I'm Masood Hussain Jaffri professional journalist belong to Pakistan Karachi. I'm author, poet, writer because my native language is Urdu so naturally I love my native language and mostly used in writing in newspaper magazine social media etc.
فروری 2026 سے شروع ہونے والی US-اسرائیل اور ایران کی جنگ نے خلیج فارس کے راستوں کو متاثر کر کے ایشیا کی زراعت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔خلیج فارس کا آبنائے ہرمز دنیا کی تقریباً 30-35% یوریا برآمدات کا گزرگاہ ہے۔ جنگ کی وجہ سے یہاں شپنگ تقریباً رک گئی ہے اور قطر، ایران، سعودی عرب جیسے بڑے یوریا برآمد کنندگان کی پیداوار بھی متاثر ہوئی ہے۔ نتیجتاً عالمی یوریا کی سپلائی کا تقریباً 30% مارکیٹ سے نکل گیا ہے اور فروری سے اب تک اس کی اسپاٹ قیمت میں 40% اضافہ ہو چکا ہے۔ کسانوں کا ردعمل تھائی لینڈ، فلپائن، بنگلہ دیش، آسٹریلیا یہی چار ممالک اس وقت اہم بوائی کے موسم میں ہیں۔ تھائی لینڈ چاول کے کسان بوائی روک رہے ہیں یا کم کر رہے ہیں کیونکہ پیداواری لاگت $33,000 تک پہنچ رہی ہے جبکہ فصل سے آمدنی $22,000 رہنے کا اندازہ ہے۔ وسطی تھائی لینڈ کی کھاد کی دکانوں میں یوریا ہفتوں سے ناپید ہے۔بنگلہ دیش ڈیزل کی قلت نے آبپاشی متاثر کر دی ہے۔ کسانوں کو فی کس صرف 5 لیٹر ڈیزل مل رہا ہے، جو 2-3 دن کی آبپاشی کے لیے کافی ہے۔ نتیجے میں دھان کی بوائی تاخیر کا شکار ہے۔فلپائن حکومت نے خبردار کیا ہے کہ مداخلت نہ ہوئی تو گھریلو چاول کی پیداوار 20-50% تک گر سکتی ہے۔آسٹریلیا خشک سالی کے ساتھ کھاد کی زیادہ قیمتوں کی وجہ سے کسان گندم اور کینولا کا رقبہ کم کر رہے ہیں۔ قیمتوں اور پیداوار پر اثر یوریا کی قیمتیں سال کے آغاز سے 83% اور حملے کے بعد 50% بڑھ کر $717.74 فی ٹن ہو گئی ہیں۔ایندھن، کھاد، فریٹ کی لاگت بڑھنے سے تھائی لینڈ، ویتنام، انڈونیشیا میں کسان ان پٹ کم کر رہے ہیں اور کچھ جگہوں پر بوائی ہی روک دی ہے۔ بنگلہ دیش کے کسان کھلے عام کہہ رہے ہیں ہم صرف چاہتے ہیں کہ یہ ختم ہو۔ ایران کے ترجمان اسمیل بقائی نے بھی کہا ہے کہ بھارت اور دیگر ممالک کو جو نقصان پہنچ رہا ہے اس کی ذمہ داری US اور اسرائیل پر ہے۔
سندھ میں میرٹ کا قتل: اداروں کی تباہی کی داستان کچھ یوں ہے کہ پچھلی چار دہائیوں سے سندھ کا انتظامی ڈھانچہ ایک ہی بیماری کا شکار ہے میرٹ کی پامالی ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے لے کر پرائمری اسکول تک، سفارش، وڈیرا ازم اور سیاسی وفاداری نے قابلیت کی جگہ لے لی ہے جس کا نتیجہ ادارے برباد عوام لاچار۔سندھ پبلک سروس کمیشن SPSC نے تو شہریوں کو بری طرح ذلیل وخوار کر کے رکھ دیا ہے۔ جس ادارے نے میرٹ کا محافظ بننا تھا وہ خود سب سے زیادہ متنازعہ رہا۔ 2013، 2018 اور 2021 کے CCE امتحانات پیپر لیک رزلٹ میں تاخیر اور من پسند امیدواروں کی بھرتی کے الزامات کی نذر ہوئے۔ عدالت نے کئی بار نتائج کالعدم کیے۔ جب AC اور سیکشن آفیسر ہی پیسے یا پرچی پر بھرتی ہوگا تو ضلع کیسے چلے گا؟ نتیجہ کمزور فیصلہ سازی اور فیلڈ میں نااہل افسران کی بھر مار۔محکمہ تعلیم کی بات کی جائے تو سندھ میں 40 ہزار سے زائد گھوسٹ ٹیچرز کی رپورٹس آتی رہی ہیں۔ 2016 میں سپریم کورٹ کے حکم پر ہونے والی بایومیٹرک تصدیق میں ہزاروں استاد غیر حاضر نکلے۔ بھرتیاں سیاسی MPA/MNA کے کوٹے پر ہوئیں۔ نتیجہ آج 60 لاکھ سے زائد بچے اسکول سے باہر ہیں اور جو اسکول ہیں وہ کھنڈر بنے ہوئے ہیں۔ میرٹ پر آیا ہوا استاد ہی بچوں کا مستقبل سنوار سکتا ہے پرچی والا نہیں۔