
Something wrong

<a href="https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-7924931983033252">https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-7924931983033252</a>

Extremes in Religion and Politics
Prejudice is on the rise in human society. It contains various elements. The extent to which things have deteriorated in Pakistani society in the current situation and who can be held responsible is a matter of debate.
Actually, prejudice and Discrimination or pursuit of privileged status are a menace to human society and humanity.
There is no religion in the world that allows such supertitions.
In religion of Islam, however, these supertitions have been viewed with the utmost hatred and strongly uploaded.
But unfortunately, in the Islamic world, new methods are being used to maintain the status quo.
Pakistan is also full of such people. This can be attributed to poor education training ignoranc, some effects include home training. Because in human society what adults want to teach a child they themselves don’t follow these principles. Attempts were made to misinterpret Islamic teaching, which made matters worse and added an element of extremism.
My question is, where is salutation?

ہم نے پہلے دستور پاکستان کے چند ایسے آرٹیکیلز تحریر کیے جو انسانی حقوق سے متعلق بنائے گئے مگر افسوس اس بات پر کہ ہر با اثر شخصیت ان قوانین سے انحراف کرتی نظر آتی ہیں باالخصوص ایسی خاندانی سیاسی جماعتیں جو عوام کو آئین کے درس دیتی نہیں تھکتی ان میں آئین قانون و دستور پر عمل کا کھلا فقدان پایا جاتا ہے۔ ایک جمہوری مملکت میں خاندانی سیاست کو آمریت اور ملوکیت سمجھا جاتا ہے مگر عرض پاک میں سیاست خاندانی آمریت سے شروع کی جاتی ہے جو نسل در نسل ملوکیت کا روپ دھار کر انسانی حقوق غضب کر لیتی ہے۔
امریکہ میں آسمانی حقوق کی پاسداری کے لیے ایسے قوانین ترتیب دیے گئے ہیں جس کی بدولت انسانی حیات کو مکمل تحفظ فراہم ہوتا ہے جیسا کہ
امریکی آئین لوگوں کو وسیع پیمانے پر حقوق کی ضمانت فراہم کرتا ہے اور اس قانون پر سختی اور بلا روک ٹوک عمل کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب کانگریس پر پابندی عائد کی جاتی ہے کہ کانگریس کوئ قانون نہیں بنائے گی جس کی رو سے کسی مذہب کا قیام عمل میں آئے یا کسی مذہب پر عمل پیرا ہونے سے روکا جائے۔
تقریر اور پریس کی مکمل ازادی۔ آزادی اجتماع اور حکومت سے شکایت دور کرنے کی ضمانت آئین میں موجود ہے۔
کسی بھی شخص کو مقدمہ چلائے بغیر غداری کے الزام میں پھانسی کی سزا نہیں دی جاسکتی ۔کسی بھی شخص کو خودمختاری سے نہ تو قید کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی مبحوس کیا جاسکتا ہے۔ بغاوت یا جنگ کے علاؤہ قیدی کو عدالت میں پیش کرنے کی درخواست کو رد نہیں کیا جاسکتا ہر ملزم مطالبہ کرسکتا ہے کہ اس پر آزادانہ
مقدمہ چلایا جائے۔
وہ دفاع کے لیے وکیل مقرر کرسکتا ہے اور عدالت شہادتیں قلمبند کرسکتیں ہیں۔ کسی شخثسے بہت زیادہ ضمانت کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا ۔ بغیر قانونی کارروائی کے کسی شخص کو زندگی، آزادی اور جائیداد سے محروم نہیں رکھا جاسکتا ۔
کسی شخص کو ذات، رنگ، جنس یا گزشتہ غلامی کی وجہ سے ووٹ دینے سے محروم نہیں کیا جاسکتا ۔
آمد و رفت اور پیشہ انتخاب کی مکمل آزادی ہے۔ قانون ہر شخص کی مساوی حفاظت کرتا ہے۔ کسی بھی شخص کی جائیداد بغیر مناسب معاوضہ دیئے حکومت نہیں کے سکتی۔ لوگوں کو ہتھیار رکھنے اور کے کر چلنے کی اجازت ہے۔
کسی بھی ریاست کے لیے انسانی حقوق کو ترجیحات میں شامل کیا جاتا ہے مگر افسوس کہ عرض پاک میں انسانی حقوق کی پامالی اس طرح کی جاتی ہے جیسے انسانی حقوق اور انسانیت کا تعلق ہمارے ملک کے لیے ہے ہی نہیں اور اگر ہے بھی تو چند ایسے افراد جو ملک و قوم پر مسلط کیے گئے ہیں صرف ان کے لیے تمام تر وسائل ہیں جس سے وہ قوم کی حق تلفی کرتے ہوئے اپنے لیے مخصوص کر لیں۔

