
یونیورسل ڈیکلریشن کے آرٹیکل (1) ایک فطری و آفاقی اصول دیا گیا ہے کہ تمام انسان آزاد پیدا ہوئے ہیں اور وہ حقوق و وقار میں یکساں ہیں۔
ڈیکلریشن کے آرٹیکل (6) میں واضح کیا گیا ہے کہ ہر شخص کا حق ہے کہ قانون ہر مقام پر اسکی شخصیت کو تسلیم کرے. جبکہ آرٹیکل (7) میں کہا گیا کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور بلا تفریق و امتیاز ہر ایک کو قانون کا تحفظ حاصل ہے۔
آرٹیکل (9) کے تحت کسی شخص کو محض حاکم کی مرضی پر گرفتار نظر بند یا جلاوطن نہیں کیا جاسکتا ۔
آرٹیکل (10) میں واضح کیا گیا ہے کہ ہر شخص کو حق ہے کہ اس کے ساتھ انصاف ہو اور اس کا حق ہے کہ اس کے خلاف عائد کردہ جرم کے بارے میں مقدمے کی سماعت آزاد و غیر جانبدار عدالت کے کھلے اجلاس میں منصفانہ طریقے سے ہو۔
آرٹیکل (11) میں ہر شخص کو معصوم تصور کیا گیا ہے جب تک کہ اس پر عائد الزام کی کھلی و جانبدار عدالت میں ثابت نہ ہو جائے اور اسے اپنے دفاع کا پورا موقع دیا گیا ہو۔
آرٹیکل (5) کے تحت کسی شخص کو جسمانی اذیت یا ظالمانہ غیر انسانی یا ذلت آمیز سلوک یا غیر قانونی سزا نہیں دی جاسکتی ۔
جس ملک میں خاندانی آمریت و ملوکیت قابض ہو چکی ہو تو یہ سب کاغذی اور بناوٹی باتیں تصور کی جائیں گی۔ جہاں چند خاندانی ڈکٹیٹر اپنے خاندان کے تحفظ کے لیے ملک و قوم کو برباد کرسکتا ہو اسے کسی قاعدے قانون آئین آرٹیکلز کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔

