ریڈ لائن دراصل اصولی خارجہ پالیسی نہیں بلکہ ایک خاندانی کاروباری بیان ہے! مسعود حسین جعفری

شہباز شریف کا یہ کہنا کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے اور ڈرون حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا، کوئی اصولی خارجہ پالیسی نہیں بلکہ ایک خاندانی کاروباری بیان ہے۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ شریف خاندان کو پاکستان کی سلامتی یا خطے کے امن سے کوئی دلچسپی نہیں، ان کی اصل فکر سعودی عرب میں کی گئی اپنی اربوں روپے کی سرمایہ کاری ہے۔سب جانتے ہیں کہ شریف خاندان کا کاروباری سلطنت کا ایک بڑا حصہ سعودی عرب میں قائم ہے۔ وہاں ان کی فیکٹریاں، جائیدادیں اور بینک اکاؤنٹس ہیں۔ پاکستان سے جو سرمایہ پچھلے چالیس سال میں منتقل کیا گیا، اس کا بڑا حصہ خلیجی ریاستوں میں محفوظ کیا گیا ہے۔ اگر سعودی عرب میں عدم استحکام آتا ہے یا ڈرون حملوں سے وہاں کے معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو سب سے پہلا نقصان شریف خاندان جیسے ان سیاستدانوں کو ہوگا جنہوں نے اپنا سب کچھ باہر رکھا ہوا ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ ریڈ لائن پاکستان کے لیے نہیں، اپنی دولت کے لیے کھینچی گئی ہے۔ جب پاکستان پر ڈرون حملے ہوتے تھے، جب وزیرستان میں آپریشن ہوتے تھے، اس وقت ایسی ریڈ لائن کبھی نظر نہیں آئی۔ لیکن جہاں اپنی جائیداد پر آنچ آنے کا خطرہ ہو، وہاں فوراً بیان آجاتا ہے۔یہ خوف صرف سعودی عرب تک محدود نہیں۔ پاکستان سے لوٹا ہوا سرمایہ دبئی، لندن اور دیگر ممالک میں بھی لگا ہوا ہے۔ عالمی معاشی بحران اور جنگوں کی وجہ سے یہ سرمایہ بھی کسی بھی وقت ڈوب سکتا ہے۔ اس لیے یہ سیاسی بیان دراصل اس کرپٹ اشرافیہ کی چیخ ہے جو پاکستان کو لوٹ کر باہر بسانے کے خواب دیکھتی ہے، لیکن جب باہر بھی آگ لگتی ہے تو ان کے سارے خواب چکنا چور ہونے لگتے ہیں۔

اگر یمن خودمختار اور مضبوط ہوگیا تو اسرائیل اور امریکہ کا بحیرہ احمر پر کنٹرول ختم ہو جائے گا! مسعود حسین جعفری

