالصواب ۔

دشمن بلوچستان کے حصول کے لئے ایک مدت
سے برسرپیکار ہے۔
مدت سے بلوچستان کو سورش سے بچانے کی کوششیں اب تک جاری ہیں۔ ساری محنت پر پانی پھیرنے کے لئے اندرونی دشمنوں کی کاروائیاں۔
اندرونی دشمن معصوم لوگوں کو ورغلانے کی کوشش ضرور کریں گے۔ آزادی یا علیحدگی کا نعرہ بھی لگوایا جاسکتا ہے۔
غلیظ دشمنوں کی فنڈنگ سے اندرونی دشمن خریدے گئے بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی کے ایجنٹ نے پہلے ہی انکشاف کیا تھا۔
کراچی(تجزیہ: مسعود حسین جعفری)کراچی میں دشمن کافی حد تک ناکام رہے جس کا کریڈٹ خفیہ اداروں کو جاتا ہے جو دن رات اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف رہے اور شہریوں کو دہشتگردوں سے محفوظ کرتے گئے۔ مگر افسوس اندرونی دشمن پھر بھی سازشوں سے باز نہ ائے۔ اب بلوچستان میں خطرات بڑھ چکے ہیں۔دشمن جو ایک طویل مدت سے بلوچستان میں شورش کا باعث بن رہا تھا اب اس میں مزید شدت آگئ ہے۔دشمن بلوچستان کے حصول کے لئے ایک مدت سے برسرپیکار ہے۔
مدت سے بلوچستان کو سورش سے بچانے کی کوششیں اب تک جاری ہیں۔ ساری محنت پر پانی پھیرنے کے لئے اندرونی دشمنوں کی کاروائیاں۔اندرونی دشمن معصوم لوگوں کو ورغلانے کی کوشش ضرور کریں گے۔ آزادی یا علیحدگی کا
نعرہ بھی لگوایا جاسکتا ہے۔

غلیظ دشمنوں کی فنڈنگ سے اندرونی دشمن خریدے گئے بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی کے ایجنٹ نے پہلے ہی انکشاف کیا تھا۔اب کچھ ہی روز میں یہ بھی واضح طور پر سامنے آجائیگا کہ اقتدار کے حصول میں بے لگام ہونے والے گروہ کی جڑیں کہاں تک جاتی ہیں۔ عرصہ دراز سے گریٹر بلوچستان بنانے کی سرگوشیاں ایک ایسی لابی کی جانب سے آتی رہی ہیں جسے پاکستانی قانون مسلمانوں میں شامل نہیں کرتا اور کھل کر غیرمسلم تسلیم کرتا ہے۔ اسی گروہ کی فنڈنگ بھی جاری ہوتی رہتی ہے جو کہ دشمن ممالک سے آتی رہی ہے اس کے علاؤہ دہشتگردی کی تربیت بھی اسی گروہ کی جانب سے ہوتی رہی ہے۔ موجودہ صورتحال میں بھی یہی گروہ بلوچستان میں حال ہی میں بننے والے ملوکی گروہ کا خفیہ ساتھ دے رہا ہو اور بیت ممکن ہے کہ کچھ اندرونی ڈیل بھی ہوچکی ہو۔ ماضی کے شواہد سے باخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستانیوں کی محنت برباد کرنے کے لئے کچھ ایسا کیا جائے جیسا گارگل میں کیا گیا تھا۔ گلگت بلتستان میں جو لابی کام کررہی ہے وہ کسی صورت ملوکی گروہ کے کارندے کی چال میں نہیں آئے گی۔ چند افراد بھٹک جائیں تو کوئ بات نہیں لیکن اکثریت ملوکیت کے خلاف ہے باالخصوص موجودہ بننے والے ملوکی گروہ کے جو پاک افواج کے خلاف نعرے لگوا رہے ہیں اور سپہ سالار پاکستان کے خلاف ورغلا رہے ہیں۔


دشمن بلوچستان کے حصول کے لئے ایک مدت سے برسرپیکار ہے۔ مدت سے بلوچستان کو سورش سے بچانے کی کوششیں اب تک جاری ہیں۔ ساری محنت پر پانی پھیرنے کے لئے اندرونی دشمنوں کی کاروائیاں۔ اندرونی دشمن معصوم لوگوں کو ورغلانے کی کوشش ضرور کریں گے۔ آزادی یا علیحدگی کا نعرہ بھی لگوایا جاسکتا ہے۔ […]
کیا ملک کی باگ ڈور ہمیشہ بیرونی ہاتھوں میں رہے گی ؟؟؟

