عمران خان جان بوجھ کر جیل میں بیٹھا ہے

ملک میں آئے روز مسخروں کی دنیا اور ٹوٹ بٹوٹ جیسی صورت حال پیدا ہوگئی ہے

رجیم چینج کے بعد جس مخلوق کو مسلط کیا گیا اس مخلوق کا مسخرہ پن دیکھتے ہوئے مدت بیت گئ روز کوئ نا کوئ ایسا رٹا رٹایا اسکرپٹ میڈیا کے سامنے باوضو پڑھا جاتا ہے جسے سن پڑھ کر مسخروں کی دنیا یا ٹوٹ بٹوٹ جیسی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے حال ہی میں ایک لطیفہ اخبارات میں شائع کیا گیا تھا جس کے تناظر میں ہم تو صرف یہی کہہ سکتے ہیں۔
عمران خان کی گرفتاری اور نظر بندی تنازع اور بحث کا موضوع رہی ہے۔  9 مئی 2023 کو، خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے اندر سے قومی احتساب بیورو (نیب) نے القادر ٹرسٹ سے متعلق بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔¹ تاہم، سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا حکم دیا۔یہ بات قابل غور ہے کہ خان فوجی اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرتے رہے ہیں اور ان پر ان کی گرفتاری میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔اس صورتحال نے پورے پاکستان میں بڑے پیمانے پر احتجاج اور بدامنی کو جنم دیا ہے، خان کے بہت سے حامی ان کی گرفتاری کو سیاسی طور پر محرک سمجھتے ہیں۔اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ عمران خان جان بوجھ کر جیل میں بیٹھے ہیں۔درحقیقت، انہیں 12 مئی 2023 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ضمانت دی تھی، اور حراست سے رہا کر دیا گیا تھا۔

Leave a Comment