سعودیہ، امریکہ، اسرائیل گٹھ جوڑ اور تنہا یمن ، اصل کھیل کیا ہے؟ یہ تجزیہ اس سوال پر ہے کہ آج مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب کے ساتھ کھل کر امریکہ اور اسرائیل کھڑے ہیں جبکہ یمن کے پاس بظاہر کسی بڑی طاقت کی حمایت نہیں، تو آخر یہ سب کون کروا رہا ہے اور کیوں؟ سب سے پہلے زمینی حقیقت دیکھیں۔ سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کا تعلق نیا نہیں، 1945 سے تیل کے بدلے سیکیورٹی کا معاہدہ چل رہا ہے۔ امریکہ سعودیہ کو ہتھیار دیتا ہے، سعودیہ ڈالر میں تیل بیچتا ہے۔ اب اسی مثلث میں اسرائیل کا اضافہ ہو گیا ہے، جسے ابراہم معاہدے کے بعد کھل کر سامنے لایا گیا۔ اس کا مقصد عرب دنیا اور اسرائیل کو ایک بلاک میں لا کر ایران کے خلاف ایک دیوار کھڑی کرنا ہے۔دوسری طرف یمن۔ یمن کو دنیا نے جان بوجھ کر تنہا رکھا ہے۔ یمن میں حوثی تحریک کو صرف ایران کی محدود اخلاقی و سیاسی حمایت حاصل ہے، لیکن کوئی باقاعدہ فوجی اتحاد نہیں۔ سعودی اتحاد نے 2015 سے یمن پر جنگ مسلط کی، ہزاروں بم برسائے، ناکہ بندی کی۔ دنیا خاموش رہی کیونکہ یمن کے پاس نہ تیل کی وہ طاقت ہے جو سعودیہ کے پاس ہے، نہ لابی۔ اب سوال کہ یہ سب کون کروا رہا ہے؟ اس کے دو بڑے محرکات ہیں۔اسلحہ اور تیل کی معیشت، امریکہ کی معیشت کا بڑا ستون اسلحہ سازی ہے۔ جب تک مشرق وسطیٰ میں جنگ رہے گی، سعودیہ، امارات جیسے ملک اربوں ڈالر کے ہتھیار خریدتے رہیں گے۔ یمن کی جنگ سعودیہ کو 300 ارب ڈالر سے زائد کا اسلحہ خریدنے پر مجبور کر چکی ہے۔ امن ہو گیا تو یہ کاروبار ختم۔ گریٹر اسرائیل منصوبہ اسرائیل کی دیرینہ خواہش ہے کہ اس کے آس پاس کوئی مضبوط عرب ریاست نہ رہے۔ عراق تباہ، شام تباہ، لیبیا تباہ، اب یمن کی باری ہے۔ یمن باب المندب جیسی اہم سمندری گزرگاہ پر بیٹھا ہے جہاں سے دنیا کی 30 فیصد تجارت گزرتی ہے۔ اگر یمن خودمختار اور مضبوط ہو گیا تو اسرائیل اور امریکہ کا بحیرہ احمر پر کنٹرول ختم ہو جائے گا۔یمن کو سزا اس لیے دی جا رہی ہے کیونکہ اس نے سعودی امریکی غلبے کو چیلنج کیا اور فلسطین کے حق میں کھل کر اسرائیل کے خلاف بحیرہ احمر میں کارروائیاں کیں۔خلاصہ یہ کہ یہ لڑائی فرقہ واریت کی نہیں، وسائل، راستوں اور ہتھیاروں کے کاروبار کی ہے۔

مکہ معاہدہ نام کی کوئی ایسی دستاویز موجود نہیں جس کے تحت پاکستان کسی مسلم ملک پر حملہ کرنے کا پابند ہو! مسعود حسین جعفری

