خطے کی نئی سیاست، حکومتی موقف،اسرائیل نواز مذہبی بیانیہ، مسعود حسین جعفری

پاکستان میں بھی اب صورتحال دیگر اسلامی ممالک جیسی بنتی جا رہی ہے جہاں مذہبی طبقہ کھل کر اسرائیل کی حمایت میں سامنے آ رہا ہے۔ کئی پاکستانی مولوی ٹی وی چینلز، جمعہ کے خطبات اور سوشل میڈیا پر ایران کو اصل فتنہ قرار دے کر اسرائیل کے موقف کو بالواسطہ درست ثابت کر رہے ہیں۔ ان کا بیانیہ یہ ہے کہ خطے کا اصل خطرہ ایران ہے، اور اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانا وقت کی ضرورت ہے۔اس میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی خاموش رضامندی بھی شامل ہے۔ پالیسی سطح پر جب تعلقات کو نرم کرنے کے اشارے دیے جاتے ہیں تو مذہبی طبقے کو گرین سگنل مل جاتا ہے کہ وہ عوام کو ذہنی طور پر تیار کرے۔ اسی لیے اب ایسے مولوی سامنے آ رہے ہیں جو فلسطین کے بجائے “امت کی وحدت” اور “ایرانی توسیع پسندی” کے خلاف تقریریں کر رہے ہیں۔پاکستانی مولویوں کا سب سے اہم کردار ایران مخالف بیانیہ بنانا ہے۔ وہ شیعہ-سنی تفریق کو ہوا دے کر ایران کو امت کا دشمن ثابت کرتے ہیں اور ساتھ ہی اسرائیل کو ایک حقیقت کے طور پر قبول کرنے کا جواز فراہم کرتے ہیں۔ یوں مذہب، سیاست اور اسٹیبلشمنٹ کی لائن ایک ہی سمت میں جاتی دکھائی دے رہی ہے: ایران کے خلاف صف بندی اور اسرائیل سے ممکنہ مفاہمت کی راہ ہموار کرنا۔

آئین پاکستان جمہوری نظام، بنیادی حقوق، آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا اور جوابدہی کا تقاضا کرتا ہے، مسعود حسین جعفری

پاکستان کی موجودہ سیاسی و سماجی صورتحال انتہائی اختصار سے یہ ہے کہ پاکستان میں کئی دہائیوں سے سول، فوجی اور مخلوط حکومتی ادوار آتے رہے ہیں۔ آئین پاکستان جمہوری نظام، بنیادی حقوق، آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا اور جوابدہی کا تقاضا کرتا ہے۔ جب بھی آمریت، ڈکٹیٹرشپ یا غیر جمہوری مداخلت کا ذکر ہوتا ہے تو اس سے مراد وہ ادوار لیے جاتے ہیں جن میں منتخب نمائندوں کے بجائے غیر آئینی طریقے سے اقتدار سنبھالا گیا، بنیادی حقوق معطل ہوئے، یا سیاسی مخالفین پر کریک ڈاؤن ہوا۔ “ظلم و جبر”، “فرعونیت” اور “شہریوں کا قتلِ عام” جیسے الفاظ عام طور پر انسانی حقوق کی پامالیوں، لاپتہ افراد، ماورائے عدالت کارروائیوں اور پرتشدد واقعات پر عوامی ردعمل میں استعمال ہوتے ہیں۔ کھلی کرپشن کا بیانیہ شفافیت، احتساب کے اداروں کی کارکردگی اور بڑے مالی اسکینڈلز سے جڑا ہے۔ 2 خاندان بندوق کے زور پر مسلط ایک سیاسی نعرہ ہے جو مخصوص سیاسی گھرانوں کے تسلط اور اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر تنقید کے لیے بولا جاتا ہے، مگر اس کی تصدیق کے لیے آئینی، عدالتی اور انتخابی ریکارڈ دیکھنا ضروری ہے۔ جمہوری استحکام کے لیے آزاد انتخابات، اداروں کی حدود کا احترام، قانون کی حکمرانی اور شہری آزادیوں کا تحفظ کلیدی تقاضے ہیں۔

“ڈیجیٹل سندھ” اور “گرین انرجی” جیسے الفاظ استعمال کر کے بجٹ کو جدید دکھانے کی کوشش کی گئی! مسعود حسین جعفری

سندھ حکومت نے رواں مالی سال کا بجٹ پیش کر دیا، لیکن حقیقت میں یہ بجٹ عوام کی توقعات پر پورا اترنے کے بجائے صرف الفاظ کا ہیر پھیر لگتا ہے۔ تقریر میں “ترقی، خوشحالی اور عوام دوست اقدامات” کے نعرے تو بہت بلند کیے گئے، مگر زمینی سطح پر کوئی ٹھوس لائحہ عمل نظر نہیں آیا۔ تعلیم اور صحت کے لیے بڑے اعلانات کیے گئے، لیکن پچھلے سالوں کی طرح فنڈز کی اصل تقسیم اور خرچ کا طریقہ کار مبہم رکھا گیا۔ کراچی، حیدرآباد اور اندرونِ سندھ کی سڑکوں، پانی اور نکاسی کے مسائل پر پرانے وعدے ہی دہرا دیے گئے۔ نئے منصوبوں کے نام تو رکھ دیے گئے، مگر ان کی تکمیل کی کوئی واضح ٹائم لائن نہیں دی گئی۔ ٹیکس اور سبسڈی کے اعداد و شمار کو اس طرح پیش کیا گیا کہ سننے میں ریلیف لگے، مگر مہنگائی کے تناسب سے دیکھا جائے تو عام آدمی کی جیب پر بوجھ ہی بڑھے گا۔ “ڈیجیٹل سندھ” اور “گرین انرجی” جیسے الفاظ استعمال کر کے بجٹ کو جدید دکھانے کی کوش کی گئی، مگر عملی منصوبہ بندی غائب ہے۔مجموعی طور پر یہ بجٹ مسائل کا حل کم اور لفظی دلاسہ زیادہ لگتا ہے۔ کاغذ پر سب کچھ بہتر ہے، مگر عوام کو اس سے کتنا فائدہ پہنچے گا، یہ وقت ہی بتائے گا۔

میرے ہم وطنوں کیا لگتا ہے؟ عوامی مینڈیٹ کی حیثیت صرف ایک رسمی مہر کی رہ گئی ہے؟ مسعود حسین جعفری

ارباب اختیار و اقتدار و مجاز اور اقتدار کا کھیل۔یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ اربابِ اختیار سیاسی قیادت کا انتخاب ووٹ کی پرچی سے نہیں بلکہ بند کمروں میں انٹرویو اور ڈیل کے تحت کرتی ہے۔ عوام کو الیکشن کے نام پر ایک ڈرامہ دکھایا جاتا ہے تاکہ جمہوریت کا تاثر قائم رہے۔ اصل فیصلہ کہیں اور ہوتا ہے۔جسے اسٹبلشمنٹ منظور کر لے، اقتدار اس کے قدموں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اور جسے ناپسند کر لیا جائے، اس سے اقتدار واپس چھین لیا جاتا ہے۔ یہ چھیننا کبھی عدالتی فیصلے کی صورت میں ہوتا ہے، کبھی احتساب کے نام پر، اور کبھی “غیر آئینی” کہہ کر۔ عوامی مینڈیٹ کی حیثیت صرف ایک رسمی مہر کی رہ جاتی ہے۔الیکشن مہم، جلسے، نعرے، سب کچھ صرف دھوکا ہے۔ اصل سلیکشن پہلے ہی ہو چکی ہوتی ہے۔ اسی لیے حکومتیں پانچ سال پورے نہیں کر پاتیں۔ جس دن اسٹبلشمنٹ کا من پسند تبدیل ہو جائے، اسی دن حکومت کی قسمت بھی بدل جاتی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اگلا اقتدار کس کو دیا جائے گا۔ پرانا چہرہ واپس لایا جائے گا یا کوئی نیا من پسند سامنے آئے گا۔ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا، فیصلہ وہی کریں گے جو ہمیشہ کرتے آئے ہیں۔میرے محب وطن ہم وطنوں کو کیا لگتا ہے، اگلا من پسند کون ہو گا؟