Under Article 9 of the Constitution, every citizen has the birthright of life and liberty which is also recognized by the Constitution and the government has the responsibility to make arrangements for the betterment of the lives of the citizens. There are those who are busy day and night to protect the lives and property of the citizens. Under Article 24 of the Constitution, no citizen can be deprived of his legal property. Every citizen in Pakistan has the right to buy, sell or own.

The government fully protects this right, but the property must be acquired legally. In the case of property, the 1973 constitution states that if the government wishes for a national need, it can remove an individual’s property from its possession and make it national. Can own It is imperative that the nationalized property be properly compensated to the citizen. No citizen can be deprived of his property without the formal permission of the law.
Under Article 25 of the Constitution, all citizens are equal in the eyes of the law. The Constitution of Pakistan considers all citizens equal and does not discriminate in any way. No one is considered superior to another because of his religion, nationality, race, property or any other reason
Can go All citizens can enjoy equal political and civil rights in the country. The constitution does not recognize caste discrimination in society. The concept of equality is present in every aspect of political, religious, economic and social purposes. However, there are separate rules for women and children and different rules have been laid down for their protection, such as their working hours and the nature of their work.


آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت ہر شہری کو زندگی اور آزادی کا پیدائشی حق حاصل ہے جسے آئین بھی تسلیم کرتا ہے اور حکومت پر زمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ شہریوں کی بہتر زندثکے لیے انتظامات کرے اس عرض سے پولیس اور دیگر دوسرے محکمے موجود ہوتے ہیں جو شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے رات دن مصروف رہتے

ہیں۔
آئین کا آرٹیکل 24 کے تحت کسی شہری کو اس کی قانونی جائیداد سے محروم نہیں کیا جاسکتا ۔ پاکستان میں ہر شہری کو خریدنے فروخت کرنے یا اپنے پاس رکھنے کا حق ہے۔
حکومت اس حق کی پوری طرح حفاظت کرتی ہے البتہ جائیداد کا قانونی انداز میں حاصل کیا جانا ضروری ہے جائیداد کے سلسلے میں 1973 کے آئین میں درج ہے کہ اگر حکومت قومی ضرورت کے لیے چاہے وہ کسی فرد کی جائیداد کو اسکی ملکیت سے نکال کر قومی ملکیت میں لے سکتی ہے۔ ضروری ہے کہ قومیائ گئ جائیداد کا مناسب معاوضہ شہری کو دیا جائے قانون کی باقاعدہ اجازت کے بغیر کسی شہری کو اس کی جائیداد سے محروم نہیں کیا جاسکتا ۔
آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت تمام شہری قانون کی نگاہ میں یکساں ہیں پاکستان کا آئین تمام شہریوں کو مساوی سمجھتا ہے وہ کسی قسم کی تفریق یا امتیاز روا نہیں رکھتا۔ کسی فرد کو اس کے مذہب و ملت رنگ و نسل جائیداد یا کسی اور وجہ سے دوسرے سے برتر نہیں سمجھا

جا سکتا ۔
سارے شہری ملک کے سیاسی و شہری حقوق سے برابر مستفید ہوسکتے ہیں۔ معاشرے میں ذات پات کالے گورے کی تمیز کو آئین تسلیم نہیں کرتا۔ مساوات کا تصور سیاسی مذہبی معاشی اور معاشرتی غرض یہ کہ ہر پہلو میں موجود ہے۔ عورتوں اور بچوں کے لیے البتہ جداگانہ قوانین ہیں اور ان کے تحفظ کے لیے مختلف اصول ترتیب دیے گئے ہیں جیساکہ ان سے کام لینے کے
اوقات اور کام کی نوعیت بھی مختلف
ہے۔

You must be logged in to post a comment.