کیا پاکستان مکہ معاہدے کے تحت ایران پر حملہ کر سکتا ہے؟ حقیقت کیا ہے؟ سوشل میڈیا پر ان دنوں یہ افواہ گردش کر رہی ہے کہ کیا پاکستان “مکہ معاہدے” کے تحت ایران پر حملہ کر دے گا، اور کیا امریکہ و اسرائیل یہ چاہتے ہیں کہ تمام اسلامی ممالک مل کر ایران کو نشانہ بنائیں۔ اس دعوے میں حقیقت سے زیادہ پروپیگنڈہ ہے۔سب سے پہلے “مکہ معاہدے” کو سمجھنا ضروری ہے۔ دراصل مکہ معاہدہ نام کی کوئی ایسی دستاویز موجود نہیں جس کے تحت پاکستان کسی مسلم ملک پر حملہ کرنے کا پابند ہو۔ پاکستان، سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون ضرور ہے، خاص طور پر “اسلامی فوجی اتحاد” جو 2015 میں دہشت گردی کے خلاف بنا تھا۔ اس کا مقصد کسی اسلامی ملک کے خلاف جنگ نہیں بلکہ دہشت گردی کا خاتمہ تھا۔ ایران اس اتحاد کا حصہ نہیں، لیکن یہ اتحاد ایران کے خلاف جنگی اتحاد نہیں ہے۔دوسرا سوال، کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے؟ جواب بالکل نہیں۔ پاکستان خود شدید معاشی بحران، داخلی سیکیورٹی چیلنجز اور افغان بارڈر کشیدگی میں گھرا ہوا ہے۔ ایران پاکستان کا ہمسایہ ہے، دونوں کے درمیان 900 کلومیٹر سے زائد سرحد ہے، بلوچستان میں مشترکہ سیکیورٹی مفادات ہیں۔ پاکستان کبھی بھی ایران کے خلاف کسی جارحیت کا حصہ نہیں بن سکتا۔ ماضی میں بھی پاکستان نے یمن جنگ میں فوج بھیجنے سے انکار کر کے اپنی غیر جانبدار پالیسی واضح کی تھی۔جہاں تک اسرائیل اور امریکہ کی منصوبہ بندی کا تعلق ہے، امریکہ اور اسرائیل یقیناً چاہتے ہیں کہ ایران تنہا ہو جائے۔ وہ چاہتے ہیں کہ عرب ممالک اور ایران میں خلیج بڑھے تاکہ ایران کا اثر و رسوخ کم ہو۔ ابراہم معاہدے بھی اسی حکمت عملی کا حصہ تھے۔ لیکن یہ کہنا کہ تمام اسلامی ممالک کو اکٹھا کر کے ایران پر حملہ کرایا جائے گا، ایک سازشی نظریہ ہے۔مسلم دنیا خود تقسیم کا شکار ہے۔ کوئی بھی اسلامی ملک ایران پر حملے کے لیے تیار نہیں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول مسلم امہ میں اتحاد اور عدم مداخلت ہے۔ ایران پر حملہ پاکستان کے قومی مفاد کے سراسر خلاف ہو گا۔بحرحال سوشل میڈیا پر بڑی شدومد سے ایک جنگ چھڑ چکی ہے

اعزازات قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں، جب یہ سرمایہ غیر مستحق ہاتھوں میں چلا جائے تو قوم کا حوصلہ ٹوٹتا ہے، مسعود حسین جعفری

تمغہ امتیاز ریاست کا وہ اعزاز ہے جو قربانی، علم، فن اور وطن سے وفا کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جب یہ تمغہ میرٹ کے بجائے سفارش، تعلق اور سیاسی مفاد کی بنیاد پر بانٹا جائے تو یہ اعزاز نہیں رہتا بلکہ ایک مذاق بن جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں جو تقسیم ہوئی اس نے قوم کے زخموں پر نمک چھڑک دیا ہے۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ان عناصر کو تمغوں سے نوازا گیا جن کا ماضی داغدار رہا۔ وہ لوگ جن کے فیصلوں سے وطن عزیز کو معاشی، سیاسی اور سماجی نقصان پہنچا، جن کی پالیسیوں سے ادارے کمزور ہوئے اور عوام کا اعتماد گرا، آج سینے پر تمغے سجائے قوم کے سامنے کھڑے ہیں۔ جب تاریخ کے مجرموں کو ہیرو بنا دیا جائے تو نئی نسل کیا سبق سیکھے گی؟ یہ عمل نہ صرف تمغہ امتیاز کی ناقدری ہے بلکہ اس ادارے کی بے عزتی ہے جس کے نام پر یہ دیا جاتا ہے۔ اس منظر پر پوری قوم کا سر شرم سے جھک گیا۔اس سے بھی بڑا المیہ تعصبی رویہ ہے جو اس تقریب میں عیاں ہوا۔ دیگر صوبوں کی خدمات، قربانیاں اور صلاحیتیں یکسر نظر انداز کر دی گئیں۔ سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان سے ایسے نام تھے جو اس اعزاز کے اصل حقدار تھے، مگر فہرست میں انہیں جگہ نہ مل سکی۔ اس کے برعکس وفاق اور پنجاب کی بناوٹی قیادت کو خصوصی طور پر مدعو کر کے ایک ایک ایسا فیصلہ سامنے آیا جس نے فاصلوں کو مزید گہرا کر دیا اور عوام کو مایوس کر دیا۔فیلڈ مارشل کے عہدے سے توقع تھی کہ وہ قوم کو جوڑنے والا، حوصلہ دینے والا پیغام دیں گے۔ قوم کو لگا تھا کہ شاید یہ موقع اتحاد، مساوات اور میرٹ کے فروغ کے لیے استعمال ہوگا۔ لیکن ہوا اس کے برعکس۔ ایک ایسا فیصلہ سامنے آیا جس نے فاصلوں کو مزید گہرا کر دیا اور عوام کو مایوس کر دیا۔ اعزازات قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ جب یہ سرمایہ غیر مستحق ہاتھوں میں چلا جائے تو قوم کا حوصلہ ٹوٹتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آئندہ تمغہ امتیاز کی تقسیم شفاف، غیر سیاسی اور تمام صوبوں کی نمائندگی کی بنیاد پر ہو، تاکہ یہ اعزاز اپنی کھوئی ہوئی عزت واپس پا سکے۔

ایم کیو ایم میں دراڑیں گہری، ووٹ بینک خطرے میں،بہادر آباد کا فیصلہ یا لندن کا بیانیہ! مسعود حسین جعفری

ایم کیو ایم پاکستان برسوں سے اندرونی اختلافات کا شکار رہی ہے۔ اصل چپقلش بنیادی طور پر دو دھاروں کے درمیان ہے: ایک طرف “بانی ایم کیو ایم” کے بیانیے سے جڑے کارکن، دوسری طرف بہادر آباد قیادت جو ریاستی اداروں اور موجودہ سیاسی نظام کے ساتھ بقا کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ حالیہ دنوں میں یہ اختلافات پھر سر اٹھا رہے ہیں کیونکہ کراچی کی بلدیاتی نمائندگی، سیٹ ایڈجسٹمنٹ اور پارٹی کے اندر فیصلہ سازی پر کسی ایک مرکز کا کنٹرول نہیں رہا۔سوال یہ ہے کہ اب آگے کیا ہو سکتا ہے؟ کیا مزید دھڑے بندی کا جواز بنایا جائے گا؟ اگر قیادت کسی متفقہ بیانیے پر نہیں آتی تو کارکنوں کی وفاداریاں تقسیم ہوتی رہیں گی۔ بہادر آباد گروپ عملی سیاست میں مصروف ہے، جبکہ لندن سے بیانیہ اب بھی جذباتی ووٹ بینک کو متحرک کرتا ہے۔ دونوں کو ایک ساتھ لے کر چلنا مشکل ہو گیا ہے۔پیپلزپارٹی، جے یو آئی اور نئی مقامی جماعتیں کراچی میں ایم کیو ایم کا ووٹ بینک کھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اندرونی لڑائی سے پارٹی کا انتخابی اثر کم ہو گا، خاص کر نوجوان ووٹر متبادل تلاش کریں گے۔اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی اتحادی دونوں چاہتے ہیں کہ ایم کیو ایم ایک پلیٹ فارم پر رہے تاکہ کراچی میں استحکام رہے۔ اس لیے باہر سے “مفاہمت” کا پریشر بڑھے گا، مگر اندرونی اعتماد کی کمی رکاوٹ بنے گی۔اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بات بالکل واضح ہوجاتی ہے۔ایم کیو ایم کی اصل طاقت کراچی کے مہاجر طبقے کی نمائندگی تھی۔ جب تک پارٹی اپنے بیانیے کو نئی نسل کے مسائل روزگار، پانی، ٹرانسپورٹ سے جوڑ کر متحد نہیں کرتی، قیادت کی چپقلش صرف اندرونی بیانات تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ووٹ اور اثر دونوں گنوا دے گی۔ بقا کا راستہ یا تو مکمل مفاہمت ہے یا پھر ایک نیا، نوجوان قیادتی ڈھانچہ جو ماضی کے بوجھ سے آزاد ہو۔

محسن نقوی کا بیان،حکومت کے لیے ریڈ الرٹ،ملک میں ہلچل، “ہم سے نہیں سنبھل رہا” مسعود حسین جعفری

