Education should be in native national language

As an researchei, I believe that education in one’s native national language is of utmost importance. When students are taught in their mother tongue or the language that is widely spoken in their community, it creates a strong foundation for learning and understanding. It allows students to fully comprehend the concepts being taught, express themselves confidently, and engage actively in the learning process.

Education in the native national language also helps preserve cultural identity and heritage. Language is deeply intertwined with culture, and by promoting education in the native language, we can ensure that cultural values, traditions, and knowledge are passed on to future generations. It fosters a sense of belonging and pride among students, as they see their language being valued and respected within the education system.

Furthermore, research has shown that learning in one’s native language enhances cognitive development, critical thinking skills, and academic achievement. It enables students to grasp complex ideas more effectively, as they are not burdened with the additional challenge of language barriers.

However, it is important to strike a balance between teaching in the native language and acquiring proficiency in other languages, especially if they have broader societal or professional relevance. A multilingual approach can empower students to communicate and navigate in a globalized world while maintaining a strong connection to their roots.

In conclusion, education in the native national language is crucial for holistic development, cultural preservation, and academic success. By embracing linguistic diversity and providing inclusive educational opportunities, we can create an environment that celebrates and nurtures the linguistic identities of our students.

I will be happy to answer any further questions you may have regarding education.

تصادم کی بازگشت!

تصادم کی بازگشت واضح ہوچکی!

وفاقی وزیر داخلہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کو ایک بار پھر عملی جامہ پہنانے کی کوششوں میں!

زبردستی ملک و قوم پر مسلط کیے جانے والے وفاقی وزیر داخلہ اقتدار میں ہوں یا نہ ہوں لیکن انہوں نے ہمیشہ ہی ایک ڈکٹیٹر کا انداز اپنا کر شہریوں کا خون پانی سمجھ کر بہایا ہے جس کی متعدد و چیدہ چیدہ مثالیں موجود بھی ہیں اور محفوظ بھی۔ بہودہ کلام الزام تراشیاں غلیظ گفتگو گھٹیا لہجہ ان کی تعلیم و تربیت کی واضح غمازی کرتا ہے۔ یہ جماعتیں بدلنے کے بھی ماہر ہیں جسے عرف خاص میں چڑھتے سورج کا پجاری اور عرف عام میں جہاں دیکھی تری وہاں ہی بچھا دی دری جیسے مشہور زمانہ ڈائلاگ سے بھی یاد رکھا جاتا ہے۔ خطے شہر اور علاقائی زبان میں بھی متعدد حیران کر دینے والے ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے جو ناقابل اشاعت ہیں۔ اس کے علاؤہ ن لیگ کے لیے خاص الخاص اوصاف حمیدہ سے مالامال یہ وزیر عوامی خون چوسنے اور سڑکوں پر بہانے کا شوقین بھی ہے۔ پاکستانیوں کی 90 فیصد عوام وفاقی وزیر داخلہ کو انتہائی نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جبکہ بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کی تعداد بھی کروڑوں میں بتائ جاتی ہے۔ آخر اس انتہائی نفرت کی وجہ کیا ہے؟

ایک وجہ تو یہ بھی ہوسکتی ہے راقم الحروف نے پنچاب کے شہریوں سے سنا ہے کہ وفاقی وزیر نے باقاعدہ غنڈے پال رکھے ہیں جو وقت آنے پر نکالے جاتے ہیں اتنے خونخوار قسم کے غنڈے جو انسان تو انسان ان کی املاک کو بھی بڑی بے رحمی سے چبا ڈالتے ہیں اور ان کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی جاتی اب سے بڑا کمال تو شاید یہی ہے کہ رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والوں کے خلاف شواہد و ثبوتوں کا انبار کھڑا ہے مگر وفاقی وزیر ان غنڈوں کو فرشتہ ثابت کر دیتے ہیں۔ حالیہ صورتحال سے بھی یہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ 27 کلومیٹر تک محدود مسلط کردہ عناصر سانحہ ماڈل ٹاؤن کو ایک بار پھر سے عملی جامہ پہنانے کی کوششوں میں ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ پر الزامات لگنا کوئ نئ بات نہیں ہے یہ جب چاہتے ہیں خود پر الزام بھی لگا لیتے ہیں اور مقدمہ قائم کر کے خود کو باعزت رہا بھی کرا لیتے ہیں۔ بہرکیف تصادم کی راہیں ہموار و واضح ہو چکی ہیں۔ واللہ اعلم باالصواب ۔