اگر محکمہ صحت دیکھا جائے تو دیہی مراکز صحت RHC اور بنیادی مراکز BHU ڈاکٹروں سے خالی ہیں۔ وجہ ڈاکٹرز کی پوسٹنگ من پسند شہروں میں سیاسی دباؤ پر ہوتی ہے۔ 2019 میں PPHI کے تحت چلنے والے کئی مراکز میں عملہ صرف کاغذوں میں موجود تھا کورونا میں آکسیجن اور وینٹی لیٹرز کا بحران اسی بدانتظامی کا شاخسانہ تھا۔ جب MS اور DHO کی تعیناتی ہی وفاداری پر ہو تو ہسپتال مریض کیسے بچائے؟ پولیس اور ریونیو ایس ایچ او سے لے کر پٹواری تک ہر تعیناتی میں مقامی وڈیرا سیاسی خاندان کی مرضی چلتی ہے۔ تھانے بکنے لگے اور زمینوں کا ریکارڈ سیاسی انتقام کا ہتھیار بن گیا۔ سندھ پولیس میں 2022 کی رپورٹ کے مطابق 30% سے زائد بھرتیاں عدالتی حکم پر روکی گئیں۔ جب تفتیش کرنے والا ہی نااہل ہو تو انصاف کہاں سے ملے؟ بلدیاتی ادارے اور ترقیاتی محکمات کی حالت زار سب کے سامنے ہے کراچی سے کشمور تک واٹر بورڈ، KDA، ورکس اینڈ سروسز میں ٹھیکے من پسند لوگوں کو ملتے ہیں جعلی بھرتیوں کا بوجھ اتنا ہے کہ ملازمین کی تنخواہ کے بعد ترقیاتی کام کے پیسے ہی نہیں بچتے۔ اسی لیے گٹر ابلتے ہیں اور سڑکیں ہر بارش میں بہہ جاتی ہیں۔سوال یہی اٹھتا ہے کہ سسٹم کیوں متاثر ہوا؟ وجہ صاف ہے جب ادارے کا سربراہ یہ سوچ کر لگایا جائے کہ وہ الیکشن میں کام آئے گا تو وہ عوام کا نہیں اپنے سیاسی آقا کا وفادار ہوگا احتساب نام کی چیز ختم ہو جاتی ہے کیونکہ افسر کو پتا ہے کہ اس کی پشت پر کوئی بڑا ہے۔بھرتی میں تھرڈ پارٹی SPSC کو ختم کر کے FPSC طرز پر یا کسی غیرجانبدار ٹیسٹنگ سروس کے ذریعے امتحان۔سیاسی مداخلت پر پابندی ٹرانسفر پوسٹنگ کا اختیار وزیر اعلیٰ ہاؤس سے لے کر بورڈ کو دیا جائے۔کارکردگی آڈٹ ہر AC، DC، DHO کی سالانہ KPI رپورٹ پبلک کی جائے۔سزا اور جزا کا خصوصی اہتمام ایک گھوسٹ ٹیچر پکڑا جائے تو بھرتی کرنے والے سیکرٹری کو بھی سزا ہو۔سندھ کے نوجوانوں میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں کمی ہے تو صرف موقع کی جب تک وڈیرا ازم اور سیاسی پرچی کا بت نہیں ٹوٹے گا ڈگری ہاتھ میں لیے نوجوان ملک چھوڑتے رہیں گے اور ادارے قبرستان بنتے رہیں گے۔ میرٹ صرف ایک لفظ نہیں یہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا نام ہے اور یہ اعتماد سندھ میں بری طرح ٹوٹ چکا ہے۔
سندھ میں پچھلی کئی دہائیوں سے میرٹ کی پامالی ایک بڑا مسئلہ رہی ہے اور اس کے اثرات پورے صوبے کے نظام پر پڑے ہیں۔آخر کیا ہو رہا ہے؟ بھرتیوں میں سفارش کلچر ڈی سی، اے سی، پولیس، محکمہ تعلیم، صحت، بلدیات، تقریباً ہر ادارے میں سیاسی وابستگی اور وڈیرا سسٹم کی بنیاد پر بھرتیاں عام شکایت ہیں۔ SPSC کے امتحانات پر بھی بار بار سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ جب عہدے قابلیت کی بجائے وفاداری پر ملیں تو فیصلہ سازی کمزور ہو جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ اسکولوں میں گھوسٹ ٹیچرز، ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی کمی، اور ترقیاتی فنڈز کے غلط استعمال کی صورت میں نکلتا ہے۔سیاسی پشت پناہی رکھنے والے افسران پر ہاتھ ڈالنا مشکل ہو جاتا ہے، جس سے کرپشن اور نااہلی کا سائیکل چلتا رہتا ہے۔عام آدمی کو نہ میرٹ پر نوکری ملتی ہے نہ تھانے کچہری میں انصاف نہ اسکول ہسپتال میں سہولت قابل نوجوان مایوس ہو کر ملک چھوڑ دیتے ہیں اور جو رہ جاتے ہیں وہ سسٹم کا حصہ بننے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔یہ صرف سندھ کا مسئلہ نہیں لیکن سندھ میں وڈیرا ازم اور خاندانی سیاست کی جڑیں بہت گہری ہونے کی وجہ سے صورتحال زیادہ خراب سمجھی جاتی ہے۔سخت مقابلے کے امتحانات بھرتیوں میں تھرڈ پارٹی مانیٹرنگ اور سیاسی مداخلت ختم کیے بغیر ادارے ٹھیک ہونا مشکل ہیں۔ عدلیہ اور میڈیا کا دباؤ کچھ حد تک کام کرتا ہے مگر اصل تبدیلی تب آئے گی جب ووٹر خود کارکردگی کو ووٹ دے۔