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان کے بعد ملک بھر میں سیاسی اور انتظامی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ ان کے بیان کو موجودہ حکمرانی کے بیانیے کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق نقوی نے اپنے بیان میں موجودہ حکومت کی کارکردگی، عوامی مسائل اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار پر کھل کر بات کی۔ بیان سامنے آتے ہی اسلام آباد سے لے کر کراچی تک سیاسی گلیاروں میں فوری مشاورتیں شروع ہو گئیں۔ ملٹری اسٹبلشمنٹ کے اندر بھی اس بیان کو سنجیدگی سے لیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سخت الفاظ کسی ذمہ دار وفاقی وزیر سے سامنے آنے کے بعد اداروں میں گھبراہٹ کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے، کیونکہ اس سے ریاست کے اندر پالیسی ہم آہنگی پر سوالات اٹھتے ہیں۔دوسری طرف ن لیگ اور زرداری لیگ کے رہنماؤں میں شدید بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔ دونوں جماعتوں کے ترجمان میڈیا پر ایک دوسرے کا دفاع کرتے نظر آئے، لیکن اندرون خانہ اجلاسوں میں حکومت کے مستقبل اور اتحادی ڈھانچے پر کھلی بحث ہوئی۔ پارٹی کارکن بھی سوشل میڈیا پر سوال کر رہے ہیں کہ مہنگائی، بے روزگاری اور امن و امان کی صورتحال کے بعد اب حکومت کے پاس عوام کو جواب دینے کے لیے کیا بچا ہے۔عوام کا ردعمل سب سے سخت ہے۔ مختلف شہروں میں عام شہریوں، وکلا، تاجروں اور طلبہ کی گفتگو میں یہی بات سنائی دے رہی ہے کہ موجودہ سیٹ اپ عوامی مینڈیٹ سے محروم ہے اور اب حکومت میں رہنے کا کوئی اخلاقی یا سیاسی جواز باقی نہیں رہا۔ لوگ سڑکوں پر مہنگائی اور لوڈشیڈنگ کا رونا رو رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ جب حکومت کے اپنے وزراء ہی مایوسی کا اظہار کریں تو پھر تبدیلی ناگزیر ہو جاتی ہے۔مجموعی طور پر محسن نقوی کے بیان نے اس بحث کو ہوا دے دی ہے کہ ملک کس سمت جا رہا ہے، اور اگلے چند دن سیاسی طور پر فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

جب ووٹ نہ ملا تو گولی چلائی،مکروہ چہرے بے نقاب، کشمیریوں کا فیصلہ! مسعود حسین جعفری

ن لیگ اور زرداری لیگ کا اصل چہرہ اب کشمیریوں کے سامنے کھل چکا ہے۔ برسوں تک یہ اقتدار پرست جماعتیں کشمیر کے نام پر تقریں کرتی رہیں، قراردادوں کے وعدے کرتی رہیں، لیکن عملی طور پر کشمیر کو بھی سندھ، پنجاب اور بلوچستان کی طرح ایک جاگیر سمجھ کر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ ان کا مقصد کشمیریوں کے حقوق نہیں تھے، مقصد صرف اسلام آباد اور لندن میں بیٹھ کر کرسیاں بچانا تھا۔کشمیری قوم نے بہت صبر کیا۔ انہوں نے ان کے جھوٹے بیانیے، فوٹو سیشن اور خالی نعرے دیکھے۔ جب کشمیریوں نے سوال کیا کہ ہمارے زخموں کا مداوا کب ہوگا، ہمارے شہیدوں کے قاتل کب پکڑے جائیں گے، ہمارے بچوں کے مستقبل کا کیا ہوگا تو ان اقتدار پرستوں کے پاس جواب نہیں تھا۔ کشمیریوں نے جب انکار کیا، جب مسترد کر دیا، تو ان کے اصل مکروہ چہرے سامنے آ گئے۔مکالمے کی بجائے دھمکی، سیاست کی بجائے طاقت اور دلیل کی بجائے گولی کو ہتھیار بنایا گیا۔ جن لوگوں نے جمہوریت کا لیکچر دیا تھا وہی آج کشمیریوں پر بندوق تان رہے ہیں۔ جنہوں نے خود کو عوام کا خادم کہا تھا وہی آج کشمیری نوجوانوں کو شہید کر رہے ہیں۔لیکن کشمیری ثابت قدم ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ کشمیر کی سرزمین نے ہمیشہ ظالم کو مسترد کیا ہے۔ آج بھی کشمیری یہ واضح کر چکے ہیں کہ وہ کسی کی غلامی قبول نہیں کریں گے۔ ۔ لیگ اور زرداری لیگ چاہے جتنا زور لگا لیں، کشمیریوں کے عزم کو بندوق سے نہیں دبایا جا سکتا۔ خون کے دھبے ان کے دامن پر ہیں اور کشمیری اب ان کا پول کھول کر رہیں گے۔

