Mafias

عرض پاک پر بڑی بے دردی بے رحمی اور بے باکی سے شب خون مارا گیا اور ایسے جرائم پیشہ عناصر کو مسلط کیا گیا جو سنگین جرائم میں ملوث تھے اس کا بھیانک نتیجہ یہ نکلا کہ سیاسی بحران معاشی بحران کے ساتھ ساتھ متعدد ایسے بحران جن کا خاتمہ تقریباً ہو چکا تھا ایک بار پھر سر اٹھا کر عوام کو ڈسنے لگے۔ نااہلی یہ کہ نہ تو منہگائی پر قابو پایا جاسکا اور نہ ہی ڈالر قابو میں آ سکا پیٹرولیم مصنوعات کی تو بات ہی نہ کریں وہ تو مفتاح اسمعیل کے بس میں تو کیا ان کے بڑے بھی آجائیں تو ہاتھ ملنے کے سواء کچھ نہیں کرسکتے ۔ رجیم چینج سے پہلے بڑی بڑی باتیں کرنے والے اتنے ڈھیٹ ہیں کہ آج انہیں معمولی سی شرم بھی محسوس نہیں ہو رہی بالخصوص وہ افراد جو مہنگائی کے خلاف لانگ مارچ کر رہے تھے آج ان کے منہ سے الزامات کے سواء ایک لفظ نہیں نکل رہا یعنی منافقت کی زندہ مثالیں آج بھی نہ جانے کس منہ سے آل اولاد سمیت سامنے ہیں اور اس پاک دھرتی کی چھاتی ہر مونگ دل رہی ہیں۔

شہر قائد کے ساتھ ظالمانہ سلوک کسی سے ڈھکا چھپا نہیں یہاں ہمیشہ سے ہی سیاسی چھتری تلے مافیاز کی اجارہ داری رہی ہے جسے شہر قائد میں بسنے والے مجبوراً برداشت کرتے آئے ہیں۔

تحفظ کی بات کی جائے تو انتظامیہ کی پول کھلتی ہے اگر بنیادی ضروریات کی بات کی جائے جس کی مد میں مٹھی بھر بھر کر رقمیں ادا کی جاتی ہیں تو وہاں بھی ظلم  و جبر لوٹ مار کے سوا کچھ دیکھائی نہیں دیتا۔

پانی اور بجلی کی فراہمی کی مد میں اتنا ٹیکس وصول کیا جاتا ہے اتنا پورے ملک سے اکھٹا نہیں ہوتا رشوت اور کرپشن اس کے علاؤہ ہے۔

کراچی واٹر بورڈ ہر ماہ پابندی سے اضافی واجبات وصول کرنے میں پیش پیش ہے لیکن پانی کہاں فروخت کیا جارہا ہے یہ صارفین نہیں جانتے لیکن واجبات ادا کرنے والے پانی سے محروم کر دیے گئے ہیں۔

بجلی فراہم کرنے والی کے۔الیکٹرک جس نے کرپشن لوٹ مار چھینا جھپٹی بھتہ خوری میں سیاستدانوں کے ریکارڈ توڑ ڈالے اب تک ریاست کے اندر ریاست بنا کر بادشاہت کر رہی ہے۔

رجیم چینج کے بعد کے۔الیکٹرک کا اس قدر من مانی کرنا ظاہر کرتا ہے کہ کسی خاص مشن پر عمل پیرا ہے۔

شہر قائد میں بسنے والے حیران ہیں کہ کے۔الیکٹرک کو ختم کر کے اس کی ٹاپ منجمنٹ کو گرفتار کیوں نہ کیا گیا؟ ان پر اتنے سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے باوجود غداری کے مقدمات کیوں نہ بنائے گئے ؟

ذرا سی تحقیقات سے معلوم ہو جائے گا کہ رجیم چینج کے بعد مال و زر ادھر سے ادھر منتقل ہوا ہے۔ اگر شہر قائد کو بچانا ہے تو کے۔الیکٹرک جیسی مافیا کو جڑ سے ختم کرنا ہوگا