9 مئی کے 8 مقدمات سپریم کورٹ نے 263 دن پہلے ان 8 مقدمات میں عمران خان کی ضمانت منظور کر لی تھی۔ ایک لاکھ روپے فی مقدمہ کے ضمانتی مچلکوں پر ضمانت دی گئی۔ ضمانت منظور ہونے کا مطلب مقدمہ ختم ہونا نہیں ہوتا، ٹرائل چلتا رہے گا۔دیگر سزائیں عمران خان کو 5 مقدمات میں سزا سنائی جا چکی ہے، مگر ہائیکورٹ نے تاحال کسی سزا کی توثیق نہیں کی۔ سب سے اہم القادر ٹرسٹ کیس ہے جس میں انہیں اور بشریٰ بی بی کو 14 سال قید کی سزا ہوئی۔ اس سزا کے خلاف اپیل 31 جنوری 2024 کو دائر ہوئی لیکن تاحال سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئی۔ سزا معطلی کی درخواست پر بھی کوئی تاریخ طے نہیں۔ پی ٹی آئی کے اپنے قانونی ماہرین تسلیم کرتے ہیں کہ استغاثہ کے پاس اب بھی اتنی گنجائش ہے کہ مقدمات کو طول دے سکے، جس کے باعث کسی ایک کیس میں ضمانت یا بریت کے باوجود رہائی ممکن نہیں ہو سکے گی۔ تحمل مزاج PTI قیادت کا ماننا ہے کہ جب تک محاذ آرائی ختم نہیں ہوتی، ریلیف کا امکان نہیں مجموعی تجزیہ یہ ہے کہ عمران خان 2026ء کے دوران بلکہ ممکنہ طور پر اس کے بعد بھی جیل میں رہ سکتے ہیں اگر کوئی معجزہ، ڈیل یا غیر متوقع عدالتی ریلیف نہ ملا۔ عدالتی کارروائیوں کا اندازہ بتاتا ہے کہ قید 2026ء تک ہی نہیں بلکہ اس سے بھی آگے چل سکتی ہے۔ قانونی طور پراگر سزائیں ہائیکورٹ/سپریم کورٹ سے کالعدم ہو جائیں تو اہلیت بحال ہو سکتی ہے۔ فی الحال 5 سزائیں ہیں لیکن ہائیکورٹ سے توثیق نہیں ہوئی۔الیکشن کمیشن کے قوانین کے تحت سزا یافتہ شخص 5 سال تک نااہل ہوتا ہے۔ اس لیے تمام سزاؤں کا ختم ہونا ضروری ہے۔سیاسی طور پر سینئر وکلا کے مطابق جب تک عمران خان کو سیاسی انتقام کا شکار خیال کیا جائے گا، مخالفین کے لیے انہیں شفاف انتخابات میں ہرانا ممکن نہیں۔لیکن PTI کے اندر بھی یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ سخت گیر عناصر کی محاذ آرائی کی پالیسی نے سیاسی یا عدالتی ریلیف کے امکانات محدود کر دیے ہیں۔مستقبل قریب یعنی 2026 میں تمام مقدمات ختم ہونا مشکل نظر آتا ہے کیونکہ القادر ٹرسٹ کیس سمیت کئی کیسز کی اپیلیں بیک لاگ کی وجہ سے التوا کا شکار ہیں۔ جب تک یہ بڑی سزائیں ختم نہیں ہوتیں، رہائی اور حکومت میں واپسی قانونی طور پر ممکن نہیں۔ کوئی غیر معمولی عدالتی یا سیاسی پیش رفت ہو جائے تو صورتحال بدل سکتی ہے، ورنہ قانونی ٹائم لائن لمبی ہے۔
پاکستان کو ایران سے سستا پیٹرول اور گیس لینے میں اصل رکاوٹ 3 بڑی وجوہات سامنے نظر آتی ہیں۔ یہ معاملہ حکومت معیشت اور خارجہ پالیسی کا ہے۔سب سے پہلی اور بڑی رکاوٹ امریکی پابندیاں ہیں۔ایران پر امریکہ کی سخت معاشی پابندیاں لگی ہوئی ہیں جو بھی ملک ایران سے تیل/گیس خریدے گا اس پر بھی امریکی پابندیاں لگ سکتی ہیں۔ پاکستان کو IMF سے قرضے FATF، ڈالر اور عالمی بینک کی امداد چاہیے۔ اگر امریکہ ناراض ہوا تو پاکستان کی معیشت کا دیوالیہ نکل سکتا ہے اس ڈر سے پاکستان نے ایران-پاکستان گیس پائپ لائن کا اپنا حصہ آج تک مکمل نہیں کیا حالانکہ ایران نے اپنا حصہ مکمل کر لیا ہے۔ اب پاکستان نے منصوبہ وقتی طور پر مؤخر کر دیا ہے اور قانونی تنازع سے بچنے کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔ دوسری بڑی رکاوٹ سعودی عرب اور خلیجی ممالک کا دباؤ ہے۔