تمغہ امتیاز ریاست کا وہ اعزاز ہے جو قربانی، علم، فن اور وطن سے وفا کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جب یہ تمغہ میرٹ کے بجائے سفارش، تعلق اور سیاسی مفاد کی بنیاد پر بانٹا جائے تو یہ اعزاز نہیں رہتا بلکہ ایک مذاق بن جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں جو تقسیم ہوئی اس نے قوم کے زخموں پر نمک چھڑک دیا ہے۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ان عناصر کو تمغوں سے نوازا گیا جن کا ماضی داغدار رہا۔ وہ لوگ جن کے فیصلوں سے وطن عزیز کو معاشی، سیاسی اور سماجی نقصان پہنچا، جن کی پالیسیوں سے ادارے کمزور ہوئے اور عوام کا اعتماد گرا، آج سینے پر تمغے سجائے قوم کے سامنے کھڑے ہیں۔ جب تاریخ کے مجرموں کو ہیرو بنا دیا جائے تو نئی نسل کیا سبق سیکھے گی؟ یہ عمل نہ صرف تمغہ امتیاز کی ناقدری ہے بلکہ اس ادارے کی بے عزتی ہے جس کے نام پر یہ دیا جاتا ہے۔ اس منظر پر پوری قوم کا سر شرم سے جھک گیا۔اس سے بھی بڑا المیہ تعصبی رویہ ہے جو اس تقریب میں عیاں ہوا۔ دیگر صوبوں کی خدمات، قربانیاں اور صلاحیتیں یکسر نظر انداز کر دی گئیں۔ سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان سے ایسے نام تھے جو اس اعزاز کے اصل حقدار تھے، مگر فہرست میں انہیں جگہ نہ مل سکی۔ اس کے برعکس وفاق اور پنجاب کی بناوٹی قیادت کو خصوصی طور پر مدعو کر کے ایک ایک ایسا فیصلہ سامنے آیا جس نے فاصلوں کو مزید گہرا کر دیا اور عوام کو مایوس کر دیا۔فیلڈ مارشل کے عہدے سے توقع تھی کہ وہ قوم کو جوڑنے والا، حوصلہ دینے والا پیغام دیں گے۔ قوم کو لگا تھا کہ شاید یہ موقع اتحاد، مساوات اور میرٹ کے فروغ کے لیے استعمال ہوگا۔ لیکن ہوا اس کے برعکس۔ ایک ایسا فیصلہ سامنے آیا جس نے فاصلوں کو مزید گہرا کر دیا اور عوام کو مایوس کر دیا۔ اعزازات قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ جب یہ سرمایہ غیر مستحق ہاتھوں میں چلا جائے تو قوم کا حوصلہ ٹوٹتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آئندہ تمغہ امتیاز کی تقسیم شفاف، غیر سیاسی اور تمام صوبوں کی نمائندگی کی بنیاد پر ہو، تاکہ یہ اعزاز اپنی کھوئی ہوئی عزت واپس پا سکے۔











You must be logged in to post a comment.