I'm Masood Hussain Jaffri professional journalist belong to Pakistan Karachi. I'm author, poet, writer because my native language is Urdu so naturally I love my native language and mostly used in writing in newspaper magazine social media etc.
بین الاقوامی یونیورسل ڈیکلریشن اور دستور پاکستان میں ہر شخص کو جان ومال عزت وآبرو اور معاشرتی عدل وانصاف میں یکساں حق دیا گیا ہے اور واضح کیا گیا ہے بلکہ لازم کیا گیا ہے کہ قانون سب کے لیے ہو سب کو تحفظ فراہم کرے بلاامتیاز و تفریق رنگ و نسل علاقہ و زبان امیر و غریب قوی و کمزور حاکم و محکوم سوسائٹی میں نافذ العمل ہو تاکہ ہر شخص اپنے آپ کو محفوظ سمجھے۔
لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں عدل وانصاف کا فقدان ہے۔ دستور و قانون میں عدم وانصاف کو تحفظ فراہم ہے مگر عملاً سب اس کے برعکس ہے۔حاکم قانون سے مبرا و بالا تصور کیے جاتے ہیں۔ با اثر افراد خواہ سیاسی عناصر ہوں کہ مذہبی لسانی تنظیموں کے عہدیداران ہوں علاقائی تنظیموں کے اہلکار ہوں جاگیر دار ہوں کہ سردار پولیس ان لوگوں پر ہاتھ نہیں ڈال سکتی بلکہ اکثر و بیشتر پولیس ممبران ان کے آلہ کار بن جاتے ہیں اور جائز وناجائز تحفظ فراہم کر کے جرائم کی پردہ پوشی کرتے ہیں اور ان کے اشاروں پر چلتے ہیں جن صاحبان بھی ان طاقتوں سے خوفزدہ رہتے ہیں موجودہ مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ کس طرح پنجاب میں ایک نام نہاد جرائم پیشہ خاندان نے جج صاحبان اور مقتدر حلقوں کو بلیک میل کر کے رکھا ہوا ہے۔
Open denial or confrontation of Articles 4, 10, 12, 13, 14 of the Constitution of Pakistan.
Under the Constitution of Pakistan, the right to justice of every person has been protected and it has been made clear that there will be justice in the society and its implementation will be equal for all without any discrimination so that law and order and rights can be protected in the society. Article 4 of the Constitution states that it is the natural right of every person to be protected by the law and to be treated in accordance with the law and that no action shall be taken that would harm his or her life, property, honor, liberty or reputation. ۔ In addition, no person can be prevented from doing something that is not legally forbidden and cannot be forced to do something that is legally prohibited. Article 10 stipulates that no person may be detained unless he has been given a reason for his arrest and is entitled to a lawyer of his choice in his defense.
In addition, the person arrested will be produced before a magistrate within 24 hours and will not be detained unless such legal order has been obtained from a relevant court. Article 12 stipulates that if a person commits an act which has not been declared a crime at that time, he cannot be punished or given more than the prescribed punishment at that time. Article 13 provides protection from the death penalty. That is, a person cannot be given more than one sentence for the same crime. Article 14 makes it clear that a person cannot be tortured for a statement or confession, nor can he be forced to testify against himself.
دستور پاکستان کے تحت ہر شخص کے حق انصاف کو تحفظ دیا گیا ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ معاشرے میں عدل وانصاف ہوگا جس کا نفاذ بلا امتیاز و تفریق ہر ایک کے لیے یکساں ہوگا تاکہ معاشرے میں امن وامان اور حقوق کا تحفظ ہو سکے۔
دستور کی دفعہ 4 میں کہا گیا ہے کہ ہر شخص کا یہ فطری حق ہے کہ اسے قانون کا تحفظ اور اس کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک ہو اور کوئی ایسا ایکشن نہیں ہوگا جو اس کی جان و مال عزت و آزادی اور Reputation کو نقصان دے۔ علاؤ ازیں کسی بھی شخص کو کسی ایسے کام سے بھی نہیں روکا جا سکتا جو قانونی ہو ممنوع نہ ہو اور کسی ایسے کام کے لیے مجبور نہیں کیا جاسکتا جو قانونی طور پر ممنوع ہو۔