پاکستان اپنی تیل کی 85% ضرورت درآمد کرتا ہے اور زیادہ تر تیل سعودی عرب، UAE سے آتا ہے سعودی عرب پاکستان کا بڑا مالی مددگار ہے سعودی-ایران تعلقات خراب رہتے ہیں اگر پاکستان ایران سے بڑے پیمانے پر تیل لے تو سعودی عرب ناراض ہو کر قرضے اور تیل کی ادھار سہولت بند کر سکتا ہے۔ تیسری بڑی رکاوٹ ایل این جی کے مہنگے معاہدے۔پاکستان نے قطر وغیرہ سے ٹیک اور پے بنیاد پر مہنگی ایل این جی خریدنے کے طویل مدتی معاہدے کر رکھے ہیں۔ یعنی گیس استعمال ہو یا نہ ہو پیسے دینے پڑیں گے اس وقت پاکستان میں گیس کی طلب کم ہے اور ایل این جی وافر ہے اس لیے حکومت کو مجبوراً مقامی کمپنیوں سے کہا گیا کہ پیداوار کم کریں ایسے میں ایران سے نئی گیس لانا حکومت کے لیے سر درد بن جائے گا۔ تاپی گیس پائپ لائن اور ایران پائپ لائن دونوں بلوچستان سے گزریں گی وہاں سکیورٹی صورتحال خراب ہے فوج کو خدشہ ہوتا ہے کہ پائپ لائن بار بار اڑائی جائے گی جس سے ملک کی ساکھ اور سرمایہ کاری دونوں خطرے میں پڑیں گی۔ اگر خارجہ پالیسی کی بات کی جائے تو فوج کا اصولی مؤقف یہی رہا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کو ناراض کر کے معیشت کو داؤ پر نہیں لگایا جا سکتا لیکن یہاں اصل مجبوری معاشی ہے پاکستان کے پاس صرف 28 دن کا تیل ذخیرہ تھا جنگ کی صورت میں سپلائی رک سکتی ہے ایسے میں امریکہ اور خلیجی ممالک سے تعلقات خراب کرنا ریاست کے لیے خودکشی ہوگی۔ ویسے تو پاک ایران گیس پائپ لائن پر فوری کام شروع ہونا چاہیے رپورٹس کے مطابق اگر امریکی پابندیوں میں نرمی آئی تو نہ صرف گیس بلکہ ایران سے سستے خام تیل لینے کے معاملات کو بھی عملی صورت دینی چاہیے۔ آخر میں خلاصہ یہ ہے کہ امریکی پابندیاں، سعودی دباؤ، اور مہنگے ایل این جی معاہدے ہیں۔ فوج سمیت پوری ریاست کی ترجیح یہی ہے کہ پہلے معیشت بچائی جائے۔ جس دن امریکہ ایران تعلقات بہتر ہوئے یا پاکستان معاشی طور پر مضبوط ہوا، اس دن ایران سے سستا تیل آنا شروع ہو جائے گا۔
ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان کولڈ وار تو چلتی ہی رہتی ہے لیکن ابھی جو تازہ صورتحال ہے وہ کچھ یوں ہے کہ دراصل پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی CEC کے اجلاس میں پنجاب اور KP کے اراکین نے شدید مطالبہ کیا کہ ن لیگ سے اتحاد پیپلز پارٹی کیلئے سیاسی خودکشی ہے یا تو حکومت میں باقاعدہ شامل ہوں یا اتحاد ختم کریں۔ اس پر آصف زرداری نے پارٹی کو ٹھنڈا کیا اور کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے تحریری معاہدے پر عملدرآمد اور تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ زرداری نے CEC سے حکومت کو 1 ماہ کی مہلت دینے کی درخواست کی جو منظور ہو گئی۔ یعنی زرداری نے حکومت گرانے کی دھمکی نہیں دی بلکہ پارٹی کے دباؤ کو مہلت دے کر مینج کیا پیغام یہ تھا کہ ہمارے مطالبات مانو ورنہ…۔۔ بہر حال دونوں طرف سے بیان بازی عروج پر تھی۔ بلاول مسلسل وفاقی حکومت پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ احسن اقبال اسے ہلکی پھلکی موسیقی کہہ رہے ہیں لیکن پی پی نے کھل کر تنقید کا فیصلہ کیا ہے۔ ابھی نوابشاہ میں اسحاق ڈار، ایاز صادق اور محسن نقوی پر مشتمل ن لیگی وفد صدر زرداری سے ملا۔ وہاں طے پایا کہ دونوں پارٹیاں بیان بازی روکیں گی اور بڑے ایشو پر پہلے ایک دوسرے کا موقف لیں گی۔ زرداری نے صاف کہا اپنی پارٹی کے لوگوں کو سمجھائیں ہم نہیں چاہتے کہ معاملات خراب ہوں. پی پی کو شکایت ہے ن لیگ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈیل کر کے اکیلی کریڈٹ لے رہی ہے، جبکہ ن لیگ سمجھتی ہے پی پی بلیک میل کر رہی ہے۔ زرداری-اسحاق ڈار ملاقات میں پنجاب اور سندھ حکومت کے درمیان حالیہ کشیدگی بھی زیر غور آئی۔ اس کشیدگی میں اسٹیبلشمنٹ کا فیکٹر ہمیشہ انڈر کرنٹ رہتا ہے۔ پی پی کی اصل فرسٹریشن پاور شئیرنگ ہے۔ CEC میں صاف کہا گیا۔ اتحاد پیپلزپارٹی نہیں ن لیگ کی ضرورت ہے۔ ن لیگ کو حکومت چلانے کیلئے پی پی کے نمبر چاہئیں اور پی پی کو لگتا ہے کہ وزارتوں فنڈز اور پنجاب میں اسپیس نہیں مل رہی۔زرداری کی پالیسی یہ ہے کہ وہ بیک وقت حکومت گرانے کی تلوار بھی لٹکاتا ہے اور مہلت دے کر اسٹیبلشمنٹ + ن لیگ دونوں کو یقین بھی دلاتا ہے کہ وہ سسٹم لپیٹنا نہیں چاہتا۔ یہ پریشر پولیٹکس ہے۔اسٹیبلشمنٹ سے چپقلش کا مطلب یہی ہے کہ زرداری اشارہ دے رہا ہے اگر ہمیں دیوار سے لگایا تو ہم بھی نیوٹرل نہیں رہیں گے۔ مگر فی الحال دونوں پارٹیاں طلاق افورڈ نہیں کر سکتیں۔ اس لیے بیان بازی روکنے پر رضامند ہو گئے۔اگلا 1 مہینہ اہم ہے۔ اگر ن لیگ نے تحریری معاہدے پر عمل نہ کیا تو پی پی کا اگلا CEC اجلاس زیادہ گرم ہو گا۔
پاکستانی عوام بخوبی جانتے ہیں کہ یہ اتحاد محبت کا نہیں مجبوری کا ہے اور مجبوری بھی دونوں طرف سے کمزور پڑ رہی ہے۔صاف الفاظ میں غیر فطری اتحاد کی بنیادیں ہل چکی ہیں۔ایک غیر مصدقہ خبر کے مطابق عمران خان اور کسی طاقتور شخصیت کے درمیان ملاقات ہوئی ہے۔ لیکن اسلام آباد کی سیاست میں ایسی افواہیں ہی پریشر کا اصل ہتھیار ہوتی ہیں۔اگر عمران خان اور کسی طاقتور شخصیت کے درمیان برف پگھل رہی ہے تو اس کا مطلب 3 چیزیں ہیں یعنی ن لیگ کی واحد گارنٹی ختم اب تک ن لیگ کا بیانیہ تھا کہ ہمارے سوا کوئی آپشن نہیں اگر اسٹیبلشمنٹ کے پاس PTI کا آپشن کھل گیا تو ن لیگ کی بارگیننگ پاور زیرو ہو جائے گی۔پی پی کی مجبوری بھی ختم زرداری ہمیشہ اس وقت تک حکومت کے ساتھ رہتا ہے جب تک اسے لگے کہ متبادل زیادہ خطرناک ہے۔ اگر PTI + اسٹیبلشمنٹ میں کوئی انڈرسٹینڈنگ بنتی ہے تو پی پی فوراً سائیڈ بدلنے کا رسک لے سکتی ہے۔ تب وہ 1 ماہ کی مہلت بھی پوری نہیں کرے گی۔شاید یہ بجٹ سے پہلے کھیل بھی ہو سکتا ہے بجٹ پاس کروانا حکومت کی سب سے بڑی مجبوری ہے۔ اپوزیشن + ناراض اتحادی مل جائیں تو بجٹ لٹک سکتا ہے اور اگر بجٹ لٹکا تو حکومت لٹک گئی۔تو کیا بجٹ سے پہلے کھیل ہو جائے گا؟ تو پھر فیکٹر دیکھتے ہیں۔فیکٹر ن لیگ کیلئے خطرہ پی پی کیلئے موقع پاور شئیرنگ وعدے پورے نہ کیے تو پی پی کا جواز بن جائے گا زرداری کو وعدہ خلافی کا کارڈ مل جائے گا اسٹیبلشمنٹ کا سگنل والی خبر اگر اڈیالہ ملاقات سچ ہے تو ن لیگ کو میسج ہے سدھر جاؤ پی پی کو میسج ہے آپشن کھلا ہے۔عوامی پریشر مہنگائی بجٹ میں نئے ٹیکس ن لیگ تنہا گالیاں کھائے گی پی پی کہے گی ہم تو پہلے ہی کہتے تھے۔یوں سمجھیں کہ یہ اتحاد وینٹی لیٹر پر ہے۔زرداری مہلت دے کر دراصل ٹائم خرید رہا ہے۔ وہ دیکھ رہا ہے کہ اڈیالہ والی ہوائیں کس طرف چلتی ہیں۔ اگر وہاں واقعی معاملات طے ہوئے ہیں تو پی پی بجٹ سے پہلے ہی ہاتھ کھینچ لے گی اور کریڈٹ لے گی کہ ہم نے عوام دشمن بجٹ کا حصہ بننے سے انکار کیا۔ن لیگ کے پاس اب 2 راستے ہیں یا تو 1 مہینے میں پی پی کے سارے تحفظات دور کرے سندھ کو فنڈز دے پنجاب میں اسپیس دے یا پھر اڈیالہ والی ڈیل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرے۔بظاہر دوسرا راستہ آسان لگ رہا ہے اسی لیے بیان بازی روکنے کا معاہدہ ہوا مگر غیر فطری اتحاد دل سے نہیں چلتے دماغ سے چلتے ہیں اور ابھی دماغ کہہ رہا ہے کہ نئی صف بندی کا وقت آ گیا ہے۔تمام زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے مجھے کچھ ایسا لگ رہا ہے کہ بجٹ تک پہنچنا مشکل ہے۔ اگلے 2-3 ہفتے میں پنجاب یا مرکز میں کوئی بڑا یوٹرن آ سکتا ہے۔