تعلیم و صحت کے بجٹ میں کٹوتی کر کے مستقبل کی نسلوں کو پسماندگی کی طرف دھکیل دیا گیا! مسعود حسین جعفری

وفاقی بجٹ اور عوامی اثرات۔وفاقی غیر آئینی و غیر قانونی حکومت عوام پر زبردستی بجٹ تھوپنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ یہ بجٹ مشاورت، شفافیت اور عوامی مفاد کے بغیر تیار کیا گیا، جس کے اثرات آنے والے مہینوں میں پوری قوم محسوس کرے گی۔ مہنگائی، ٹیکسوں کا بوجھ اور سبسڈیز کا خاتمہ عام آدمی کی قوت خرید کو براہ راست متاثر کرے گا۔ بجلی، گیس، پیٹرول اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے سے متوسط طبقہ پہلے ہی دباؤ کا شکار تھا، اب اس پر مزید بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق ایسے یکطرفہ فیصلوں سے سرمایہ کاروں کا اعتماد کم ہوتا ہے، کاروبار سست پڑتے ہیں اور بے روزگاری بڑھتی ہے۔ تعلیم و صحت کے بجٹ میں کٹوتی کر کے مستقبل کی نسلوں کو پسماندگی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ کسان، مزدور اور چھوٹے تاجر وہ طبقات ہیں جو اس پالیسی کی قیمت سب سے زیادہ ادا کریں گے۔جب فیصلے ایوانوں میں عوام کی آواز سنے بغیر کیے جائیں تو ملک و قوم کا نقصان یقینی ہو جاتا ہے۔ ایسے اقدامات سے عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے بڑھتے ہیں اور عدم اعتماد جنم لیتا ہے۔ یہ لوگ کسی صورت ملک و قوم سے مخلص نہیں، کیونکہ مخلص قیادت ہمیشہ عوام کو ساتھ لے کر چلتی ہے، ان پر فیصلے نہیں تھوپتی۔

مسلم ممالک اسرائیلی اثر ورسوخ کے آگے بے بسی کا شکار ہیں! مسعود حسین جعفری

مسلم ممالک میں اسرائیل کا خوف ایک ناسور بن گیا ہے ۔مسلم دنیا آج جس دور سے گزر رہی ہے وہ تاریخ کا تلخ ترین باب ہے۔ وہ ممالک جو کبھی اسلام کا قلعہ کہلاتے تھے، آج مسلمانوں کے لیے ناسور بن چکے ہیں۔ اسرائیل کے خوف نے ان کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی ہے۔ پہلے فلسطین کی زمین پر قبضہ ہوا تو آوازیں اٹھیں، قراردادیں پاس ہوئیں۔ اب جب معاملہ اپنی سرحدوں تک پہنچا تو وہی آوازیں خاموش ہو گئیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ کے سامنے مسلم حکمرانوں نے اپنی زمینیں، اپنی خودمختاری، اپنی غیرت سب کچھ سودے بازی میں رکھ دی۔ جو ممالک کل تک امت کی بات کرتے تھے، آج معاہدوں کے نام پر اپنی سرزمین کے ٹکڑے دشمن کے حوالے کر رہے ہیں۔ بیس کیمپ دیے جا رہے ہیں، فضائی حدود کھول دی گئی ہیں، اور سفارتی تعلقات کو “مصلحت” کا نام دے کر جائز قرار دیا جا رہا ہے۔ مسلمان بے بس دیکھ رہا ہے کہ اس کے اپنے ہی گھر کے دروازے دشمن کے لیے کھل رہے ہیں۔ اسرائیل کا خوف اتنا بڑھ گیا ہے کہ مسلم ممالک اپنی بقا کے لیے اپنی شناخت بیچنے پر مجبور ہیں۔ جب تک یہ خوف دل سے نہیں نکلے گا، مسلم امہ یونہی بکھری رہے گی۔ اور جب تک حکمران اپنی زمین امریکہ اسرائیل کے قدموں میں رکھتے رہیں گے، مسلمانوں کا زخم بھرتا نہیں دکھائی دے گا۔

