2020 میں دستخط کیے گئے ابراہیم معاہدے، تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے اسرائیل اور کئی عرب ممالک (متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش) کے درمیان معاہدے تھے۔ تاہم، پاکستان نے عوامی طور پر ابراہم معاہدے کو قبول کرنے یا اس میں شامل ہونے کے لیے آمادگی ظاہر نہیں کی تھی شاید عوامی ردعمل سخت اور منفی آنے کی اطلاع ہو۔اسرائیل اور ابراہیم معاہدے پر پاکستان کا موقف ہاں یا ناں کے درمیان پھنسا ہوا ہے۔یعنی قبولیت کا کوئی اشارہ باضابطہ نہیں ہے۔بظاہر تو چند سیاسی عناصر کی میل ملاقات کے بعد بھی پاکستان نے ابراہم معاہدے میں شامل ہونے یا اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے کسی ارادے کا اعلان نہیں کیا ہے لیکن ارادے اور بیانات شکوک وشبہات سے بالاتر نہیں۔جبکہ پاکستان روایتی طور پر فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کرتا ہے اور اس نے اسرائیل کو باضابطہ طور پر اب تک تسلیم نہیں کیا ہے۔جب کہ میڈیا آؤٹ لیٹس ابراہم معاہدے جیسے بین الاقوامیجیسے بین الاقوامی معاہدوں کی رپورٹنگ کرتے ہیں، لیکن اس بات کا کوئی واضح اشارہ نہیں ہے کہ پاکستان کا میڈیا ان معاہدوں کی پاکستان کی قبولیت کو فروغ دے رہا ہے جبکہ کچھ منفی اشارے سوشل میڈیا کے ذریعے ہم تک پہنچے ہیں جس کی بنیاد پر بات کی جا رہی ہے۔اگر ابراہیم معاہدے کو دیکھا جائے تو سیاق و سباق کے مطابق اس طرح کے معاہدوں نے اسرائیل اور کچھ عرب ممالک کے درمیان تعلقات میں تبدیلی کی نشاندہی کی، تجارت اور سلامتی جیسے شعبوں میں تعاون پر توجہ مرکوز کی معاہدوں کو مشرق وسطیٰ کی سفارتکاری میں ایک ترقی کے طور پر دیکھا گیا، حالانکہ ان سے اسرائیل فلسطین تنازعہ حل نہیں ہوا۔اگر ہم، ابراہم معاہدے، پاکستان کی خارجہ پالیسی، یا متعلقہ علاقائی معاملات کو جاننے کی کوشش کریں تو دین اسلام کی ہدایات کی روشنی میں اس طرح کے معاہدوں کی کوئ حیثیت نہیں، رہی بات پاکستان کی تو موجودہ فوجی قیادت کے لیے کچھ بھی نا ممکن نہیں ماضی حال مستقبل سامنے ہے اور جو کچھ ہونا ہے کچھ ہی وقت میں اظہر من الشمس ہو جائے گا۔
