نقصان جب بھی ہوتا ہے ملک و قوم کا ہی کیوں ہوتا ہے سارے کے سارے سیاسی دکاندار ان کے رشتے دار برادری والے سب کے سب ہر طرح کے نقصانات سے محفوظ رہتے ہیں نہ تو سیلابی ریلا ان کی زمینیں برباد کرپاتا ہے اور نہ ہی کسی وبائ مرض میں اتنی ہمت ہے کہ ان کے راستے کی دیوار بنے جب بھی دیکھا ملک و قوم کو تباہی اور ان چند خاندانوں کو پھلتے پھولتے ہی دیکھا چاہیں یہ ملک میں رہیں یا ملک سے باہر قومی خزانے کے منہ بھی ان کے اور ان کے خاندانوں کے لیے پوری طرح کھلے دیکھے اور قوم کے لیے صرف عوام سے چندے کی اپیل بیرونی دنیا سے امداد اور قرض کے لیے سجدے کرنا طرہ امتیاز و باعث فخر ہے۔

