زندگی کا تحفظ

آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت ہر شہری کو زندگی اور آزادی کا پیدائشی حق حاصل ہے جسے آئین بھی تسلیم کرتا ہے اور حکومت پر زمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ شہریوں کی بہتر زندثکے لیے انتظامات کرے اس عرض سے پولیس اور دیگر دوسرے محکمے موجود ہوتے ہیں جو شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے رات دن مصروف رہتے 

ہیں۔

آئین کا آرٹیکل 24 کے تحت کسی شہری کو اس کی قانونی جائیداد سے محروم نہیں کیا جاسکتا ۔ پاکستان میں ہر شہری کو خریدنے فروخت کرنے یا اپنے پاس رکھنے کا حق ہے۔

حکومت اس حق کی پوری طرح حفاظت کرتی ہے البتہ جائیداد کا قانونی انداز میں حاصل کیا جانا ضروری ہے جائیداد کے سلسلے میں 1973 کے آئین میں درج ہے کہ اگر حکومت قومی ضرورت کے لیے چاہے وہ کسی فرد کی جائیداد کو اسکی ملکیت سے نکال کر قومی ملکیت میں لے سکتی ہے۔ ضروری ہے کہ قومیائ گئ جائیداد کا مناسب معاوضہ شہری کو دیا جائے قانون کی باقاعدہ اجازت کے بغیر کسی شہری کو اس کی جائیداد سے محروم نہیں کیا جاسکتا ۔

آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت تمام شہری قانون کی نگاہ میں یکساں ہیں پاکستان کا آئین تمام شہریوں کو مساوی سمجھتا ہے وہ کسی قسم کی تفریق یا امتیاز روا نہیں رکھتا۔ کسی فرد کو اس کے مذہب و ملت رنگ و نسل جائیداد یا کسی اور وجہ سے دوسرے سے برتر نہیں سمجھا 

جا سکتا ۔

سارے شہری ملک کے سیاسی و شہری حقوق سے برابر مستفید ہوسکتے ہیں۔ معاشرے میں ذات پات کالے گورے کی تمیز کو آئین تسلیم نہیں کرتا۔ مساوات کا تصور سیاسی مذہبی معاشی اور معاشرتی غرض یہ کہ ہر پہلو میں موجود ہے۔ عورتوں اور بچوں کے لیے البتہ جداگانہ قوانین ہیں اور ان کے تحفظ کے لیے مختلف اصول ترتیب دیے گئے ہیں جیساکہ ان سے کام لینے کے 

اوقات اور کام کی نوعیت بھی مختلف 

 ہے۔

Leave a Comment