گلگت بلتستان اور کشمیر حق کی پامالی،گلگت بلتستان اور کشمیر، دونوں خطے قدرتی حسن اور قربانیوں کی سرزمین ہیں! مسعود حسین جعفری

گلگت بلتستان اور کشمیر حق کی پامالی۔گلگت بلتستان اور کشمیر، دونوں خطے قدرتی حسن اور قربانیوں کی سرزمین ہیں۔ لیکن آج ان کے اصل حقدار، یعنی یہاں کے باسی، اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ دہائیوں سے وعدے کیے گئے، قراردادیں پاس ہوئیں، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ فیصلے ہمیشہ اوپر سے مسلط کیے جاتے رہے۔گلگت بلتستان کے لوگ آج بھی آئینی حیثیت کے انتظار میں ہیں۔ ان کے وسائل، بجلی، معدنیات اور پانی پر دوسروں کا کنٹرول ہے جبکہ مقامی آبادی روزگار، تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتوں کو ترستی ہے۔ ہر الیکشن کے بعد نعرے بدلتے ہیں، مگر پالیسی وہی رہتی ہے۔ طاقتور مافیا نے زمینوں، ٹھیکوں اور وسائل پر قبضہ جما رکھا ہے۔ اصل باشندے تماشائی بن کر رہ گئے ہیں۔ادھر کشمیر میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ کشمیریوں کی رائے کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا۔ ان کی شناخت، ان کی تہذیب اور ان کے مستقبل کے فیصلے ان کی مرضی کے بغیر کیے گئے۔ باہر سے آنے والے مافیا گروپ معیشت، زمین اور سیاست پر حاوی ہیں۔ مقامی نوجوان بیروزگاری اور مایوسی کا شکار ہے۔دونوں خطوں کا مسئلہ ایک ہے: حقدار کو حق نہیں مل رہا۔ جب تک فیصلے ایوانوں میں بیٹھے لوگ کریں گے اور مقامی آواز دبائی جائے گی، امن و ترقی ممکن نہیں۔ گلگت بلتستان اور کشمیر کے لوگ خودمختار فیصلے چاہتے ہیں۔ وہ مافیاز کی جبری مسلط کردہ سیاست سے تنگ آ چکے ہیں۔حقداروں کو ان کا حق دیا جائے، ورنہ محرومی کی یہ آگ مزید شدت پکڑے گی۔

الیکشن چوری کی وارداتوں کا سلسلہ جاری،مافیا مسلط! مسعود حسین جعفری

گلگت بلتستان اور کشمیر اب مزید دھوکہ نہیں چلے گا۔موجودہ صورتحال شرمناک ہے۔ گلگت بلتستان اور کشمیر کے اصل وارث آج اپنی ہی سرزمین پر اجنبی بن چکے ہیں۔ ان کے حقِ حکمرانی، حقِ ملکیت اور حقِ رائے کو کھلم کھلا روندا جا رہا ہے یہ محرومی اتفاق نہیں یہ ایک سوچی سمجھی پالیسی ہے۔ذمہ دار کون؟ وفاقی اشرافیہ اسلام آباد میں بیٹھے فیصلہ ساز جنہوں نے دونوں خطوں کو ہمیشہ سودے بازی کا مال سمجھا۔ وعدے کیے، قراردادیں توڑیں، اور آئینی حیثیت کو لٹکایا ہوا ہے۔ گلگت بلتستان کو آج تک مکمل آئینی صوبہ بنانے سے انکار اور کشمیر کی سیاسی قیادت کو کچلنا ان کی پالیسی کا ثبوت ہے۔اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی جنہوں نے ہر الیکشن ہر احتجاج اور ہر مطالبے کو اپنے اشاروں پر نچایا مقامی نمائندے صرف کٹھ پتلی ہیں اصل اختیارات ہمیشہ غیر مقامی افسران اور اداروں کے پاس رہے۔مقامی مافیا گروپ زمین مافیا، ٹھیکہ مافیا اور معدنیات مافیا جو اشرافیہ کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں انہوں نے سرکاری مشینری کے ساتھ مل کر وسائل لوٹے گلگت کی زمینیں کشمیر کے جنگلات اور دریا آج ان کی جاگیر بن چکے ہیں مقامی نوجوان کو روزگار نہیں صرف مایوسی ملی۔نتیجہ یہ نکلا کہ بجلی پیدا کرنے والے اندھیرے میں ہیں۔ معدنیات کے مالک خود خالی ہاتھ ہیں پانی پر حق رکھنے والے پیاسے ہیں۔ بس اب کافی ہو گیا اگر حقداروں کو فوری حقِ خودارادیت اور آئینی تحفظ نہ دیا گیا تو یہ مافیاز کی مسلط کردہ خاموشی زیادہ دیر نہیں ٹکے گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ محکوم قومیں ہمیشہ اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔

