
شہباز شریف کا یہ کہنا کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے اور ڈرون حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا، کوئی اصولی خارجہ پالیسی نہیں بلکہ ایک خاندانی کاروباری بیان ہے۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ شریف خاندان کو پاکستان کی سلامتی یا خطے کے امن سے کوئی دلچسپی نہیں، ان کی اصل فکر سعودی عرب میں کی گئی اپنی اربوں روپے کی سرمایہ کاری ہے۔سب جانتے ہیں کہ شریف خاندان کا کاروباری سلطنت کا ایک بڑا حصہ سعودی عرب میں قائم ہے۔ وہاں ان کی فیکٹریاں، جائیدادیں اور بینک اکاؤنٹس ہیں۔ پاکستان سے جو سرمایہ پچھلے چالیس سال میں منتقل کیا گیا، اس کا بڑا حصہ خلیجی ریاستوں میں محفوظ کیا گیا ہے۔ اگر سعودی عرب میں عدم استحکام آتا ہے یا ڈرون حملوں سے وہاں کے معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو سب سے پہلا نقصان شریف خاندان جیسے ان سیاستدانوں کو ہوگا جنہوں نے اپنا سب کچھ باہر رکھا ہوا ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ ریڈ لائن پاکستان کے لیے نہیں، اپنی دولت کے لیے کھینچی گئی ہے۔ جب پاکستان پر ڈرون حملے ہوتے تھے، جب وزیرستان میں آپریشن ہوتے تھے، اس وقت ایسی ریڈ لائن کبھی نظر نہیں آئی۔ لیکن جہاں اپنی جائیداد پر آنچ آنے کا خطرہ ہو، وہاں فوراً بیان آجاتا ہے۔یہ خوف صرف سعودی عرب تک محدود نہیں۔ پاکستان سے لوٹا ہوا سرمایہ دبئی، لندن اور دیگر ممالک میں بھی لگا ہوا ہے۔ عالمی معاشی بحران اور جنگوں کی وجہ سے یہ سرمایہ بھی کسی بھی وقت ڈوب سکتا ہے۔ اس لیے یہ سیاسی بیان دراصل اس کرپٹ اشرافیہ کی چیخ ہے جو پاکستان کو لوٹ کر باہر بسانے کے خواب دیکھتی ہے، لیکن جب باہر بھی آگ لگتی ہے تو ان کے سارے خواب چکنا چور ہونے لگتے ہیں۔










You must be logged in to post a comment.