تصادم کی بازگشت!

تصادم کی بازگشت واضح ہوچکی!

وفاقی وزیر داخلہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کو ایک بار پھر عملی جامہ پہنانے کی کوششوں میں!

زبردستی ملک و قوم پر مسلط کیے جانے والے وفاقی وزیر داخلہ اقتدار میں ہوں یا نہ ہوں لیکن انہوں نے ہمیشہ ہی ایک ڈکٹیٹر کا انداز اپنا کر شہریوں کا خون پانی سمجھ کر بہایا ہے جس کی متعدد و چیدہ چیدہ مثالیں موجود بھی ہیں اور محفوظ بھی۔ بہودہ کلام الزام تراشیاں غلیظ گفتگو گھٹیا لہجہ ان کی تعلیم و تربیت کی واضح غمازی کرتا ہے۔ یہ جماعتیں بدلنے کے بھی ماہر ہیں جسے عرف خاص میں چڑھتے سورج کا پجاری اور عرف عام میں جہاں دیکھی تری وہاں ہی بچھا دی دری جیسے مشہور زمانہ ڈائلاگ سے بھی یاد رکھا جاتا ہے۔ خطے شہر اور علاقائی زبان میں بھی متعدد حیران کر دینے والے ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے جو ناقابل اشاعت ہیں۔ اس کے علاؤہ ن لیگ کے لیے خاص الخاص اوصاف حمیدہ سے مالامال یہ وزیر عوامی خون چوسنے اور سڑکوں پر بہانے کا شوقین بھی ہے۔ پاکستانیوں کی 90 فیصد عوام وفاقی وزیر داخلہ کو انتہائی نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جبکہ بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کی تعداد بھی کروڑوں میں بتائ جاتی ہے۔ آخر اس انتہائی نفرت کی وجہ کیا ہے؟

ایک وجہ تو یہ بھی ہوسکتی ہے راقم الحروف نے پنچاب کے شہریوں سے سنا ہے کہ وفاقی وزیر نے باقاعدہ غنڈے پال رکھے ہیں جو وقت آنے پر نکالے جاتے ہیں اتنے خونخوار قسم کے غنڈے جو انسان تو انسان ان کی املاک کو بھی بڑی بے رحمی سے چبا ڈالتے ہیں اور ان کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی جاتی اب سے بڑا کمال تو شاید یہی ہے کہ رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والوں کے خلاف شواہد و ثبوتوں کا انبار کھڑا ہے مگر وفاقی وزیر ان غنڈوں کو فرشتہ ثابت کر دیتے ہیں۔ حالیہ صورتحال سے بھی یہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ 27 کلومیٹر تک محدود مسلط کردہ عناصر سانحہ ماڈل ٹاؤن کو ایک بار پھر سے عملی جامہ پہنانے کی کوششوں میں ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ پر الزامات لگنا کوئ نئ بات نہیں ہے یہ جب چاہتے ہیں خود پر الزام بھی لگا لیتے ہیں اور مقدمہ قائم کر کے خود کو باعزت رہا بھی کرا لیتے ہیں۔ بہرکیف تصادم کی راہیں ہموار و واضح ہو چکی ہیں۔ واللہ اعلم باالصواب ۔

Leave a Comment