10 مئی 2026 کو X پر ایک پوسٹ میں رضائی نے کہا کہ آج کے بعد تہران کا تحمل ختم ہو گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایرانی جہازوں پر کسی بھی حملے کا جواب امریکی جہازوں اور اڈوں کے خلاف سخت اور فیصلہ کن ہوگا۔انہوں نے مزید کہا گھڑی امریکیوں کے مفادات کے خلاف ٹک ٹک کر رہی ہے ان کے حق میں بہتر ہے کہ حماقت نہ کریں اور خود کو اس دلدل میں مزید نہ دھنسائیں جس میں وہ گر چکے ہیں۔بہترین راستہ یہ ہے کہ ہتھیار ڈال دیں اور رعایتیں دیں۔ آپ کو نئے علاقائی نظام کی عادت ڈالنی ہوگی یہ بیان امریکہ-ایران کشیدگی کے دوران آیا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں آبنائے ہرمز میں حالات خراب ہیں۔ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ کیا ہوا ہے، جبکہ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ جمعہ کو اس کی افواج نے دو ایرانی ٹینکروں کو “ناکارہ” بنایا جو محاصرہ توڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس کے جواب میں ایران کے پاسداران انقلاب نے بھی دھمکی دی ہے کہ ایرانی ٹینکروں پر حملہ ہوا تو امریکی اڈوں اور بحری جہازوں پر بھاری حملہ کیا جائے گا۔ رضائی نے ایک اور بیان میں Axios کی رپورٹس کو امریکی خواہشات کی فہرست قرار دیتے ہوئے مسترد کیا اور کہا کہ امریکی ہاری ہوئی جنگ میں وہ کچھ حاصل نہیں کر سکیں گے جو وہ مذاکرات میں حاصل نہ کر سکے۔دونوں ملکوں کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی کی بات چیت چل رہی ہے۔ امریکہ آبنائے ہرمز کھولنے کے بدلے ایران کا افزودہ یورینیم لے جانے اور پابندیاں بتدریج ہٹانے کی پیشکش کر رہا ہے، جبکہ ایران جنگ کے نقصانات کا ہرجانہ مانگ رہا ہے۔ فی الحال نازک جنگ بندی قائم ہے لیکن آبنائے ہرمز میں جھڑپیں ہو رہی ہیں۔10 مئی 2026 کو X پر ایک پوسٹ میں رضائی نے کہا کہ آج کے بعد تہران کا تحمل ختم ہو گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایرانی جہازوں پر کسی بھی حملے کا جواب امریکی جہازوں اور اڈوں کے خلاف سخت اور فیصلہ کن ہوگا۔انہوں نے مزید کہا گھڑی امریکیوں کے مفادات کے خلاف ٹک ٹک کر رہی ہے ان کے حق میں بہتر ہے کہ حماقت نہ کریں اور خود کو اس دلدل میں مزید نہ دھنسائیں جس میں وہ گر چکے ہیں۔بہترین راستہ یہ ہے کہ ہتھیار ڈال دیں اور رعایتیں دیں۔ آپ کو نئے علاقائی نظام کی عادت ڈالنی ہوگی یہ بیان امریکہ-ایران کشیدگی کے دوران آیا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں آبنائے ہرمز میں حالات خراب ہیں۔ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ کیا ہوا ہے، جبکہ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ جمعہ کو اس کی افواج نے دو ایرانی ٹینکروں کو “ناکارہ” بنایا جو محاصرہ توڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس کے جواب میں ایران کے پاسداران انقلاب نے بھی دھمکی دی ہے کہ ایرانی ٹینکروں پر حملہ ہوا تو امریکی اڈوں اور بحری جہازوں پر بھاری حملہ کیا جائے گا۔ رضائی نے ایک اور بیان میں Axios کی رپورٹس کو امریکی خواہشات کی فہرست قرار دیتے ہوئے مسترد کیا اور کہا کہ امریکی ہاری ہوئی جنگ میں وہ کچھ حاصل نہیں کر سکیں گے جو وہ مذاکرات میں حاصل نہ کر سکے۔دونوں ملکوں کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی کی بات چیت چل رہی ہے۔ امریکہ آبنائے ہرمز کھولنے ک