دشمن بلوچستان کے حصول کے لئے ایک مدت
سے برسرپیکار ہے۔
مدت سے بلوچستان کو سورش سے بچانے کی کوششیں اب تک جاری ہیں۔ ساری محنت پر پانی پھیرنے کے لئے اندرونی دشمنوں کی کاروائیاں۔
اندرونی دشمن معصوم لوگوں کو ورغلانے کی کوشش ضرور کریں گے۔ آزادی یا علیحدگی کا نعرہ بھی لگوایا جاسکتا ہے۔
غلیظ دشمنوں کی فنڈنگ سے اندرونی دشمن خریدے گئے بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی کے ایجنٹ نے پہلے ہی انکشاف کیا تھا۔
کراچی(تجزیہ: مسعود حسین جعفری)کراچی میں دشمن کافی حد تک ناکام رہے جس کا کریڈٹ خفیہ اداروں کو جاتا ہے جو دن رات اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف رہے اور شہریوں کو دہشتگردوں سے محفوظ کرتے گئے۔ مگر افسوس اندرونی دشمن پھر بھی سازشوں سے باز نہ ائے۔ اب بلوچستان میں خطرات بڑھ چکے ہیں۔دشمن جو ایک طویل مدت سے بلوچستان میں شورش کا باعث بن رہا تھا اب اس میں مزید شدت آگئ ہے۔دشمن بلوچستان کے حصول کے لئے ایک مدت سے برسرپیکار ہے۔
مدت سے بلوچستان کو سورش سے بچانے کی کوششیں اب تک جاری ہیں۔ ساری محنت پر پانی پھیرنے کے لئے اندرونی دشمنوں کی کاروائیاں۔اندرونی دشمن معصوم لوگوں کو ورغلانے کی کوشش ضرور کریں گے۔ آزادی یا علیحدگی کا
نعرہ بھی لگوایا جاسکتا ہے۔

غلیظ دشمنوں کی فنڈنگ سے اندرونی دشمن خریدے گئے بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی کے ایجنٹ نے پہلے ہی انکشاف کیا تھا۔اب کچھ ہی روز میں یہ بھی واضح طور پر سامنے آجائیگا کہ اقتدار کے حصول میں بے لگام ہونے والے گروہ کی جڑیں کہاں تک جاتی ہیں۔ عرصہ دراز سے گریٹر بلوچستان بنانے کی سرگوشیاں ایک ایسی لابی کی جانب سے آتی رہی ہیں جسے پاکستانی قانون مسلمانوں میں شامل نہیں کرتا اور کھل کر غیرمسلم تسلیم کرتا ہے۔ اسی گروہ کی فنڈنگ بھی جاری ہوتی رہتی ہے جو کہ دشمن ممالک سے آتی رہی ہے اس کے علاؤہ دہشتگردی کی تربیت بھی اسی گروہ کی جانب سے ہوتی رہی ہے۔ موجودہ صورتحال میں بھی یہی گروہ بلوچستان میں حال ہی میں بننے والے ملوکی گروہ کا خفیہ ساتھ دے رہا ہو اور بیت ممکن ہے کہ کچھ اندرونی ڈیل بھی ہوچکی ہو۔ ماضی کے شواہد سے باخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستانیوں کی محنت برباد کرنے کے لئے کچھ ایسا کیا جائے جیسا گارگل میں کیا گیا تھا۔ گلگت بلتستان میں جو لابی کام کررہی ہے وہ کسی صورت ملوکی گروہ کے کارندے کی چال میں نہیں آئے گی۔ چند افراد بھٹک جائیں تو کوئ بات نہیں لیکن اکثریت ملوکیت کے خلاف ہے باالخصوص موجودہ بننے والے ملوکی گروہ کے جو پاک افواج کے خلاف نعرے لگوا رہے ہیں اور سپہ سالار پاکستان کے خلاف ورغلا رہے ہیں۔



We are seeing what stages Iran is going through. Isolation on a global level is concerned about the dire economic situation and the subsequent constant war with Israel. International pressure on Iran is one of Israel’s long-standing wishes, in which Israel has turned almost all Muslim countries and non-Muslim countries against Iran under its influence.

Iran’s internal affairs are extremely corrupt. Before this, Israel has failed on this front. The whole effort of Israel, involved in the murder of many experts and scientists, is to make Iran hollow at the internal level. A link in the same chain is also evident from the current situation.
Amnesty International has strongly condemned the crackdown on worshipers and civilians by the Revolutionary Guards and security forces in the city of Zahadan in Iran. Later, Iranian security forces conducted an operation against Baloch protesters in which 80 people including children were killed.
The armed personnel opened fire and shelled the civilians resulting in hundreds of injuries. According to eyewitnesses, the death toll was much higher, with most people shot in the chest, head and neck. Amnesty called it Bloody Friday, saying it had been three weeks of protests against the government in Iran over the death of Mehsa Amini. It was the bloodiest day in the recent wave of protests.

Amnesty Secretary General Agens Collamard said that the Iranian government has grossly violated the sanctity of human life and proved that it will go to any extent to preserve its power. He said that the protests in November 2019, which Hundreds of people were killed, three years later, the Iranian government is still using force mercilessly against the citizens.

Amnesty International called on the United Nations to conduct an independent investigation into the serious crimes in Iran and to bring those involved to justice. The use of force to crush has been openly disallowed. It should be clear that there was a protest against the sexual abuse of a 15-year-old girl by an Iranian police officer after Friday prayers across the country, including Zahedan, which was shot by Iranian forces.

You must be logged in to post a comment.