کشمیری عوام لاہور اور لاڑکانہ کو کسی صورت قبول کرنے کو تیار نہیں! مسعود حسین جعفری

آزاد کشمیر میں حالیہ دنوں جو کچھ ہوا اس نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ ن لیگ اور زرداری لیگ اپنی اقتدار کی بھوک میں کسی حد تک جانے سے گریز نہیں کرتیں۔ کشمیر کے عوام دہائیوں سے حق خودارادیت، مہنگائی، آٹے اور بجلی کے بلوں میں ریلیف کے لیے پرامن احتجاج کر رہے تھے۔ لیکن ان دونوں جماعتوں نے اپنے ناپاک ہتھکنڈوں سے اس پرامن تحریک کو سبوتاژ کرنے کی کوش کی۔ن لیگ نے ہمیشہ اسلام آباد سے بیٹھ کر کشمیر کو صرف ووٹ بینک سمجھا۔ جب عوام سڑکوں پر نکلے تو اس کی مقامی قیادت نے مذاکرات کے بجائے طاقت کا استعمال بہتر سمجھا۔ پولیس اور انتظامیہ کو آگے کر کے نوجوانوں پر لاٹھی چارج کروایا گیا، گرفتاریاں کی گئیں، اور میڈیا پر پابندیاں لگا کر اصل صورتحال چھپانے کی کوش ہوئی۔ دوسری طرف زرداری لیگ نے بھی ماضی کی طرح موقع پرستی کا راستہ اپنایا۔ ایک طرف بیانات میں کشمیریوں سے ہمدردی کے دعوے، اور دوسری طرف اقتدار کی خاطر اسی مکاری چالبازی بندوق کے ذریعے عوامی تحریک کے خلاف بیانیہ بنایا۔ دونوں جماعتوں نے کشمیر کے اندر اپنی اپنی گروپ بندیوں کو فنڈز اور سرکاری مشینری دی تاکہ اصل عوامی نمائندوں کی آواز دبائی جا سکے۔ اس ٹکراؤ میں کئی بے گناہ کشمیری زخمی ہوئے اور کچھ جانوں کا ضیاع بھی ہوا۔ یہ خون دونوں جماعتوں کی اقتدار کی سیاست کی بھینٹ چڑھا۔سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ طاقتوروں نے ان دونوں کو کھلی سپورٹ دی۔ جس مقصد کے لیے کشمیر بنا تھا، یعنی عوام کی مرضی، اسے پس پشت ڈال کر اقتدار کی کرسی بچانے کے لیے ان جماعتوں کو شیلٹر فراہم کیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج کشمیری یہ سوال کر رہے ہیں کہ اگر اسلام آباد لاہور لاڑکانہ کی جماعتیں ہی ہمارے خون سے ہولی کھیلیں گی تو پھر فرق کیا رہ گیا؟ کشمیر کے لوگ اب شعور رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جب تک ن لیگ اور زرداری لیگ جیسی روایتی جماعتیں کشمیر کو صرف سیٹوں اور وزارتوں کی منڈی سمجھیں گی، اور جب تک طاقتوروں کی طرف سے ان کو بیساکھیاں ملتی رہے گی، تب تک کشمیریوں کے زخم نہیں بھریں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ فیصلہ کشمیری خود کریں، نہ کہ اسلام آباد کی کسی ڈیل کے تحت۔