کوئی بھی ملک اپنی مرضی سے ٹیکس لگائے خرچ کرے پھر IMF/World Bank بیچ میں کیوں آتے ہیں؟  مسعود حسین جعفری

بجٹ تو ہر ملک کا اندرونی معاملہ ہی ہوتا ہے۔ کوئی بھی ملک اپنی مرضی سے ٹیکس لگائے، خرچ کرے پھر IMF/World Bank بیچ میں کیوں آتے ہیں؟ جب پاکستان IMF سے بیل آؤٹ پیکج لیتا ہے، جیسے $3 ارب یا $7 ارب کا پروگرام، تو IMF کہتا ہے پیسے دوں گا، لیکن پہلے تمہاری معیشت ٹھیک کرو۔ وہ شرائط بجٹ پر لگتی ہیں – جیسے سبسڈی کم کرو، ٹیکس بیس بڑھاؤ، خسارہ کم کرو۔ ورنہ قسط روک دیتے ہیں۔عالمی ساکھ World Bank والے پروجیکٹ لون دیتے ہیں  سڑکیں، بجلی، تعلیم کے لیے۔ وہ بھی بجٹ میں شفافیت اور مخصوص ہدف مانگتے ہیں۔ڈالر کا مسئلہ ہمارے پاس ڈالر کم ہیں تیل، گندم، دوائیں باہر سے خریدنی ہیں IMF کے بغیر ڈالر نہیں ملتے، روپیہ گرتا ہے، مہنگائی بڑھتی ہے تو مجبوراً ان کی بات ماننی پڑتی ہے۔گھر آپ کا ہے، خرچے آپ کی مرضی۔ لیکن اگر آپ نے بینک سے قرض لیا ہوا ہے تو بینک کہے گا “غیر ضروری خرچہ بند کرو، پہلے قسط دو”۔ IMF بھی وہی بینک ہے، بس پیمانہ پورے ملک کا ہے۔تو تکنیکی طور پر بجٹ اندرونی ہے، لیکن عملی طور پر جب تک ہم قرض میں ہیں، IMF کی رضامندی کے بغیر بجٹ پاس نہیں ہو سکتا۔ پاکستان ہر سال $60 ارب+ کی امپورٹ کرتا ہے۔ تیل، LNG، دوائیں، مشینری – سب ڈالر میں۔ ہمارے پاس ڈالر نہیں بنتے۔ IMF قسط دے تو ڈالر آتے ہیں، روپیہ مستحکم رہتا ہے۔ ورنہ 1 ڈالر = 400 روپے والا سین ہو جائے۔ہمارا بیرونی قرضہ $130 ارب+ ہے۔ ہر سال $20-25 ارب واپس کرنے ہیں۔ نئے قرضے کے بغیر پرانے نہیں اترتے World Bank, IMF, سعودیہ، چین  یہی نئے قرضے دیت ہے۔امریکہ IMF بورڈ میں سب سے بڑا ووٹ رکھتا ہے۔ اگر امریکہ ناراض ہو جائے تو IMF پیسے نہیں دیتا پھر کوئی اور ملک بھی قرض نہیں دیتا ریٹنگ جنک ہو جاتی ہے۔لیکن آکسیجن کا مسئلہ یہ ہے مریض آکسیجن پر زندہ رہ سکتا ہے، صحت مند نہیں ہو سکتا۔ 35 سال سے ہم IMF پروگرام میں ہیں۔ ہر 3 سال بعد نیا پروگرام آکسیجن لگ گئی، سانس چل پڑی، پھر اتار دی۔ پھر سانس پھول گئی۔لیکن سوال یہ ہے ہم کب تک آکسیجن پر رہیں گے؟ برآمدات بڑھائیں، ٹیکس چوری روکیں، توانائی سستی کریں  تبھی ہم وینٹی لیٹر سے اتر پائیں گے۔