آرٹیکل 10 کے تحت یہ لازم قرار دیا گیا ہے کہ کسی بھی شخص کو حراست میں نہیں رکھا جاسکتا جب تک اسے اسکی گرفتاری کی وجہ نہ بتا دی گئی ہو اور اسے حق دیا گیا ہے کہ وہ اپنے دفاع میں اپنی مرضی کا وکیل کرے۔
مزید برآں جس شخص کو گرفتار کیا جائے گا 24 گھنٹوں کے اندر کسی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا اور اسے حراست میں نہیں رکھا جائے گا جب تک کہ کسی متعلقہ عدالت سے ایسا قانونی حکم نہ حاصل کر لیا گیا ہو۔
آرٹیکل 12 کے تحت یہ لازم کیا گیا ہے کہ کسی شخص نے جب کسی فعل کا ارتکاب کیا ہو اس وقت وہ فعل جرم نہ قرار دیا گیا ہو تو اسے سزا نہیں دی جاسکتی اور نہ ہی اس وقت مقرر شدہ سزا سے زیادہ دی جاسکتی ہے ۔
آرٹیکل 13 میں دیدی سزا سے تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ یعنی کسی شخص کو ایک ہی جرم میں ایک سے زائد سزائیں نہیں دی جاسکتیں۔
آرٹیکل 14 میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی شخص کو کسی بیان یا اقبال جرم کے لیے تشدد ٹارچر نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اسے اسکے اپنے خلاف گواہی کے لیے مجبور کیا جاسکتا ہے۔
عرض پاک پر بڑی بے دردی بے رحمی اور بے باکی سے شب خون مارا گیا اور ایسے جرائم پیشہ عناصر کو مسلط کیا گیا جو سنگین جرائم میں ملوث تھے اس کا بھیانک نتیجہ یہ نکلا کہ سیاسی بحران معاشی بحران کے ساتھ ساتھ متعدد ایسے بحران جن کا خاتمہ تقریباً ہو چکا تھا ایک بار پھر سر اٹھا کر عوام کو ڈسنے لگے۔ نااہلی یہ کہ نہ تو منہگائی پر قابو پایا جاسکا اور نہ ہی ڈالر قابو میں آ سکا پیٹرولیم مصنوعات کی تو بات ہی نہ کریں وہ تو مفتاح اسمعیل کے بس میں تو کیا ان کے بڑے بھی آجائیں تو ہاتھ ملنے کے سواء کچھ نہیں کرسکتے ۔ رجیم چینج سے پہلے بڑی بڑی باتیں کرنے والے اتنے ڈھیٹ ہیں کہ آج انہیں معمولی سی شرم بھی محسوس نہیں ہو رہی بالخصوص وہ افراد جو مہنگائی کے خلاف لانگ مارچ کر رہے تھے آج ان کے منہ سے الزامات کے سواء ایک لفظ نہیں نکل رہا یعنی منافقت کی زندہ مثالیں آج بھی نہ جانے کس منہ سے آل اولاد سمیت سامنے ہیں اور اس پاک دھرتی کی چھاتی ہر مونگ دل رہی ہیں۔
شہر قائد کے ساتھ ظالمانہ سلوک کسی سے ڈھکا چھپا نہیں یہاں ہمیشہ سے ہی سیاسی چھتری تلے مافیاز کی اجارہ داری رہی ہے جسے شہر قائد میں بسنے والے مجبوراً برداشت کرتے آئے ہیں۔
تحفظ کی بات کی جائے تو انتظامیہ کی پول کھلتی ہے اگر بنیادی ضروریات کی بات کی جائے جس کی مد میں مٹھی بھر بھر کر رقمیں ادا کی جاتی ہیں تو وہاں بھی ظلم و جبر لوٹ مار کے سوا کچھ دیکھائی نہیں دیتا۔
پانی اور بجلی کی فراہمی کی مد میں اتنا ٹیکس وصول کیا جاتا ہے اتنا پورے ملک سے اکھٹا نہیں ہوتا رشوت اور کرپشن اس کے علاؤہ ہے۔
کراچی واٹر بورڈ ہر ماہ پابندی سے اضافی واجبات وصول کرنے میں پیش پیش ہے لیکن پانی کہاں فروخت کیا جارہا ہے یہ صارفین نہیں جانتے لیکن واجبات ادا کرنے والے پانی سے محروم کر دیے گئے ہیں۔
بجلی فراہم کرنے والی کے۔الیکٹرک جس نے کرپشن لوٹ مار چھینا جھپٹی بھتہ خوری میں سیاستدانوں کے ریکارڈ توڑ ڈالے اب تک ریاست کے اندر ریاست بنا کر بادشاہت کر رہی ہے۔
رجیم چینج کے بعد کے۔الیکٹرک کا اس قدر من مانی کرنا ظاہر کرتا ہے کہ کسی خاص مشن پر عمل پیرا ہے۔
شہر قائد میں بسنے والے حیران ہیں کہ کے۔الیکٹرک کو ختم کر کے اس کی ٹاپ منجمنٹ کو گرفتار کیوں نہ کیا گیا؟ ان پر اتنے سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے باوجود غداری کے مقدمات کیوں نہ بنائے گئے ؟
ذرا سی تحقیقات سے معلوم ہو جائے گا کہ رجیم چینج کے بعد مال و زر ادھر سے ادھر منتقل ہوا ہے۔ اگر شہر قائد کو بچانا ہے تو کے۔الیکٹرک جیسی مافیا کو جڑ سے ختم کرنا ہوگا
وفاق اور سندھ حکومت کی مسلسل نااہلی ناانصافی اور ناکامی کا ناسور بری طرح پھیل چکا ہے۔
شہر قائد پچھلے 14 برس سے مصیبتوں میں گھرا تباہ شدہ شہر بنادیا گیا۔ شہر قائد میں دہشتگردی سندھ حکومت کی کوتاہی و نااہلی کا کھلا ثبوت ہے۔ پچھلے 14 برس سے سندھ میں خاندانی آمریت ایک بھیانک لاعلاج موذی مرض کی طرح پھیل چکی ہے جس کا سد باب بظاہر دیکھائی نہیں دیتا یہ سیاسی آمریت اس زہر کی علامت ہے جو تباہی کے سوا کچھ فراہم کرنے سے قاصر و عاری ہے۔