عرب ممالک میں اسرائیلی اڈوں پر حملے، پاکستانی کرپٹ عناصر میں بے چینی! مسعود حسین جعفری

ایران کے عرب ممالک میں قائم اسرائیلی اڈوں پر حملے مشرقِ وسطیٰ کی طاقت کا توازن بدل رہے ہیں۔ اس سے خطے میں نئی صف بندی شروع ہو گئی ہے اور ہر ملک کو اپنا موقف واضح کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان کے کچھ کرپٹ عناصر اس لیے بے چین ہیں کیونکہ ان کے مفادات بیرونی طاقتوں اور خلیجی سرمایہ سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان لوگوں نے ماضی میں دوغلی پالیسی اپنائی: ایک طرف عوام کے سامنے مزاحمت اور خودمختاری کی بات، دوسری طرف پردے کے پیچھے ایسے معاہدے اور تعلقات جو قومی مفاد سے زیادہ ذاتی فائدے کے لیے تھے۔ جب ایران کھل کر اسرائیلی موجودگی کو نشانہ بناتا ہے تو یہ دوغلا بیانیہ بے نقاب ہو جاتا ہے۔ اس بے نقابی سے دو نقصان ہوتے ہیں۔ پہلا، ان کے بیرونی سرپرست ناراض ہوتے ہیں اور فنڈنگ یا ویزے بند ہونے کا خوف بڑھ جاتا ہے۔ دوسرا، عوام کو سچ نظر آتا ہے اور سوشل میڈیا پر سوال اٹھتے ہیں کہ پالیسی کیا ہے۔ اسی تضاد کی وجہ سے ملک و قوم میں نفرت پھیل رہی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ قیادت اصولوں پر نہیں، مفادات پر فیصلے کر رہی ہے۔ جب عوام کو لگے کہ حکمران دباؤ میں آ کر قوم کے جذبات بیچ رہے ہیں تو اعتماد ٹوٹتا ہے اور مایوسی نفرت میں بدل جاتی ہے۔

کشمیریوں نے واضح کر دیا وہ زرداری لیگ و سہولت کاروں کی جبری حکمرانی قبول نہیں کریں گے، مسعود حسین جعفری

آزاد کشمیر کے عوام آج ایک بار پھر اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہیں۔ کشمیری پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے واضح کر دیا ہے کہ وہ بلاول بھٹو زرداری کی جبری سیاست کو کسی صورت تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ ذرائع کے مطابق بلاول اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر کشمیر میں اپنی زبردستی کی ڈکٹیٹرشپ مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ منصوبہ یہ ہے کہ مقامی جماعتوں کو دیوار سے لگا کر فیصلے اسلام آباد سے مسلط کیے جائیں، اور کشمیریوں کی نمائندہ آواز کو دبایا جائے۔ کشمیریوں کا موقف ہے کہ ان کے وسائل، خودمختاری اور سیاسی فیصلوں پر پہلے ہی سمجھوتے کیے جا چکے ہیں۔ اب ایک نئی سازش کے تحت کشمیری پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو حاشیے پر دھکیل کر ایک ہی جماعت کی اجارہ داری قائم کی جا رہی ہے تاکہ عوامی مزاحمت کو کچلا جا سکے۔عوام سوال کر رہے ہیں کہ جب کشمیر کے اندر جمہوری جماعتیں موجود ہیں تو باہر سے مسلط کردہ قیادت کی کیا ضرورت ہے؟ بلاول پر الزام ہے کہ وہ کشمیریوں کے بنیادی حقوق غضب کرنے اور اسٹیبلشمنٹ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی سازش میں ملوث ہیں۔ کشمیری رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ کسی ڈکٹیٹ کیے گئے فیصلے کو نہیں مانیں گے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ کشمیر کا مستقبل کشمیری خود طے کریں، نہ کہ بیرونی دباؤ یا ذاتی اقتدار کی خواہش پر۔