کیا ملک کی باگ ڈور ہمیشہ بیرونی ہاتھوں میں رہے گی ؟

دشمن بلوچستان کے حصول کے لئے ایک مدت

سے برسرپیکار ہے۔

مدت سے بلوچستان کو سورش سے بچانے کی کوششیں اب تک جاری ہیں۔ ساری محنت پر پانی پھیرنے کے لئے اندرونی دشمنوں کی کاروائیاں۔

اندرونی دشمن معصوم لوگوں کو ورغلانے کی کوشش ضرور کریں گے۔ آزادی یا علیحدگی کا نعرہ بھی لگوایا جاسکتا ہے۔

غلیظ دشمنوں کی فنڈنگ سے اندرونی دشمن خریدے گئے بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی کے ایجنٹ نے پہلے ہی انکشاف کیا تھا۔

کراچی(تجزیہ: مسعود حسین جعفری)کراچی میں دشمن کافی حد تک ناکام رہے جس کا کریڈٹ خفیہ اداروں کو جاتا ہے جو دن رات اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف رہے اور شہریوں کو دہشتگردوں سے محفوظ کرتے گئے۔ مگر افسوس اندرونی دشمن پھر بھی سازشوں سے باز نہ ائے۔ اب بلوچستان میں خطرات بڑھ چکے ہیں۔دشمن جو ایک طویل مدت سے بلوچستان میں شورش کا باعث بن رہا تھا اب اس میں مزید شدت آگئ ہے۔دشمن بلوچستان کے حصول کے لئے ایک مدت سے برسرپیکار ہے۔

مدت سے بلوچستان کو سورش سے بچانے کی کوششیں اب تک جاری ہیں۔ ساری محنت پر پانی پھیرنے کے لئے اندرونی دشمنوں کی کاروائیاں۔اندرونی دشمن معصوم لوگوں کو ورغلانے کی کوشش ضرور کریں گے۔ آزادی یا علیحدگی کا

نعرہ بھی لگوایا جاسکتا ہے۔

غلیظ دشمنوں کی فنڈنگ سے اندرونی دشمن خریدے گئے بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی کے ایجنٹ نے پہلے ہی انکشاف کیا تھا۔اب کچھ ہی روز میں یہ بھی واضح طور پر سامنے آجائیگا کہ اقتدار کے حصول میں بے لگام ہونے والے گروہ کی جڑیں کہاں تک جاتی ہیں۔ عرصہ دراز سے گریٹر بلوچستان بنانے کی سرگوشیاں ایک ایسی لابی کی جانب سے آتی رہی ہیں جسے پاکستانی قانون مسلمانوں میں شامل نہیں کرتا اور کھل کر غیرمسلم تسلیم کرتا ہے۔ اسی گروہ کی فنڈنگ بھی جاری ہوتی رہتی ہے جو کہ دشمن ممالک سے آتی رہی ہے اس کے علاؤہ دہشتگردی کی تربیت بھی اسی گروہ کی جانب سے ہوتی رہی ہے۔ موجودہ صورتحال میں بھی یہی گروہ بلوچستان میں حال ہی میں بننے والے ملوکی گروہ کا خفیہ ساتھ دے رہا ہو اور بیت ممکن ہے کہ کچھ اندرونی ڈیل بھی ہوچکی ہو۔ ماضی کے شواہد سے باخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستانیوں کی محنت برباد کرنے کے لئے کچھ ایسا کیا جائے جیسا گارگل میں کیا گیا تھا۔ گلگت بلتستان میں جو لابی کام کررہی ہے وہ کسی صورت ملوکی گروہ کے کارندے کی چال میں نہیں آئے گی۔ چند افراد بھٹک جائیں تو کوئ بات نہیں لیکن اکثریت ملوکیت کے خلاف ہے باالخصوص موجودہ بننے والے ملوکی گروہ کے جو پاک افواج کے خلاف نعرے لگوا رہے ہیں اور سپہ سالار پاکستان کے خلاف ورغلا رہے ہیں۔