نااہلی کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوگا کہ اتنی طویل مدت تک قابض رہنے کے باوجود عوام بنیادی اشیاء سے محروم کر دیے گئے ناکام ترین افراد جو قانون کو مختلف جرائم میں مطلوب ہیں ان کے جرائم کی پردہ پوشی کرتے ہوئے انہیں وزارتیں فراہم کی جارہی ہیں۔
اگر سوال کیا جائے کہ سندھ حکومت کے ماتحت کوئ بھی ادارہ اپنی کارکردگی پیش کرے تو صد فیصد قوی امید کی جاسکتی ہے کہ زرداری لیگ کے نمک خوار بغلیں جھانکنے کے سوا کچھ نہیں کر سکیں گے یا بات کرنے سے گریز کریں گے کیوں کہ انہیں معلوم ہے کہ صفر کارکردگی پر بھی ان کے آقا انہیں نوازتے رہیں گے۔
شہر قائد میں اس وقت مافیاز سب سے زیادہ طاقت میں دکھائی دیتی ہیں جس گلی جس محلے جس سڑک پر جائیں قبضہ ہی قبضہ نظر آتا ہے انتظامیہ کس مقصد کے لیے ہے اور اس انتظامیہ کے اغراض و مقاصد کیا ہیں اس کا علم خود اہلکاروں کو بھی نہیں۔
شہر قائد میں بسنے والے کن سخت ترین دشواریوں کا شکار ہیں سندھ حکومت اور اس کے ماتحت انتظامیہ ایک طویل مدت کے بعد بھی بالکل ناواقف ہیں۔ عوام اب اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ شہر قائد کو اگر بنانا ہے تو سیاسی خاندانی آمریت و ملوکیت سے اس شہر کو میلوں دور رکھنا ہوگا۔
یونیورسل ڈیکلریشن کے آرٹیکل (1) ایک فطری و آفاقی اصول دیا گیا ہے کہ تمام انسان آزاد پیدا ہوئے ہیں اور وہ حقوق و وقار میں یکساں ہیں۔ ڈیکلریشن کے آرٹیکل (6) میں واضح کیا گیا ہے کہ ہر شخص کا حق ہے کہ قانون ہر مقام پر اسکی شخصیت کو تسلیم کرے. جبکہ آرٹیکل (7) میں کہا گیا کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور بلا تفریق و امتیاز ہر ایک کو قانون کا تحفظ حاصل ہے۔ آرٹیکل (9) کے تحت کسی شخص کو محض حاکم کی مرضی پر گرفتار نظر بند یا جلاوطن نہیں کیا جاسکتا ۔ آرٹیکل (10) میں واضح کیا گیا ہے کہ ہر شخص کو حق ہے کہ اس کے ساتھ انصاف ہو اور اس کا حق ہے کہ اس کے خلاف عائد کردہ جرم کے بارے میں مقدمے کی سماعت آزاد و غیر جانبدار عدالت کے کھلے اجلاس میں منصفانہ طریقے سے ہو۔ آرٹیکل (11) میں ہر شخص کو معصوم تصور کیا گیا ہے جب تک کہ اس پر عائد الزام کی کھلی و جانبدار عدالت میں ثابت نہ ہو جائے اور اسے اپنے دفاع کا پورا موقع دیا گیا ہو۔ آرٹیکل (5) کے تحت کسی شخص کو جسمانی اذیت یا ظالمانہ غیر انسانی یا ذلت آمیز سلوک یا غیر قانونی سزا نہیں دی جاسکتی ۔
جس ملک میں خاندانی آمریت و ملوکیت قابض ہو چکی ہو تو یہ سب کاغذی اور بناوٹی باتیں تصور کی جائیں گی۔ جہاں چند خاندانی ڈکٹیٹر اپنے خاندان کے تحفظ کے لیے ملک و قوم کو برباد کرسکتا ہو اسے کسی قاعدے قانون آئین آرٹیکلز کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔
Actually, if we talk about the religious revolution so very powerful important personalities here. The period from policy of Aristotle is called the ancient period of history of philosophy in which the scholars continue to present their views on Man and the universe and the creator of the universe according to their own intellect.
The ideas of these philosophers, especially Plato and Aristotle, continue to guide human though to this day. We may differ from many of the ideas of these philosophers, but they promoted human thought, thought their knowledge, thought and research.
The time after Aristotle is the time of Lord Jesus who introduced the philosophy of life along with the philosophy of monotheism.
The advent of Lord Jesus brought about a tremendous change in human thought and Lord Jesus thought on the creation of the human universe, it’s creator and it’s purpose in life gave a new directions to human thought and revolutionized religious life.
Lord Jesus raises his voice against oppression in human society, Christianity began after Lord Jesus Christ, which had a profound effect not only on the common man but also on philosophers.
You must be logged in to post a comment.