واضع پیغام ،گلگت بلتستان میں سلیکشن نہیں صرف الیکشن قابل قبول ہے! مسعود حسین جعفری

گلگت بلتستان میں ن لیگ، زرداری لیگ اور ان کے مالکان کی ساری منصوبہ بندی چوپٹ۔گلگت بلتستان ایک بار پھر ثابت کر رہا ہے کہ زبردستی کی سیاست یہاں نہیں چلتی۔ ن لیگ، زرداری لیگ پردے کے پیچھے بیٹھے مالکان سے مل کر جس پلان پر مہینوں محنت کی تھی، وہ عوام کی مزاحمت کے آگے ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔پہلے مرحلے میں دونوں جماعتوں نے اسلام آباد سے ہدایات لے کر مقامی قیادت کو خریدنے، نوٹس بانٹنے اور دباؤ کے ذریعے وفاداریاں تبدیل کرانے کی کوش کی۔ وفاق سے آنے والے وزرا نے ترقیاتی فنڈز اور عہدوں کا لالچ دیا، جبکہ انتظامی مشینری کو مخالف آوازوں کو دبانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اسٹیبلشمنٹ نے اپنی روایتی حکمت عملی کے تحت بیک ڈور میٹنگز، کالز اور دھمکیوں کا سہارا لیا تاکہ الیکشن سے پہلے ہی میدان صاف کر لیا جائے۔لیکن گلگت بلتستان کے لوگوں نے 2015 اور 2020 کا حساب ابھی تک بھولا نہیں۔ یہاں کے نوجوان، طلبہ، تاجر اور عام شہری سوشل میڈیا پر متحد ہوئے اور ہر اس اقدام کو بے نقاب کیا جس کا مقصد عوامی مینڈیٹ چوری کرنا تھا۔ جلسے جلوسوں میں واضح پیغام دیا گیا کہ اب “سیلیکشن” نہیں، صرف “الیکشن” قابل قبول ہے۔نتیجہ یہ نکلا کہ جن حلقوں میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے بھاری سرمایہ کاری کی تھی، وہاں مقامی امیدواروں نے ان کی نیندیں اڑا دیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے لگائے ہوئے سارے مهرے ایک کر کے بے اثر ہو گئے۔ جو لوگ کل تک وزارتوں کے خواب دیکھ رہے تھے، آج اپنے گھروں میں بیٹھے عوام کے سوالات کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔اس ذلت کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگ اب کسی کو اپنا فیصلہ مسلط نہیں کرنے دیں گے۔ انہوں نے سمجھ لیا ہے کہ جب تک مرکز کی پارٹیاں اور بیک ڈور طاقتیں مل کر کھیلتی رہیں گی، یہاں کے وسائل، زمین اور حقوق لٹتے رہیں گے
۔آج گلگت بلتستان سے جو پیغام جا رہا ہے وہ صاف ہے تمہاری ساری تیاری، ساری پلاننگ، ساری طاقت یہاں بے بس ہے۔ عوام بیدار ہو چکے ہیں، اور جب عوام بیدار ہو جائیں تو کوئی اسٹیبلشمنٹ، کوئی ن لیگ، کوئی زرداری لیگ ان کا راستہ نہیں روک سکتی۔