ٹرمپ رجیم چینج چاہتے تو ہیں، مگر پاکستان والا فارمولا ایران پر نہیں چل سکتا۔ وجہ ایران میں امریکی اثر و رسوخ صفر ہے۔سیدھا سا سوال ہے کیا ٹرمپ واقعی ایران میں رجیم چینج چاہتے ہیں؟ تو جواب ہاں، لیکن کھل کر نہیں کہتے۔ ثبوت یہ ہیں پہلی ٹرم 2017-2021 ٹرمپ نے 2018 میں ایران نیوکلیئر ڈیل JCPOA ختم کی اور “زیادہ سے زیادہ دباؤ پالیسی لگائی۔ مقصد تھا کہ معاشی پابندیوں سے ایرانی عوام تنگ آ کر حکومت گرا دیں۔فروری 2026 میں امریکہ-اسرائیل حملے کے بعد ٹرمپ نے کہا ایرانی عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ایٹم بم چاہتے ہیں یا خوشحالی یہ رجیم چینج کا بالواسطہ اشارہ تھا۔ ٹرمپ عوامی سطح پر کہتے ہیں ہم رجیم چینج نہیں چاہتے، صرف ایٹم بم نہیں چاہیے۔ مگر 2026 میں CIA کی رپورٹ لیک ہوئی کہ امریکہ ایران میں عوامی بے چینی کو سپورٹ کر رہا ہے۔امریکہ کے پاس 3 آپشن ہیں اور تینوں مشکل بھی۔پہلا فوجی حملہ کر کے حکومت گرانا عراق 2003 ماڈل ۔دوسرا پابندیوں سے معیشت تباہ کر کے عوامی بغاوت شاہ ایران 1979 ماڈل۔تیسرا اندر سے کوئی جنرل/گروپ توڑنا پاکستان/مصر ماڈل۔سعودی عرب کی ٹرمپ سے بڑی خواہش تھی ایران پر حملے جاری رکھو مگر رجیم چینج نہیں چاہتا، کیونکہ اس کے بعد خانہ جنگی ہو گی اور حوثی/داعش بارڈر پر آ جائیں گے۔انور قرقاش UAE نے کہا تھا GCC کا ایران پر ردعمل تاریخی طور پر سب سے کمزور تھا، کیونکہ سب کو ڈر ہے کہ رجیم چینج سے خطہ 10 سال کے لیے جلے گا اور پاکستان والا کھیل ایران میں ناممکن ہے۔ 2026 کی جنگ بندی کے بعد پالیسی یہ ہے۔ایران کو ایٹم بم سے روکو، میزائل پروگرام محدود کرو، اور پراکسیز کی فنڈنگ بند کرواؤ۔ حکومت گرانا دوسرے نمبر کا ہدف ہے، اور وہ بھی ایرانی عوام خود کریں کی امید پر۔اس سوال کا سیدھا جواب ٹرمپ چاہتا ہے، مگر کر نہیں سکتا۔ پاکستان میں امریکہ کنگ میکر ہے، ایران میں تماشائی ہے۔
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کا بوجھ واقعی بہت زیادہ ہے اور اس وقت قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں۔اس وقت پیٹرول پر کتنا ٹیکس ہے؟ مئی 2026 حالیہ اعداد و شمار کے مطابق پیٹرول کی قیمت*: 414.78 روپے فی لیٹر ڈیزل کی قیمت 414.58 روپے فی لیٹر 317c ٹیکس کی تفصیل فی لیٹر پیٹرول پیٹرولیم لیوی 160.61 روپے تک، یا فروری 2026 کی دستاویز کے مطابق 84.40 روپے کسٹم ڈیوٹی 24.12 روپے سے 15.84 روپے تک کلائمیٹ سپورٹ لیوی 2.50 روپے آئل کمپنیوں کا مارجن 7.87 روپے ڈیلرز کا کمیشن 8.64 روپے ۔ایک رپورٹ کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت کا تقریباً 46% صرف ٹیکسز اور مارجنز پر مشتمل ہے۔ یعنی اگر ایکس ریفائنری قیمت 247.15 روپے ہے تو عوام 211.26 روپے صرف ٹیکس ادا کر رہی ہے۔ سیلز ٹیکس فی الحال صفر ہے۔ ڈیزل پر ایکس ریفائنری پرائس 461.23 روپے پر 59.12 روپے کے ٹیکسز ہیں، یعنی 11.36%۔ پیٹرولیم لیوی صفر ہے لیکن 35.74 روپے کسٹم ڈیوٹی ہے۔ حکومت مزید ٹیکس کیوں لگا رہی ہے؟ آئی ایم ایف کے مطالبات آئی ایم ایف نے بجٹ 2026-27 کے لیے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی نہ دی جائے اور ٹیکس چھوٹ کم سے کم رکھی جائے۔ مالی بوجھ سے بچنے کے لیے ایندھن کی قیمتوں میں بروقت ایڈجسٹمنٹ کا کہا گیا ہے۔پیٹرولیم لیوی کا ہدف حکومت 1468 ارب روپے کے سالانہ ہدف کے قریب ہے، لیکن اس کے باوجود لیوی مزید بڑھانے پر غور ہو رہا ہے۔عالمی قیمتیں مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل مہنگا ہوا ہے۔ پاکستان درآمدی تیل پر انحصار کرتا ہے اس لیے اثر سیدھا پڑتا ہے۔ مہنگائی کا دباؤ 400 روپے سے اوپر پیٹرول سے ٹرانسپورٹ، خوراک، بجلی سب مہنگی ہوتی ہے۔ ماہرین مئی میں مزید جھٹکے کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔عوام پر بوجھ تنخواہ دار طبقہ اور غریب آدمی کے لیے گزارا مشکل ہو گیا ہے، کیونکہ آمدنی نہیں بڑھی لیکن خرچے دگنے ہو گئے۔ حکومتی موقف قرض اور خسارہ آئی ایم ایف کے مطابق ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح بڑھانی ہے اور قرضوں کا بوجھ کم کرنا ہے۔ پیٹرولیم لیوی حکومت کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہے۔شرح نمو کا ہدف اصلاحات سے آئندہ مالی سال شرح نمو 5.5% تک رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بے شک عوام پر ٹیکس کا بوجھ بہت زیادہ ہے اور 414 روپے لیٹر پیٹرول عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔ حکومت آئی ایم ایف پروگرام، قرضوں کی ادائیگی اور بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے لیوی بڑھا رہی ہے۔تباہی کا انحصار اس پر ہے کہ یہ پالیسیاں کب تک چلتی ہیں۔ اگر ٹیکس سے جمع پیسہ صحت، تعلیم، روزگار پر لگے اور کرپشن کم ہو تو معیشت سنبھل سکتی ہے۔ اگر صرف قرض اتارنے اور خسارہ پورا کرنے میں لگتا رہے تو عوام کا اعتماد مزید کم ہوگا۔بہت سے ماہرین بھی کہہ رہے ہیں کہ بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کم کر کے براہ راست ٹیکس نیٹ بڑھانا چاہیے تاکہ بوجھ صرف عام آدمی پر نہ پڑے۔
خلیج میں صورتحال کافی کشیدہ ہے، لیکن ابھی سفارتی حل کی امیدیں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔تازہ ترین صورتحال کے مطابق جمعرات 7 مئی کو امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان آبنائے ہرمز میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ امریکہ کے مطابق ایران نے 3 امریکی نیوی ڈسٹرائرز پر میزائل، ڈرون اور چھوٹی کشتیوں سے حملہ کیا۔ امریکہ نے جوابی کارروائی میں ایران کے میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس کو نشانہ بنایا۔جمعہ 8 مئی کی صبح ایران نے متحدہ عرب امارات پر ڈرون اور میزائلوں کی بوچھاڑ کی۔ UAE نے کہا اس کے فضائی دفاعی نظام فعال طور پر حملے کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ فجیرہ میں تیل کی تنصیب پر حملے میں 3 بھارتی شہری زخمی بھی ہوئے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی ابھی بھی برقرار ہے۔ انہوں نے امریکی کارروائی کو “just a love tap” اور ایرانی حملے کو “trifle” قرار دیا۔ ٹرمپ نے کہا: “They trifled with us today. We blew them away” لیکن یہ بھی کہا کہ “The ceasefire is going. It’s in effect”۔ ٹرمپ نے خود کہا “We’re negotiating with the Iranians” اور یہ کہ ڈیل “any day” آ سکتی ہے۔ امریکہ ایران کے جواب کا انتظار کر رہا ہے ایک امریکی امن تجویز پر۔ 7 اپریل کو اعلان کردہ جنگ بندی کو دونوں فریق ابھی توڑنے سے انکاری ہیں۔ امریکہ کہتا ہے “CENTCOM does not seek escalation”۔ ایران نے بھی کہا کہ قشم جزیرے اور ساحلی شہروں میں صورتحال “back to normal” ہے۔ تجزیہ کار اسے جنگ بندی کا سب سے سنجیدہ امتحان کہہ رہے ہیں۔ دونوں طرف سے دھمکیاں بھی جاری ہیں۔ ٹرمپ نے کہا اگر ایران نے ڈیل سائن نہ کی تو “we’ll knock them out a lot harder”۔ جھڑپوں کے بعد برینٹ کروڈ $102 فی بیرل سے اوپر چلا گیا، جو ظاہر کرتا ہے مارکیٹ بھی پریشان ہے۔ جنگ بندی کاغذ پر قائم ہے اور سفارتی چینل کھلے ہیں۔ پاکستان ثالثی کر رہا ہے۔ لیکن آبنائے ہرمز میں فائرنگ اور UAE پر حملے نے اسے بال سے لٹکا دیا ہے۔ فوری حل کی امیدیں کمزور ضرور ہوئی ہیں، مگر ٹرمپ اور ایران دونوں مکمل جنگ سے بچنے کی بات کر رہے ہیں۔ اگلے چند دن اہم ہوں گے کہ ایران امریکی تجویز کا کیا جواب دیتا ہے۔ صورتحال بہت تیزی سے بدل رہی ہے۔
You must be logged in to post a comment.